جون 1, 2024

ایران کے پہلے شہید وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے مختصر حالات زندگی

سیاسیات- شہید صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کی کابینہ کے وزیر خارجہ شہید حسین امیر عبداللہیان ایران کے پہلے شہید وزیرخارجہ ہیں جنہوں نے گذشتہ روز ہیلی کاپٹر کے حادثے میں جام شہادت نوش کیا۔

شہید صدر رئیسی کا قافلہ مشرقی آذربائیجان کے دورے کے دوران ڈیم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرکے صوبائی مرکز تبریز واپس آرہا تھا کہ راستے میں ان کا ہیلی کاپٹر موسم کی خرابی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا۔

شہید وزیر خارجہ عبداللہیان کا تعلق صوبہ سمنان کے شہر دامغان سے تھا۔ شہید وزیرخارجہ 1964 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تہران یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔

امیر عبداللہیان گذشتہ تیس سالوں سے وزارت خارجہ میں ماموریت انجام دے رہے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے شعبہ خلیج فارس میں سیاسی ماہر کے طور پر کام کیا۔ اس کے پانچ سال بعد پہلی مرتبہ بین الاقوامی سطح پر فرائض انجام دیے اور بغداد میں معاون سفیر کے طور تعیینات ہوئے۔

اچھی کارکردگی پر 2003 میں ان کو عراقی امور میں وزیرخارجہ کے معاون کے طور پر انتخاب کیا گیا اور بحرین میں سفیر منتخب ہونے تک انہوں نے یہ فریضہ انجام دیا۔

2007 میں بحرین میں ایران کے سفیر منتخب ہوئے۔ 2010 میں وزارت خارجہ میں امور خلیج فارس کے سربراہ بن گئے جو کہ اہم عہدہ سمجھا جاتا ہے۔

ایک سال بعد وزارت خارجہ میں عربی اور افریقی امور کے معاون بن گئے۔ 2016 میں وزارت خارجہ سے نکل کر پارلیمنٹ میں سپیکر کے معاون بن گئے اور قومی اسمبلی میں بین الاقوامی امور کے سربراہ بن گئے۔

صدر رئیسی برسراقتدار آنے کے بعد ان کو وزیرخارجہ منتخب کیا گیا۔

وزیرخارجہ بننے کے بعد ایک مرتبہ دامغان کا سرکاری دورہ کیا جبکہ ایک دفعہ غیر سرکاری دورہ بھی کیا۔

شہید حسین امیرعبداللہیان گذشتہ روز شہید صدر رئیسی کے ہمراہ ہیلی کاپٹر حادثے میں خالق حقیقی سے جاملے۔

شہید امیر عبداللہیان کے دو نوعمر بیٹے ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

11 − 9 =