جون 2, 2024

برطانوی جاسوس علی رضا اکبری پھانسی کے پھندے تک کیسے پہنچا

سیاسیات- ١١ جنوری کو ایرانی عدلیہ کے میڈیا کی جانب سے اعلان کیا  گیا کہ علی رضا اکبری جسے کچھ عرصہ قبل ملک کے خلاف جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، کو الزام ثابت ہونے پر  سزائے موت سنائی گئی ہے۔

وزارت انٹیلیجنس کے اعلامیہ کے مطابق اکبری برطانوی جاسوسی سروس کے اہم ترین ایجنٹوں میں سے ایک تھا جو ملک کی اہم معلومات اکٹھا کرتا تھا اور اس سروس کو مکمل آگاہی کے ساتھ اور ٹارگٹ طریقے سے فراہم کرتا تھا۔

ایرانی خفیہ اداروں نے اکبری  کو ملک کے حساس اور سٹریٹجک مراکز میں برطانیہ کی جاسوسی سروس کے سب سے زیادہ دراندازی کرنے والے ایجنٹوں میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا اور بتایا کہ اس کی شناخت ایک طویل اور کثیرالجہتی عمل کے بعد ہوئی تھی جس میں “کاؤنٹر انٹیلی جنس” اور “فریبی کارروائی” شامل تھی۔

مذکورہ جاسوس کو تہران میں برطانوی سفارت خانے سے ویزا حاصل کرنے کے عمل کے دوران وہاں تعینات انٹیلی جنس افسروں نے ٹارگیٹ کیا اور اس کا انٹرویو کیا۔ پھر یورپ کے اپنے نجی دوروں کے دوران وہ برطانوی جاسوس ایجنسی کا کل وقتی ملازم بن گیا۔

اکبری کو ایران ڈیسک کے کئی اہم افسران ڈی بریفنگ اور گائڈنگ کرتے

علی رضا اکبری اپنے اہم عہدے اور مختلف حساس اداروں میں رسائی کی وجہ سے  SIS سروس کے لیے ایک اہم جاسوس بن گیا، جسے بیک وقت ایران ڈیسک کے کئی اہم افسران کے ذریعے ڈی بریفنگ کیا جاتا اور ہدایات دی جاتی تھیں ۔ یہاں سے  برطانوی جاسوسی سروس کےساتھ مجرم کے اہم روابط اس کی مختلف حساس اداروں میں رسائی، اس کیس کے ہائی پروفائل ہونے کی اہمیت اور دشمن کے اس پر اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔

جاسوسی کی تربیت، اینٹی سٹاکنگ ٹریننگ (ملاقاتوں میں مجرم کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے)، انسداد تفتیش کی تربیت، انٹیلی جنس کوریج، معلومات اکٹھا کرنے کی تربیت، (رسائی کے حامل لوگوں سے معلومات جمع کرنے میں مجرم کی کامیابی کو بڑھانے کے لئے)، ایران کے سیکورٹی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکے کے لیے بیرون ملک ایک کور کمپنی کا قیام،رابطے اور مواصلات کے خصوصی آلات فراہم کرنا، انٹرفیس عنصر کا استعمال، ملک سے فرار ہونے کے بعد مجرم کی مدد کرنا، دیگر جاسوسی اداروں کے ساتھ تبادلہ اور مجرم کو اکسانے اور ملک کے ساتھ مزید غداری پر قائل کرنے کے لیے بھاری مالی اخراجات برداشت کرنا، تیسرے ممالک کا استعمال، متعدد انٹیلی جنس افسران کی خدمات فراہم کرنا، مجرم کو خصوصی طور پر برطانوی شہریت فراہم کرنا، مجرم کو دوبارہ ملک کے اندر بھیجنا اس معاملے میں برطانوی انٹیلی جنس سروس”MI6″ کی کارروائیوں میں شامل ہیں جو کہ اس معاملے کی انتہائی اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ملک چھوڑنے اور برطانیہ رہائش اختیار کرنے  کے بعد اکبری نے لندن کے مطالعاتی اداروں کے ساتھ تعاون شروع کیا اور سابقہ ادوار میں اہم عہدوں پر فائز ہونے اور حساس معلومات تک رسائی کی وجہ سے ایران میں آکر معلومات اکٹھی کیں اور ان اداروں کو معلومات فراہم کیں جو برطانوی انٹیلی جنس سروس   افسران کے زیر انتظام تھے۔

