اپریل 7, 2024

برطانوی انٹیلیجنس سروسز کے لئے جاسوسی ثابت ہونے پر سابق ایرانی ڈپٹی وزیر دفاع کو سزائے موت

سیاسیات- سابق ایرانی ڈپٹی وزیر دفاع کو جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم کورٹ کی جانب سے  سابق ایرانی ڈپٹی وزیر دفاع علی رضا اکبری کو برطانیہ کیلئے جاسوسی  کا الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

علی رضا اکبری کو 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا، وہ 80 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران  ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے موجودہ سیکرٹری اور 1997 سے 2005 تک ایران کے وزیر دفاع رہنے والے علی شمخانی کے قریبی ساتھی اور ڈپٹی وزیر دفاع رہ چکے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ علی رضا اکبری برطانوی انٹیلیجنس سروسز کیلئے ایران میں انتہائی اہم ایجنٹ تھے جو ایران کے حساس مقامات اور معلومات تک رسائی رکھتے تھے اور انہوں نے ملک دشمن جاسوسی ایجنسی کو حساس معلومات پہنچائی۔

برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہماری اولین ترجیح علی رضا اکبری کی فوری رہائی کو یقینی بنانا ہے، اس حوالے سے ایران کو فوری کونسلر رسائی کی درخواست کی گئی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں برطانوی شہریت کے حامل علی رضا اکبری کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو فوری طور سزا پر عمل درآمد روک کر انہیں رہاکر دینا چاہیے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

three + two =