اپریل 21, 2024

اسرائیل کی غزہ میں عمارت پر بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

سیاسیات- غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود بدستور جاری ہے اور ہفتہ کو ایک عمارت پر بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید ہو گئے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق غزہ کے سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسل نے کہا کہ 12 ہفتوں سے جاری بمباری میں ہفتے کو کیا گیا حملہ خطرناک ترین حملوں میں سے ایک تھا جس میں ایک عمارت پر بمباری کی گئی۔

انہوں نے اس حملے میں شہید ہونے والوں کے نام بھی دیے جن میں المُغرب خاندان کے 16 سربراہان کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

مرنے والوں میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے پرانے ملازم ایسام المُغرب کے ساتھ ساتھ ان کے پانچ بچے اور بیوی بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی ترقیاتی ایجنسی کے سربراہ ایسام اور ان کے خاندان کی موت سے ہمیں گہرہ صدمہ پہنچا ہے، اس جنگ میں اقوام متحدہ اور شہریوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے اور اس جنگ کا ہر حال میں ختم ہونا چاہیے۔

اسرائیل کی جانب سے یہ بمباری ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ایک دن قبل ہی اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ میں اب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے امدادی اشیا کی تقسیم میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کی کارروائی میں 1200 افراد کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے غزہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں شدید بمباری اور زمینی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

اب تک اسرائیل کے حملوں میں 20 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 53 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاپتا ہیں جو حملوں میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔غزہ میں بڑی تعداد میں عمارتیں زمین بوس ہو کر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں— فوٹو: رائٹرز

اسرائیل نے شہری ہلاکتوں کا ذمے دار حماس کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے لوگ عام شہریوں کے درمیان چھپ اور غزہ میں موجود سرنگوں سے کارروائیاں کررہے ہیں۔

اسرائیل کی زمینی اور فضائی کارروائی حالیہ تاریخ کی بدترین کارروائی ہے جس میں غزہ کی 23 لاکھ آبادی میں سے 85فیصد نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے اور بڑی تعداد میں عمارتیں زمین بوس ہو کر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔

غزہ کی آدھی سے زیادہ آبادی اس وقت شدید بھوک اور افلاس سے دوچار ہے اور اسرائیلی بمباری کی وجہ سے امدادی اشیا کی ترسیل میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں جس سے ایک بڑی آبادی قحط کا شکار ہو سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

4 × 2 =