برطانوی جاسوس سروس کے لیے جاسوسی کے دو مراحل

مجرم کی کارروائیوں اور برطانوی جاسوس سروس کے ساتھ روابط کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلا مرحلہ  2005سے 2010 تک اور دوسرا اس کے ملک سے فرار ہو کر دوبارہ  واپس آنے تک ہے۔

علی رضا اکبری  2003میں ریٹائر ہوا اور بظاہر نجی شعبے میں تحقیقی اور تجارتی سرگرمیوں کا آغا کیا اور انہی ایام میں برطانوی خفیہ انٹیلی جنس سروس نے اس کو ٹارگٹ کرنے کے بعد اپنے لئے  بھرتی  کرنے کا عمل ایک ایرانی رابطہ کار کے ذریعے شروع کیا جس کا ماضی سے اکبری سے تعلق تھا۔

اکبری کو ایران میں MI6 رابطہ  کارکے ذریعے برطانوی انٹیلی جنس سروس میں کیسے بھرتی کیا گیا؟

علی رضا اکبری کا برطانوی جاسوس سروس سے تعلق کاروباری روابط اور پھر تحقیق کے بہانے قائم ہوا۔ ان رابطوں میں ایک اور ایرانی شخص بھی انٹیلی جنس سروس کے  کارندے کے طور پر موجود تھا۔ اسی وقت  اکبری نے آسٹرلیا کا سفر کیا اور  MI6 انٹیلی جنس افسر سے پہلی ملاقات کی جس کا فرضی نام “مارک” تھا۔ کیس فائل کے مندرجات کے مطابق  برطانوی انٹیلی جنس سروس نے جاسوسی کے جدید طریقے استعمال کرکے جاسوسی کی بنیاد فراہم کی اور مجرم کی حساس انتظامی عہدوں  پر ملازمت کی وجہ سے اس نے دانستہ اور جانتے بوجھ کر برطانیہ میں کاروباری ویزا حاصل کرنے کے بہانے برطانوی سفارت خانے کے ایجنٹوں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا اور برطانوی ایجنٹ کے ساتھ مختلف ملاقاتیں اور گفتگو  کی  اور اسی بہانے برطانوی جاسوسی اداروں سے روابط جاری رکھے  اور دشمن کو درکار خبریں اور خفیہ معلومات فراہم کیں۔

ایران اور برطانیہ  کے درمیان پیش آنے والے ایک معاملے کے بعد اکبری نے برطانوی خفیہ ایجنسی کو کچھ ایسی معلومات فراہم کیں کہ ایران اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گا اور اس معاملے میں  اصل ذمہ دار کون ہے۔ ایک موقع پر اکبری نے تہران میں برطانوی انٹیلی جنس افسر سے کہا کہ میری اگلی تجاویز سننے کا انتظار کریں۔
اکبری کا رچرڈ ڈالٹن سے قریبی تعلق تھا برطانوی سفارت خانے کے ایجنٹوں اور اکبری کے درمیان قریبی تعلقات کے حوالے سے کیس کے ایک دوسرے  ملزم  کی ایک بات کا حوالہ دیا گیا ہے: بظاہر اکبری بہت عرصہ پہلے سے یعنی تہران میں  برطانوی سفیر رچرڈ ڈالٹن کے زمانے میں  تہران انسٹی ٹیوٹ میں مذکورہ شخص  سے ملاقات اور گفتگو کی اور برطانیہ میں اسی طرح کے اداروں کے ساتھ رابطے بڑھانے اور مکالمے کو فروغ دینے میں دلچسپی پیدا کرلی تھی اور اسی ابتدائی تعارف اور شناسائی نے برطانوی سفیر کے دل میں اس کا بڑا مقام پیدا کردیا تھا اور سفیر نے اپنے زیر کمان گروپ اور سفارت خانے کے فرسٹ سیکریٹری کو اکبری کے ساتھ تعاون کی بار بار تاکید اور سفارش کی۔

2005 میں مجرم کو سفارت خانے کی طرف سے وی آئی پی اسٹیٹس کے ساتھ ویزا جاری کیا گیا اور وہ انگلینڈ چلا گیا، جہاں اس کی دوبارہ برطانوی انٹیلی جنس افسر سے ملاقات ہوئی۔

