اپریل 21, 2024

ایران سے متعلق خفیہ دستاویزات کے بارے بیان بازی پر ٹرمپ کیخلاف قانون کارروائی جاری، رپورٹ

سیاسیات- سابق انتہاپسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف خفیہ قومی رازوں کے افشاء کے حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ امریکی نیوز چینل سی این این نے خفیہ دستاویزات کے غلط استعمال کے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف فرد جرم کے اعلان کے ایک دن بعد ہی جاری ہونے والی اپنی نئی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک آڈیو فائل میں اعتراف کیا تھا کہ اس کے پاس ایران کے بارے پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات موجود ہیں درحالیکہ سی این این کی جانب سے حاصل کردہ ایک آڈیو ریکارڈنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بطور صدر، میں (ان دستاویزات) کو ظاہر کر سکتا تھا، لیکن اب میں ایسا نہیں کر سکتا! امریکی چینل کا کہنا ہے کہ اس نے ٹرمپ کی ملاقاتوں کا ڈاؤن لوڈ کردہ متن حاصل کیا ہے جس میں سابق امریکی صدر کو ایران پر حملے سے متعلق پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات کے بارے بات کرتے سنا جا سکتا ہے تاہم قبل ازیں سی این این اعلان کر چکا ہے کہ مذکورہ آڈیو فائل امریکی پراسیکیوٹرز کے قبضے میں ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل ہی کے روز کہا تھا کہ مجھ پر خفیہ دستاویزات رکھنے سے متعلق تحقیقات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے جبکہ بعض امریکی میڈیا چینلز نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تاحال 7 مقدمات میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے تاہم اس فرد جرم کی تفصیلات ہنوز منظر عام پر نہیں آئیں لہذا یہ واضح نہیں کہ کیا ان 7 مقدمات میں سے کوئی مقدمہ 2021ء کی اس میٹنگ سے متعلق بھی ہے کہ جس میں سابق امریکی صدر نے ایران کے بارے مذکورہ گفتگو کی تھی۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تمام دستاویزات جو میں اپنے ساتھ فلوریڈا لے کر آیا تھا، پہلے سے ہی ڈی کلاسیفائیڈ ہو چکی تھیں جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق ایک آڈیو فائل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق ایسی دستاویزات کے بارے بات کی ہے جو خفیہ تھیں اور انہیں وائٹ ہاؤس سے باہر پہنچایا گیا تھا۔ قبل ازیں امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وفاقی استغاثہ کے پاس بھی ٹرمپ کی وہ ریکارڈنگ موجود ہے جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے وائٹ ہاؤس سے نکلنے کے بعد “ایران پر ممکنہ حملے” سے متعلق پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات اپنے پاس رکھ لی تھیں۔

گزشتہ جمعے کے روز جاری ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں سی این این نے 2 باخبر ذرائع سے نقل کرتے ہوئے اطلاع دی تھی کہ مارچ کے وسط میں انہی خفیہ فوجی دستاویزات کے حوالے سے فیڈرل عدالت کی جانب سے پیشی کا نوٹس ملنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلا نے کچھ دستاویزات عدالت کو فراہم بھی کی ہیں، تاہم وہ خود بھی ان دستاویزات کو ڈھونڈ نہیں پائے کہ جن کی جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ کیا تھا۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ فیڈرل عدالت کی جانب سے پیشی کا مذکورہ نوٹس، ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک معاون کی جانب سے ٹرمپ کی اس آڈیو ریکارڈنگ کے بارے میں وفاقی گرینڈ جیوری کے سامنے گواہی دینے کے فوراً بعد ہی جاری کیا گیا تھا جو نیوجرسی کے شہر بریڈمنسٹر میں واقع ڈونلڈ ٹرمپ کے گالف کلب میں جولائی 2021ء کے ایک اجلاس میں ریکارڈ کی گئی تھی اور جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے پاس پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات موجود ہیں کہ جن کا موضوع ایران پر ممکنہ حملہ ہے!

باخبر ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ ”امریکی و ایرانی فوج کی مشترکہ کمیٹی” کے اس وقت کے سربراہ “مارک ملی” سے متعلق ان تمام دستاویزات و مواد تک رسائی چاہتے ہیں کہ جن میں فوجی نقشے اور حملے کے تمام منصوبے شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کو ایک اور ذریعے سے خبر ملی ہے کہ ایسا ہی ایک پیشی نوٹس ڈونلڈ ٹرمپ کے گولف کلب میں جولائی 2021ء میں ہونے والی میٹنگ میں شریک ہونے والے ایک دوسرے شخص کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع نے مزید بتایا کہ پیشی کا مذکورہ نوٹس جاری کرنے کے بعد، استغاثہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلاء پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے ذکر کردہ دستاویزات کے ساتھ ساتھ خفیہ معلومات کی حامل ان تمام دیگر دستاویزات تک بھی رسائی چاہتا ہے کہ جو تاحال ڈونلڈ ٹرمپ کے قبضے میں موجود ہو سکتی ہیں۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ خفیہ دستاویز پیش کرنے میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم کی ناکامی ان چیلنجوں کو ظاہر کرتی ہے کہ جو خفیہ معلومات کی بازیافت کے سلسلے میں امریکی حکام کو درپیش ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ مذکورہ خفیہ دستاویزات ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت ختم ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس سے چرا  لی تھیں تاہم امریکی وزارت انصاف ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چرائی گئی دستاویزات کی چھان بین کر رہی ہے درحالیکہ ٹرمپ ٹیم کی جانب سے تمام خفیہ دستاویزات کو واپس کر دیئے جانے کے بارے استغاثہ پہلے ہی شک کا اظہار کر چکا ہے کیونکہ اس کیس کے حوالے سے سال 2022ء میں ہونے والی تحقیقات کے دوران امریکی وفاقی حکومت مختلف مقامات پر ٹرمپ سے درجنوں خفیہ دستاویزات برآمد کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ گذشتہ سال، خصوصی پراسیکیوٹرز کے دفتر نے ایک وفاقی جج کو یہ شکایت بھی ارسال کی تھی کہ حتی ایف بی آئی کی جانب سے ٹرمپ کے مار-اے-لاگو والے گھر کی تلاشی لینے کے بعد بھی، وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکا کہ ٹرمپ کے پاس موجود تمام خفیہ دستاویزات واپس لے لی گئی ہیں! تب یہ تنازعہ کئی ایک بند دروازے کی عدالتی سماعتوں پر ختم ہو گیا تھا، جن کے دوران استغاثہ نے ٹرمپ پر توہین عدالت کا الزام عائد کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن ججوں نے یہ الزام مسترد کردیا تھا تاہم عدالت نے مذکورہ دستاویزات کی برآمدگی کی خاطر سابق امریکی صدر کی جائیدادوں کی تلاشی کے لئے ٹرمپ کی ٹیم میں سے ہی 2 افراد کی خدمات حاصل کر لی تھیں۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ کیا موجودہ امریکی حکومت کے پاس ایران سے متعلق مذکورہ دستاویزات کی کاپی بھی موجود ہے یا نہیں! سی این این کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ دستاویزات، خفیہ دستاویزات کے اس پیکج کے اندر موجود ہوسکتی ہیں کہ جو ٹرمپ کے وکلاء نے گزشتہ سال نیشنل آرکائیوز کے حوالے کی تھیں جبکہ ٹرمپ کے وکلاء کہنا ہے کہ انہوں نے اس پیکج کے اندر موجود دستاویزات کو نہیں دیکھا جو نیشنل آرکائیوز تک پہنچایا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

nine − seven =