اپریل 23, 2024

امریکہ، فرانس اور دیگر ملکوں کے شہری اسرائیلی فوج کی وردیاں پہن کر جنگ میں شریک ہیں۔ حماس

سیاسیات-فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے  رہنما صالح العاروری نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، فرانس اور دیگر ملکوں کے شہری اسرائیلی فوج کی وردیاں پہن کر جنگ میں شریک ہیں۔

عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے حماس کے رہنما صالح العاروری نے کہا کہ جنگجوؤں کو صرف فوجی اہداف اور فوجیوں سے نمٹنے کا ہدف دیا گیا تھا،حملے کے دوران غزہ کے عام شہری بھی مسلح یہودی آباد کاروں پر ٹوٹ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجی قیادت اور اہلکاروں نے اپنے شہریوں کو بچانے کیلئےکوئی مداخلت نہیں کی۔

صالح العاروری کا کہنا تھا کہ حماس اسرائیلی شہریوں اور یرغمالیوں کے ساتھ عالمی قوانین کے مطابق کارروائی کا پابند ہے، ہم امریکہ اور فرانس سمیت ایسے تمام ممالک سے کوئی امید نہیں رکھ رہے۔

حماس رہنما صالح العاروی نے انکشاف کیا کہ امریکہ،فرانس اور دیگر ملکوں کے شہری اسرائیلی فوج کی وردیاں پہن کر جنگ میں شریک ہیں جبکہ یرغمال بنائے گئے بہت سے اسرائیلی فوجی امریکی اور فرانسیسی شہری نکلے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین تمام مذاہب اور نسلوں کی سرزمین سمجھی جاتی ہے، فلسطین میں تمام مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے ایک ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے، خطہ فلسطین صدیوں تک مذہبی جنگوں سے پاک رہا، مذہبی شدت پسندی کی داغ بیل مغرب نے ڈالی۔

حماس رہنما نے مزید کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانا حماس تحریک کے بنیادی اصولوں کا حصہ ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں اب تک صرف شہری علاقوں پر بمباری کی ہے، حماس کے عسکری اہداف اسرائیل کے بمباری سے محفوظ ہیں۔

واضح رہے کہ غزہ پراسرائیلی بر بریت چھٹے روز بھی جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 1400 سے تجاوز کر گئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار 417 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 6 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں شہید افراد کی نصف تعداد بچوں اور خواتین پر مشتمل ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

five × 4 =