مختلف ملکوں میں برطانوی انٹیلی جنس افسران سے ملاقاتیں

اکبری نے  جو کہ 20١۰ تک مکمل طور پر ملک سے باہرچلا گیا  تھا، انگلستان، سپین، جرمنی، اٹلی، آسٹریا، ملائیشیا، اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں بہت سے برطانوی انٹیلی جنس افسران سے ملاقاتیں کیں اور برطانوی انٹیلی جنس افسران اکبری کے نجی دوروں  کے دوران  مختلف مواقع پر اس سے ملتے رہے۔

ابتدائی ملاقاتوں میں برطانوی  انٹیلی جنس افسر نے اپنا تعارف فوکوس نامی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ وکیل کے طور پر کرایا جس نے کچھ عرصے بعد اپنی شناخت بطور انٹیلی جنس اہلکار  ظاہر کی۔ برطانوی انٹیلی جنس افسر نے تاکید کی تھی  کہ اس کا تعارف فوکوس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جو کہ ایک نجی ادارہ ہے ،کے ممبر کے طور پر کرایا  جائے اور اس بات پر زور دیا  گیا  کہ فوکوس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے کام کی نوعیت یہ بتائی جائے کہ یہ اداراہ خاص طور پر   علاقائی مسائل  کی جانچ پڑتال اور اقتصادی خطرے کی تشخیص  ﴿اکنامکس رسک اسسمنٹ﴾ کاکام کرتا ہے اور اپنے تحقیقات کے نتائج  دوسرے اداروں یا سرمایہ کاروں کو فراہم کرتا ہے۔

2008 میں  اس وقت کے حالات میں سفر اور ملاقاتوں کے محدود ہونے کی وجہ سےجرج نامی برطانوی انٹیلی جنس افسر نے اسے ایک محفوظ رابطہ قائم کرنے اور اکبری کی حالات سے باخبر رہنے کے لئے اسے ایک ایپل لیپ ٹاپ دیا۔ان ایام میں اکبری نے ملکی و خارجہ پالیسی، علاقائی، دفاعی، میزائل، جوہری مذاکرات اور پابندیوں سے متعلق اقتصادی امور کے حوالے سے اہم معلومات اکٹھی کیں اور اسے برطانوی انٹیلی جنس افسران تک پوری طرح آگاہی کے ساتھ  اور ٹارگٹ طریقے سے پہنچایا۔
جرج، مارکو، جیسیکا، کولن، ڈیوڈ، وغیرہ فرضی نام  ہیں جو MI6 افسران نے اکبری کے ساتھ مختلف ملاقاتوں میں استعمال کیے تھے۔

اکبری سے ایم آئی 6 انٹیلی جنس افسران نے دو ہزار سے زیادہ سوالات پوچھے

اکبری نے سپاہ گمنام  امام زمانہ (ع)  کی جانب سے خصوصی تفتیش کے دوران اور عدالتی حکام کے سامنے MI6 کے انٹیلی جنس افسران کی جانب سے ایران سے متعلق مختلف شعبوں کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے بارے میں اپنے اعترافات میں 2000 سے زیادہ سوالات کا ذکرکیا۔

برطانوی جاسوسی سروس کے ساتھ تعاون کے دوران اکبری  تسلسل کے ساتھ ملک کے حکام سے ملاقاتیں کرتا رہا  اور مختلف مسائل پر ان کی رائے حاصل کی اور انہیں برطانوی خفیہ ایجنسی  تک پہنچایا اور ان ملاقاتوں میں اکبری اکثر ایسے سوالات کرتا جو کہ MI6 کی تازہ ترین ضروریات کے مطابق ہوتے تھے۔

برطانوی خفیہ ایجنسی  کو معروف سائنسدان شہید فخر ی زادہ سے متعلق معلومات کی فراہمی 

برطانوی انٹیلی جنس افسران کی جانب سے کیے  گئے سوالات میں تقریباً 178 ناموں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں شہید فخری  زادہ سمیت ایرانی سائنسدان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے غیرملکی اینٹلی جنس سروس کو جو معلومات فراہم کی ان میں شہید  فخری  زادہ کو تکنیکی سطح پر ایک اہم شخص کے طور پر متعارف کرایا۔

