اپریل 20, 2024

افغان شیعہ علماء کونسل کا طالبان سے محرم کی مجالس پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

سیاسیات- افغان شیعہ علماء کونسل کے ایک غیر معمولی اجلاس میں شیعہ رہنماؤں اور شخصیات نے طالبان سے محرم کی مجلسوں پر عائد تمام پابندیاں منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

افغانستان کی شیعہ علماء کونسل نے ایک بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علم کی تنصیب اور ماہ محرم سے متعلق مراسم کے انعقاد کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

افغانستان کی شیعہ علماء کونسل نے یہ بیان ایک غیر معمولی اجلاس کے بعد جاری کیا۔

یہ اجلاس کابل میں درجنوں مذہبی اسکالرز کی موجودگی میں منعقد ہوا اور افغان شیعہ رہنماؤں نے طالبان کی جانب سے محرم کی تقریب پر عائد تمام پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ اجلاس 22 جولائی بروز ہفتہ کو افغان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ اور اراکین، امامیہ علماء کی سپریم کونسل کے سربراہ، مجلس ائمہ اور کابل شہر کے تمام علاقوں کی مساجد اور امام بارگاہوں کے ذمہ داروں کی موجودگی میں منعقد ہوا جس میں طالبان سے مطالبہ گیا کہ وہ پابندیاں ہٹاتے ہوئے ان مذہبی مراسم میں شرکت کریں۔

اجلاس میں متعدد علمائے کرام نے حسینی عزاداروں کے ساتھ طالبان کی سیکورٹی فورسز کے پرتشدد سلوک اور کابل کے بعض علاقوں سے امام حسین ع سے متعلق علم اور پرچم کو گرائے جانے کو گہرے افسوس کا باعث قرار دیا۔

اجلاس کے اعلامیے میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ “عزاداروں کی خواہشات کے مطابق، تمام شیعہ علمائے کرام امارت اسلامیہ سے کہتے ہیں کہ وہ محرم کے ماتمی مراسم  کے انعقاد پر پابندیاں ہٹائیں اور کہیں بھی امام حسین کے نام پر سوگ کی علامت کے طور پر لہرائے جانے والے ماتمی پرچموں کو نصب کرنے سے نہ روکیں۔

اس اجلاس میں وہ دستخطی پٹیشنز بھی دکھائی گئیں جن پر گذشتہ دنوں کابل اور دیگر شہروں کی مختلف مساجد میں پابندیوں کے خاتمے کے لیے دستخط کیے گئے تھے۔ ان درخواستوں میں ملک بھر کے شہریوں اور ماہ محرم کے عزاداروں نے طالبان کے سیکیورٹی حکام سے کہا کہ وہ سیکیورٹی فراہم کریں اور محرم اور عاشورہ کی مجلسوں پر پابندیاں ختم کریں۔

اس سلسلے میں افغان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ آیت اللہ صالحی مدرس نے کہا کہ کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں میں محرم اور عاشورہ کے حوالے سے حالیہ پابندیوں کی وجہ سے انہوں نے اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس قرارداد کو طالبان حکام تک پہنچایا جائے  تاکہ اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ محرم کی مجلسوں پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور مذہبی پرچم اور علم کی تنصیب کو نہ روکا جائے۔

دوسری جانب افغانستان کی شیعہ علما کونسل کے نائب سید حسین عالمی بلخی نے گذشتہ سال محرم کے مہینے میں سیکیورٹی فراہم کرنے پر طالبان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ لوگ موجودہ حکمرانوں سے سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی توقع رکھتے ہیں، اور وہ امید کرتے ہیں کہ موجودہ حکام محرم کے عزاداروں میں شامل ہوں گے اور مراسم میں شرکت کریں گے۔ گذشتہ ہفتے، افغانستان میں محرم کے موقع پر طالبان کے قائم مقام وزیر اعظم مولوی عبدالکبیر نے طالبان حکومت کے ساتھ شیعوں کے “قریبی تعاون” پر زور دیا تھا۔

طالبان وزراء کے دفتر نے قائم مقام وزیر اعظم کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا اور بتایا کہ عبدالکبیر نے افغانستان کے مختلف صوبوں کے متعدد شیعہ علماء اور بااثر افراد سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ شیعہ افغانستان کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کے حقوق شریعت کی روشنی میں دیئے گئے ہیں۔

اس طالبانی عہدیدار نے اس سلسلے میں کہا کہ شیعہ دوسرے افغانوں کی طرح ملک کا ایک اہم حصہ ہیں، اور شریعت کی روشنی میں سب کو مساوی اور منصفانہ حقوق دیے جاتے ہیں۔

طالبان کابینہ کے سربراہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں طالبان انتظامیہ کے ساتھ “مزید تعاون کے طریقوں” پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

قبل ازیں سمنگان میں طالبان کی عبوری حکومت کے گورنر مولوی عبدالرحمن قندوزی نے اس صوبے کے شیعہ عمائدین کے ساتھ ایک دوستانہ ملاقات میں کہا: “قوم اور حکومت کے درمیان تعلقات اور ہم آہنگی ضروری ہے اور عوام کو اپنے اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنا چاہیے۔

سمنگان میں طالبان کے گورنر نے اس حوالے سے کہا کہ ’’طالبان کی حکومت تمام افغانوں کا مشترکہ گھر ہے‘‘ اور اس حکومت کے لیے نسل، قوم اور مذہب کوئی فرق نہیں رکھتے بلکہ ہم سب افغان اور بھائی ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

nine + twenty =