اپریل 21, 2024

مقاومتی بلاک نہ صرف مشرق وسطی بلکہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی ایرانی صدر سے ملاقات

سیاسیات- حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے صہیونیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مقاومتی تنظیموں کے درمیان تعاون اور باہمی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ اور غرب اردن کے علاوہ بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں۔

منگل کی سہ پہر فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس کے اعلی سطحی وفد نے اسماعیل ہنیہ کی سربراہی میں ایرانی صدر ابراہیم رئسی سے ملاقات کی۔

اس موقع پر صدر رئیسی نے کہا کہ آج فلسطین میں مقاومتی تنظیموں کی بالادستی ہے جوکہ اس بات کی دلیل ہے کہ مقاومت ہر دور سے زیادہ آج طاقتور اور دشمن بہت کمزور ہوچکا ہے۔ حالیہ ایام میں حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خطے میں سب سے طاقتور ہونے کا اسرائیلی دعوی بے بنیاد ہے۔

انہوں نے فلسطینی تنظیموں کے درمیان اتحاد اور ہماہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقاومتی تنظیمیں اس عطیہ الہی کی حفاظت اور پیشرفت کے لئے مزید کوشش کریں۔ مقاومتی بلاک نہ صرف مشرق وسطی بلکہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج فلسطین میں اندرونی اور بیرونی طور پر سیاسی وحدت اور اتحاد پایا جاتا ہے۔ جو لوگ خطے کے مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات اور دشمن کے سامنے جھکنے پر آمادہ تھے وہ بھی باور کرچکے ہیں کہ مذاکرات اور دشمن کے سامنے عقب نشینی بے فائدہ ہے۔ اس کے بجائے مقاومت ہی کامیابی کا واحد راہ حل ہے۔

صدر رئیسی نے اسرائیل کی تنہائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں کوئی بھی صہیونی حکومت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے جوکہ مقاومت کی بڑی کامیابی ہے۔ ایران اور مقاومتی بلاک پہلے سے ہی اب بات پر یقین رکھتے تھے کہ صہیونی دشمن کسی وعدے اور معاہدے کے پابند نہیں ہوتے  ہیں آج پوری دنیا نے اس کا عملی ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

انہوں نے بیت المقدس کے مسئلے کو امت مسلمہ کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنا فلسطین اور بیت المقدس کے ستھ خیانت اور فلسطینیوں کی پشت میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ صہیونی حکومت کے حامی جو مسلمان ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم کرنے کی کوشش میں ہیں، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس سے صہیونی حکومت کے لئے امن سکون نصیب نہیں ہوگا بلکہ ان کوششوں کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے حامی کے بارے میں اسلامی ممالک میں صرف نفرت ہی بڑھے گی۔

اس موقع پر اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ حماس اور فلسطینی عوام ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ہمیشہ اور ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا۔ آج غزہ کے علاوہ مغربی کنارے میں مقاومتی بلاک کی شہرت اور محبوبیت میں اضافہ ہورہا ہے۔
ہنیہ نے کہا کہ مقاومتی تنظیمیں سب سے زیادہ طاقتور ہوئی ہیں۔ جہادی تنظیموں کے درمیان انتہائی درجے کا اتحاد اور ہماہنگی ان گروہوں کی بڑی کامیابی ہے جس ایک نمونہ حال ہی میں صہیونی حکومت کے ساتھ ہونے والی جنگ میں نظر آیا تھا۔ اس جنگ میں ہم نے مقاومتی تنظیموں کے مشترکہ آپریشن روم کا مشاہدہ کیا۔ تمام تنظیموں نے صہیونی حکومت کے ساتھ صف اول میں نبردآزما گروہوں کے ساتھ کھل کر تعاون کیا۔ ہم نے اس سلسلے میں تحریک جہاد اسلامی اور حزب اللہ لبنان سے بھی مسلسل رابطہ کیا ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

11 − four =