برطانوی انٹیلی جنس افسران کے ساتھ اکبری کی تمام ملاقاتوں میں سیکورٹی کا خاص خیال 

اکبری سے ملاقاتوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے تھے، ہر دورے کے لیے ایسے ہوٹل میں کمرہ بک کیا جاتا ہے جہاں غیر ملکی افسر  پہلے سے ہی موجود  ہوتا تھا۔ ملاقاتیں تیسرے شخص (اکبری اور انٹیلی جنس افسر کے رابطہ کار)کے کمرے  میں ہوتی تھیں۔  میٹنگ روم میں داخل ہوتے وقت دروازے پر ایک خاص انداز میں  دستک دی  جاتی اور گفتگو کے دوران ٹی وی آن ہوتا تھا۔اگر کسی کاغذ پر کوئی چیز لکھتے تو میٹنگ کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے باتھ روم میں ڈال دیتے۔ اکبری کے لئے ملاقاتوں سے پہلے احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ، جب وہ گھر سے باہر نکلتا تو اس کے پاس جانے کی کوئی وجہ ہونی چاہیے تھی  اور گھر والوں کی موجودگی میں اسے اینٹلی جنس افسر سے فون پر بات نہیں کرنی  ہوتی تھی اور تمام میسجز ڈیلیٹ کر نے ہوتے تھے ۔ ملاقاتوں میں اکبری کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ رقم ترجیحاً بیرون ملک خرچ کرے۔

ملک سے غداری کے عوض بھاری رقم وصول کرنا

اکبری کو MI6  کے ساتھ کام کرنے کے سالوں کے دوران اس ایجنسی کی جانب سے اسے تحائف اور بھاری رقوم ملیں، کچھ رقم اسے ملک کے اندر دی گئی اور کچھ آسٹرلیا میں اس کے پہلے اکاؤنٹ میں اور کچھ اسپین کے بینک کے دوسرے اکاؤنٹ میں ادا کی گئی تھیں۔

اکبری کا فالج کا ڈرامہ رچا کے ایران  سے فرار

اکبری  2010 میں اپنے  رابطہ کار کی مدد سے اور ایک برطانوی انٹیلی جنس افسر کے مشورے پر چند سالوں کے لیے ملک سے باہر چلا گیا ۔پہلے تو اکبری مکمل طور پر ملک چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن  دشمن کے خفیہ افسر نے ان ملاقاتوں میں جن کا انتظام رابطہ کار نے دبئی میں کیا تھا، اسے ملک چھوڑنے پر قائل  کیا اور MI6 کے ساتھ مل کر فالج کا ڈرامہ رچانے کا سناریور تیار کیا تا کہ اس کی فیملی ملک سے باہر نکل سکے۔

اکبری کو دی جانے والی یہ توجیہات اور اطمینان اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ خفیہ ادارہ اکبری کے یورپ بھاگنے کے بعد اس کی واپسی کا سناریو بھی تیار کر رہا تھا اور فالج کا ڈرامہ رچانے کے وقت سے ہی ملزم کی وطن واپسی کے امکانات کا اظہار کرچکا تھا اور اس کے لئے اس کے پاس پلان بھی تھا۔

2010 میں  اکبری ایک کاروباری دورے کے بہانے بیرون ملک جاتا ہے۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق جب وہ ویانا پہنچتا ہے، کچھ وقت کے بعد اس کے لئے فالج کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔

انٹیلی جنس افسر اکبری کو تفصیل سے بتاتا ہے کہ اس منصوبے کو کیسے عملی جامہ پہنایا جائے اور اسے سکھاتا ہے کہ فالج کا شکار ہونے والے شخص کے کردار کو کیسے ادا کرنا ہے۔اکبری نے اپنے اعترافی بیان میں کہا  ہے  کہ جورج نے مجھے مکمل طور پر مجھے سمجھایا کہ صبح ہوٹل انتظامیہ کو کیسے اطلاع دوں کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور مجھے فوری طور پر ایمرجنسی کی ضرورت ہے۔ اکبری کا کہنا ہے کہ افسر نے اسے فالج کی علامات کے بارے میں بتایا اور بتایا کہ جب تک وہ ہسپتال میں داخل نہیں ہو جاتا کیسے ایکٹنگ کرنی ہے۔

