جون 22, 2024

سابق چینی وزیر خارجہ کو امریکی صحافی کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات کے باعث سبکدوش کیا گیا

سیاسیات- چین کے صدر کے معتمد خاص اور وزیر خارجہ چن گینگ کی چند ماہ قبل عہدے سے برطرفی کی حیران کن وجوہات سامنے آئی ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ چین میں مالی بے ضابطگی اور اخلاقی پستی کی سزا سخت سے سخت دی جاتی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ چین میں حکمراں جماعت کی تنظیمی انکوائری میں سابق وزیر خارجہ 56 سالہ چن گینگ پر امریکہ میں 40 سالہ صحافی خاتون کیساتھ غیر ازدواجی تعلقات کا انکشاف ہوا تھا۔

چین کے سابق وزیر خارجہ کے معاشقے کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ امریکہ میں چین کے سفیر کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔ گینگ جولائی 2021 سے جنوری 2023 تک امریکہ میں تعینات رہے۔

اس کے بعد وزیر خارجہ بنائے گئے تھے لیکن 7 ماہ بعد ہی پُراسرار طور پر انھیں عہدے سے سبکدوش کردیا گیا تھا۔ جس کی نہ تو وجہ بتائی گئی اور نہ ہی وہ خود منظرعام پر آئے۔

چین کی وزارت خارجہ نے اپنے وزیر کی ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک عدم دستیابی کی وجہ ان کی گرتی ہوئی صحت کو قرار دیا تھا تاہم بعد ان کی برطرفی کی تصدیق کی تھی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق چین کی حکمراں جماعت کے ایک اہم اجلاس میں وزرا اور رہنماؤں کو وزیر خارجہ کی برطرفی سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ وہ طرز ندگی کے مسائل کا شکار تھے۔

یاد رہے کہ طرز اندگی کے مسائل حکمراں جماعت میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب جنسی بدسلوکی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انھیں دو افراد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابق وزیر خارجہ چن گینگ امریکہ میں ایک غیر ازدواجی تعلقات میں ملوث تھے اور اس تعلق سے ان کا ایک بچہ بھی ہے۔

سابق چینی وزیر خارجہ کی امریکہ میں گرل فرینڈ اور ان کے بچے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئی تاہم ذرائع نے تصدیق کی کہ تحقیقات جاری ہیں کہ یہ عمل قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

دوسری جانب مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ چین کے سابق وزیر خارجہ چن گینگ کیمبرج سے تعلیم یافتہ صحافی کے عشق میں مبتلا ہوگئے تھے جو مبینہ طور پر امریکہ کی ڈبل ایجنٹ تھیں اور خاتون کا تائیوان اور ہانگ کانگ سے بھی تعلق تھا۔

واضح رہے کہ چین کے سابق وزیر خارجہ ریاستی کونسل کے پانچ اراکین میں شامل تھے جنہیں “غیر معمولی” وزیر سمجھا جاتا تھا اور وہ چینی صدر کے نہایت قریب بھی تھے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1 × two =