جون 23, 2024

اگلے سال کے شروع تک سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات بحال ہو جائیں گے۔ اسرائیل کا دعوی

سیاسیات- ذرائع کے مطابق اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے وزیر خارجہ ایلی کوہن نے دعوی کیا ہے کہ اگلے سال کے شروع تک سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ تعلقات برقرار ہو جائیں گے۔ ایلی کوہن نے ریڈیو اسرائیل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: “اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت سعودی عرب اور ہمارے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ہم ان پر غلبہ پا کر دھیرے دھیرے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لہذا ہمیں یقین ہے کہ 2024ء کے آغاز تک یہ اختلافات حل ہو جائیں گے اور ہمارے درمیان دوستانہ تعلقات استوار ہو جائیں گے۔” اسرائیلی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی برقراری کو ابراہیم معاہدوں سے بھی زیادہ اہم اور بڑا واقعہ قرار دیا۔ یاد رہے 2020ء میں اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے معاہدے انجام دیے تھے جو ابراہیم معاہدوں کے نام سے معروف ہیں۔ اسرائیلی حکام نے ان معاہدوں کو “عظیم اور تاریخی قدم” قرار دیا تھا۔

صیہونی وزیر خارجہ الی کوہن نے سعودی عرب کی جانب سے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی انجام پانے کی شرط سے متعلق صیہونی رژیم کے سکیورٹی حلقوں میں پائے جانے والے تحفظات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: “اس بارے میں جلدبازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ اس معاہدے کی کچھ ایسی تفصیلات ہیں جن کی بدولت اسرائیل کی قومی سلامتی ہر گز خطرے سے روبرو نہیں ہو گا۔ ہماری پہلی ترجیح سکیورٹی کے ہمراہ امن ہے۔” اس بارے میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے بقول اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکمران انتہائی خاموشی سے بائیڈن حکومت سے امریکہ کے زیر نگرانی سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ ریاض اور تل ابیب میں سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے انجام پانے والے تین طرفہ پیچیدہ معاہدے کا حصہ ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مربوطہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے پرامن جوہری ٹیکنالوجی سے لیس ہونے کے تمام پہلووں اور اسرائیل کی قومی سلامتی پر اس کے اثرات کا بغور جائزہ لیں۔

صیہونی رژیم کے چینل 12 نے اس بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے سکیورٹی حلقے سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے نیتن یاہو اور جو بائیڈن کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں کیونکہ انہیں ان کی تفصیلات سے لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی سے متعلق مذاکرات رک جانے کی تردید کی ہے۔ اسرائیلی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی بار اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کیلئے خاص طور پر فلسطینیوں کے مسئلے میں بڑی مراعات کا اعلان کرے۔ صیہونی حکمرانوں میں سعودی عرب کے پاس جوہری ٹیکنالوجی موجود ہونے کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار فائننشیل ٹائمز کے مطابق اسرائیل کے سکیورٹی حکام اور اپوزیشن رہنما اس کے شدید مخالف ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

fifteen − 6 =