اسے یہ بھی کہا گیا کہ جب ہسپتال سے اسے ڈسچارج کریں تو وہ “کور” نامی علاج کے مرکز میں منتقل ہونے کی درخواست کرے  اور جب تک حکم نہ ملے وہیں پر رہے۔

یہ منصوبہ کئی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھاکہ  پہلا یہ کہ اس کی اور اس کے گھر والوں کی ایران سے روانگی کو معمول کے مطابق ظاہر کیا جاسکے،  اکبری کے خاندان کو آسٹریا یا یورپ میں رہنے کے لیے راضی کیا جائےاور دوسرا یہ کہ طبی معاملات کو بہانہ بناکر  اکبری کے یورپ میں قیام کو جواز فراہم کیا جائے اور یہ کہ اگر آسڑیا میں رکنے کے متعلق پوچھا جائے تو بیماری اور پرواز کرنے سے قاصر ہونے کو اس کی وجہ بتاسکے۔

اکبری کے گھر والوں کی ویانا پہنچ جانے  کے بعد جو کہ ترکیہ کے ذریعے انٹیلی جنس اقدامات کے تحت پہنچے تھے، ملزم کچھ عرصہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ویانا میں رہا اور پھر اسپین چلا گیا اور آخر کار اپنے خاندان کے ساتھ انگلینڈ میں سکونت اختیار کر لی۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ اکبری کو برطانوی انٹیلی جنس افسران کے مشورے سے یورپ کے مختلف ممالک میں منتقل کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ یورپ میں قیام کے دوران اسے سختی سے ہدایات دی  گئی تھیں کہ ایران کا سفر نہ کرے، ایرانی اور غیر ایرانی لوگوں سے میل جول نہ رکھے، تحقیق اور کاروباری کام پر مرکوز رہے اور اگر  ایران جانا پڑ جائے تو اہم لوگوں سے نہ ملے، اہم جگہوں پر نہ جائے اور صرف اپنے خاندان کے ساتھ رہے۔

اکبری کے یورپ میں قیام کے دوران اس کے اور اس کے خاندان کے تمام اخراجات برطانوی انٹیلی جنس سروس نے اٹھا ئے۔

MI6 سے وفاداری کا اعلان کرنے کے بعد لندن کالج میں بچوں کی تعلیم

اکبری کا بیٹا انہی سالوں میں ایم آئی 6 کے خرچے اور لابی سے لندن کالج میں داخل ہوا ۔ رہائش، خاندان کے اسٹیٹس  کے مطابق مکان کی خریداری، روزانہ کے  اخراجات کی فراہمی، گاڑی ، گھریلو سامان کی خریداری اور ماہانہ ادائیگی سے متعلق اخراجات برطانوی خفیہ  ادارے کی طرف سے انجام پائیں۔

اس کے علاوہ آسٹریا اور اسپین میں قیام کے لیے دفتری کاموں میں سہولت کاری ، اس کے اور اس کے خاندان کے لیے برطانوی ویزا حاصل کرنا، خاندان کو یورپ منتقل کرنا، 350 ہزار یورو سے زیادہ کی رقم میں ٹیکس اور قانونی فیس بھرنا  اور اپریل 2018 میں 600ہزار  اسٹریلیا سے اور 600 ہزار یورو ا سپین میں وصول کرنا سب MI6 ن کی طرف سے انجام پایا تھا اور یہ اکبری کو انگریزوں سے ملنے والی بھاری رقوم کا صرف ایک حصہ تھا۔

MI6 کے خصوصی تعاون سے برطانوی شہریت حاصل کرنا

علیرضا اکبری نے برٹش فارن انٹیلی جنس سروس کے تعاون سے خصوصی طور پر اس ملک کی شہریت حاصل کی اور اسپین کے بعد ۲۰١۲میں انگلینڈ چلا گیا اور اسے مکمل استثنائی  اور غیر معمولی انداز میں برطانوی پاسپورٹ جاری کیا گیا۔

