جون 22, 2024

اسرائیل کی انوکھی منطق، فلسطینیوں کے قتل عام کا ذمہ دار حماس کو قرار دے دیا

سیاسیات-اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف میں انوکھی منطق اختیار کرتے ہوئے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کا ذمہ دار فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو قرار دے دیا۔

جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کرکے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں کیس دائر کیا ہوا ہے۔

نیدر لینڈز کے شہر دی ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کے مقدمےکی آج دوسرے روز بھی سماعت ہوئی جس میں اسرائیل نے اپنے دفاع میں دلائل دیے۔

اسرائیل نےمقدمے میں اپنے دفاع میں دلائل دیتے ہوئے  غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کا ذمہ دار حماس کو قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل نے اپنا حق دفاع استعمال کیا، حماس اسپتالوں اور دیگر شہری مقامات کو استعمال کر رہا ہے، فلسطینیوں کے خلاف کاروائیاں عالمی قوانین کے مطابق ہیں۔

اسرائیل نے اپنے دلائل  میں کہا کہ غزہ میں نسل کشی نہیں کی جارہی، جنوبی افریقہ مکمل کہانی نہیں سنا رہا، اسرائیل حماس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

غیر ملکی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی افریقہ کی درخواست رد کرنے کے مطالبے کے ساتھ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار پر بھی سوال اٹھا دیے ۔

دوسری جانب عالمی عدالت انصاف کے باہر فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج ہوا، مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا اور فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے بھی لگائے  گئے۔

واضح رہے کہ گزشہ روز جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے دوران دلائل میں کہا گیا  تھا کہ غزہ میں 3 مہینے میں 23 ہزار فلسطینی شہری قتل کیےگئے ہیں جس میں 70 فیصد بچے اور خواتین ہیں، نوزائیدہ بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔

جنوبی افریقہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے، جن علاقوں کو اسرائیل نے خود محفوظ قرار دیا وہاں بم مارے گئے، اسپتالوں پر بمباری کی گئی۔

دلائل میں کہا گیا کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد روک کر قحط کی صورتجال پیدا کردی ہے، 93 فیصد آبادی کو بھوک کا سامنا ہے، اب اسرائیل کی فضائی بمباری سے بھی زیادہ غزہ میں فلسطینیوں کے بھوک سے مرنےکا خدشہ ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

3 × one =