اپریل 7, 2024

علی رضا اکبری اہم برطانوی ایجنٹ تھا۔ ایرانی وزارت انٹیلیجینس

سیاسیات-ایرانی وزارت اینٹلی جنس کے مطابق مذکورہ جاسوس کو تہران میں برطانوی سفارت خانے سے ویزا حاصل کرنے کے عمل کے دوران وہاں تعینات انٹیلی جنس ایجنٹوں نے ٹارگیٹ کیا اور اس کا انٹرویو کیا۔

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے سابق ایرانی ڈپٹی وزیر دفاع علی رضا اکبری کی گرفتاری کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اکبری برطانوی انٹیلی جنس سروس کے اہم ترین ایجنٹوں میں سے ایک تھا جس نے ملک کے بارے میں اہم معلومات اکٹھی کیں اور انہیں مکمل طور پر آگاہی کے ساتھ اور ہدف کے تحت برطانیہ کو فراہم کیا۔

مذکورہ جاسوس اور اس کی گرفتاری کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایرانی وزارت اینٹلی جنس کے بیان میں کہا گیا کہ امام زمان (ع) کے گمنام سپاہیوں نے ملک کے حساس اور سٹریٹجک مراکز میں برطانوی جاسوسی کی دراندازی کے سب سے اہم عنصر کا سراغ لگایا اور کاؤنٹر انٹیلی جنس، تکنیکی اور اینٹلی جنس جال ڈالنے کے شعبوں میں طویل اور کثیرالجہتی عمل سے گزرنے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ علی رضا اکبری نامی اس جاسوس کی ملک کے بعض حساس اداروں تک رسائی تھی اور  اس نے انہی حدود میں دشمن کے جاسوسی ادارے کو مکمل آگاہی کے ساتھ اور کئی بار معلومات فراہم کی تھیں۔

بیان میں مذکورہ اہلکار کے برطانوی خفیہ تنظیم کے جال میں پھنسنے کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ایرانی وزارت اینٹلی جنس کے مطابق مذکورہ جاسوس کو تہران میں برطانوی سفارت خانے سے ویزا حاصل کرنے کے عمل کے دوران وہاں تعینات انٹیلی جنس ایجنٹوں نے ٹارگیٹ کیا اور اس کا انٹرویو کیا۔ پھر یورپ کے اپنے نجی دوروں کے دوران وہ برطانوی جاسوس ایجنسی کا کل وقتی ملازم بن گیا۔

اپنے عہدے اور رسائی کی اہمیت کی وجہ سے علیرضا اکبری ایس آئی ایس کے لیے ایک اہم جاسوس بن گیا، جسے بیک وقت ایران ڈیسک کے کئی اہم افسران کے ذریعے ڈی بریفنگ کیا جاتا اور ہدایات دی جاتی تھیں۔

مذکورہ جاسوسی کی سراغ رسانی اور گرفتاری کے حوالے سے بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت انٹیلی جنس کے انسداد جاسوسی افسران نے مذکورہ جاسوسی تعلقات کا پتہ لگانے کے بعد متعلقہ افراد اور اہداف کی معلومات جمع کیں اور ضروریات کی فہرست تیار کی۔ ساتھ ہی رابطے کی نوعیت اور حریف ایجنسی کے مواصلاتی اور رابطے کے آلات کے بارے میں معلومات کو مکمل کیا۔ پھر ایک موقع پر وہ ایس آئی ایس اور مذکورہ جاسوس کے درمیان قائم کمیونیکیشن سرکٹ میں داخل ہوئے اور مذکورہ سرکٹ میں ڈائریکٹ شدہ معلومات کو انجیکٹ کرنا شروع کردیا۔ آخرکار مناسب وقت پر اور عدالتی حکم کے ساتھ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور عدالتی کاروائی سے گزرنے کے بعد اس کی سزا سنائی گئی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلامی ایران کے گمنام جانباز واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ اگرچہ خبیث برطانوی دشمن اس شخص کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اسے بھرتی کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، تاہم وہ یقینی طور پر نہیں جانتا کہ موصول ہونے والی معلومات کا کون سا حصہ ڈائریکٹ شدہ معلومات اور اس کے فریب دینے کے لئے تھا۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ اسلامی ایران کے گمنام مجاہدین اس بات کا پختہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر توکل اور اہل بیت علیہم السلام سے توسل کرتے ہوئے ہر سطح پر دشمن کے جاسوسوں اور دراندازی کرنے والے عناصر کو ڈھونڈھ نکال لیا جائے گا اور بغیر کسی تحمل و رواداری اور تامل کے ان کے ساتھ قانونی کے مطابق نمٹا جائے گا۔ ان گمنام مجاہدین نے اپنی مجاہدانہ اور شب و روز کی محنتوں اور جد و جہد میں اس مشن کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا ہوا ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

4 × 2 =