مسٹر جاسوس کی طرف سے ملکہ انگلستان سے وفاداری کا اعلان

اکبری کی شہریت کے لیے برطانیہ کا معمول کا اور  قانونی طریقہ کار  اور پروٹوکول کو  ملحوظ نہیں رکھا گیا۔یہاں تک کہ خود کے  بقول اس نے برطانیہ میں اقامت حاصل کرنے کے لئے دیا جانے والا مخصوص امتحان” life in the uk test “بھی نہیں دیا تھا تاہم اس کے فارم میں درج کیا گیا کہ اس نے یہ امتحان بھی دیا ہے۔ علیرضا اکبری نے مکمل خصوصی طور  پر صرف  ملکہ برطانیہ سے اپنی وفاداری کے اعلان کی تقریب میں شرکت کی تھی۔

اس تقریب کے بارے میں اپنے کھلے اعترافات میں اس نے کہا: انٹیلی جنس افسر  “جسیکا” نے مجھے ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے کہا جس میں مجھ سے صرف چند سادہ سوالات پوچھے جائیں گے اور مجھے صرف ایک جملہ دہرانا پڑے گا۔ میں طے شدہ  دن لندن چلا گیا اور جسیکا اور میں لندن کے وسط میں واقع ایک چھوٹے سے دفتر کی عمارت میں گئے۔ کمرے میں کچھ برطانوی جھنڈے اور ملکہ کی تصویر تھی۔ مجھ سے کچھ سوالات پوچھے گئے۔ میں نے جیسکا سے پوچھا کہ مجھے کیا کہنا ہے۔ جسیکا نے کہا کہ آپ  ملکہ برطانیہ  کا نام بولیں،   ان کا پورا نام اونچی آواز میں  بولیں اور میں نے وہی کیا۔

اس مقدمے کا سب سے اہم نکتہ اکبری کو برطانوی خصوصی مراعات دینا تھا۔ اکبری کی شہریت حاصل کرنے کے عمل میں، اسے مشہور ILR ویزا یا مستقل رہائشی کارڈ  دیا گیا تھا۔Indefinite leave to remain  کا مطلب ہے “غیر معینہ مدت کے لیے رہنا”۔ ILR ہونے کا مطلب ہے کہ آپ جب تک چاہیں یو کے میں کام کرنے اور پڑھنے کے لئے رہ سکتے ہیں۔

قانون کے مطابق پاسپورٹ جاری ہونے پر ILR کارڈ منسوخ  ہو جاتا ہے، لیکن برطانوی قانون کے برخلاف اکبری پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد اور MI6 کی تجویز پر اس کارڈ کو استعمال کرسکتا تھا۔ اکبری کو برطانوی پاسپورٹ استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا گیا تھا۔شہریت دینا حالیہ برسوں میں MI6 کے سب سے زیادہ معاون اور حوصلہ افزا طریقوں میں سے ایک رہا ہے۔ اس معاملے میں برطانوی پاسپورٹ کے علاوہ، خفیہ ایجنسی کے افسران نے اکبری  کو ایک مستقل رہائشی کارڈ دیا اور ایک خصوصی اور پیچیدہ حفاظتی نقطہ نظر کے طور پر  اسے مشورہ دیا کہ  ایران کا سفر کرتے وقت اپنا برطانوی پاسپورٹ ساتھ نہ رکھے۔

اکبری نے اپنے اعترافی بیان کے ایک حصے میں کہاہے کہ  ایسے  اجازت نامے دینے کی وجہ اسے سفر کے لیے استعمال کرنا تھا، اگر میں برطانوی پاسپورٹ استعمال کرتا ہوں تو میرے پاسپورٹ تک ایران کے سیکورٹی سسٹم  کی رسائی حاصل ہو سکتی ہے اور تہران میں واقع برطانوی سفارت سے بھی اس کی شناخت ہوسکتی تھی لہذا یہ ایک خطرناک  اور رسک والا کام  تھا۔

اکبری نے کہا کہ انہوں نے مجھ پر زور دیا کہ کبھی بھی یورپی ممالک کے سفر کے دوران اپنا  برطانوی پاسپورٹ استعمال نہ کروں اور اپنا ILR ویزا اور ایرانی پاسپورٹ استعمال کروں اور کہا تھاکہ مجھے اپنے گھر والوں کو یہ بھی نہیں بتانا  کہ میرے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے کیونکہ یہ بہت خطرناک ہے۔

اس کے علاوہ ۲۰١۷میں مجرم کے اہل خانہ کی شہریت کی دستاویزات بنا کر واپس دینا   بھی غیر معمولی اور عام معمول سے ہٹ کر ہے۔ چونکہ مجرم کا خاندان۲۰۲١ تک برطانوی قوانین کے مطابق پاسپورٹ حاصل کرنے کا اہل نہیں تھا، اس لیے ان لوگوں کو شہریت دینے کے لیے MI6 کی خصوصی سفارش اور حسب ضرورت فالو اپ بھی برطانوی انٹیلی جنس سروس سے مجرم کے موجودہ تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔

برطانیہ کے ایک مشہور بینک میں خصوصی اکاونٹ کھولنا

علیرضا اکبری نے MI6 انٹیلی جنس افسر کی مدد سے مشہور بینک HSBC میں اکاؤنٹ کھولا۔ اکاونٹ کھولتے وقت انٹیلی جنس افسر اس کے ساتھ تھا۔ بینک کے کلرک نے اس کے لیے فارم بھرے اور اس نے ان پر صرف  دستخط کیے۔

برطانوی شہریت حاصل کرنے اور سیکورٹی کلیئرنس کے بارے میں مطمن ہونے کے بعد اکبری ایران واپس آیا اور برطانوی خفیہ انٹیلی جنس سروس کے ساتھ تعاون جاری رکھا اور آخر کار ایرانی انٹیلی جنس (امام زمانہ (ع کے گمنام سپاہیوں )کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔اکبری کے مقدمے کی سماعت ان کے وکیل کی موجودگی میں ہوئی اور موت کی سزا “ٹھوس ثبوتوں” کی بنیاد پر سنائی گئی۔ بعد از آں ایران کی سپریم کورٹ نے اپیل کی درخواست کے بعد سزا کو برقرار رکھا۔

ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے بدھ کی سہ پہر کو ایک بیان میں اکبری اور اس کی گرفتاری کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کیں۔ ایرانی خفیہ اداروں نے اکبری جو ایک سابق نائب وزیر دفاع رہا ہے، کو ملک کے حساس اور سٹریٹجک مراکز میں برطانیہ کی جاسوسی سروس کے سب سے زیادہ دراندازی کرنے والے ایجنٹوں میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا اور بتایا کہ اس کی شناخت ایک طویل اور کثیرالجہتی عمل کے بعد ہوئی تھی جس میں “کاؤنٹر انٹیلی جنس” اور “فریبی کارروائی” شامل تھی۔

ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے انسداد جاسوسی افسران نے مذکورہ جاسوسی تعلقات کا سراغ  لگانے کے بعد متعلقہ افراد اور اہداف کی معلومات جمع کیں اور ضروریات کی فہرست تیار کی۔ ساتھ ہی رابطے کی نوعیت اور حریف ایجنسی کے مواصلاتی اور رابطے کے آلات کے بارے میں معلومات کو مکمل کیا۔ پھر ایک موقع پر وہ ایس آئی ایس اور مذکورہ جاسوس کے درمیان قائم کمیونیکیشن سرکٹ میں داخل ہوئے اور مذکورہ سرکٹ میں گائڈڈ معلومات کو انجیکٹ کرنا شروع کردیا۔ آخرکار مناسب وقت پر اور عدالتی حکم کے ساتھ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور عدالتی کاروائی سے گزرنے کے بعد اس کی سزا سنائی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ علی رضا اکبری ایک سابق ایرانی اہلکار تھا جسے پھانسی کی سزا ہوئی۔ اکبری آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران 70 مہینے محاذ جنگ میں رہا اور وزارت دفاع کے شعبہ خارجہ تعلقات کا سابق نائب، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ کے سابق ملازم، سربراہ بحریہ کا سابق مشیر، وزارت دفاع کے تحقیقی مرکز کا دفاع اور سلامتی کے شعبے کا سابق سربراہ، قرارداد 598 کے نفاذ کے لیے فوجی تنظیم کا سابق سربراہ، وزارت دفاع کے شعبہ دفاعی مطالعات کا سابق سربراہ، وزیر دفاع کے اسٹریٹجک امور کا مشیر اور صدارتی اسٹریٹجک ریسرچ سینٹر میں فعالیت جیسے اہم عہدوں پر کام کرتا رہا تھا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

7 − 5 =