مئی 18, 2024

امریکی حملوں کا مقصد تکفیری دہشتگردوں کے حوصلے بلند کرنا ہے۔ ایران

سیاسیات-ایرانی میڈیا کے مطابق دمشق میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر حسین اکبری نے گذشتہ رات عراق اور شام میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کے مختلف مراکز پر امریکہ کی دہشت گردانہ جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد تکفیری دہشت گرد عناصر کی حمایت کرنا اور ان کے حوصلے بلند کرنا ہے۔ انہوں نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا: “گذشتہ رات امریکی حکومت کی جانب سے انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات کا اصل مقصد غزہ جنگ میں اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو ہونے والی شکست کا ازالہ کرنا اور عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں خلا پیدا کر کے تکفیری دہشت گرد عناصر کو مزید مضبوط بنانا ہے۔” انہوں نے مزید لکھا: “امریکہ کی جانب سے ایران سے منسلک مراکز کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کے برخلاف ان فضائی حملوں میں شام کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کا مقصد شام کے عوام سے اس بات کا انتقام لینا ہے کہ انہوں نے گذشتہ چند سالوں کے دوران اسلامی مزاحمتی بلاک کی حمایت کیوں کی۔”

یاد رہے کل رات امریکی جنگی طیاروں نے شام کے علاقوں البوکمال، المیادین اور مشرقی شام نیز عراق کے مغربی علاقوں پر فضائی حملے انجام دیے۔ شام کی وزارت دفاع کے مطابق ان حملوں میں چند فوجی اور سویلین شہید ہوئے ہیں۔ دوسری طرف عراقی حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی اس کھلی جارحیت کے نتیجے میں 16 عراقی شہری شہید جبکہ 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ عراق حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیانئے میں آیا ہے کہ اس حملے میں کئی رہائشی عمارات اور شہریوں کو مالی نقصان بھی پہنچا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے بھی گذشتہ رات امریکہ کے فضائی حملوں کو عراق اور شام کی خودمختاری اور ارضی سالمیت کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔ امریکہ گذشتہ چار ماہ سے غزہ پر غاصب صیہونی رژیم کی وحشیانہ جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی بھرپور اور کھلم کھلا حمایت کرتا آ رہا ہے۔ مزید برآں اس نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی کشتیوں کو نشانہ بنانے پر انصاراللہ یمن کے خلاف بھی فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے عراق اور شام پر امریکی حملوں کو فوجی مہم جوئی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ موجودہ امریکی حکومت کی ایک اور اسٹریٹجک غلطی ہے جس کا نتیجہ سوائے خطے میں تناو اور عدم استحکام کی شدت میں اضافہ ہونے کے کچھ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے عراق اور شام پر امریکی جارحیت کا واحد مقصد غاصب صیہونی رژیم کی مدد قرار دیتے ہوئے کہا: “اس قسم کے حملے امریکی حکومت کو زیادہ سے زیادہ خطے میں پھنسا دیں گے اور غزہ پر غاصب صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات سے توجہ ہٹ جانے کا باعث بنیں گے۔” ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر غزہ جنگ خطے کی حد تک پھیل جانے کے خطرے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا: “اس قسم کی فوجی مہم جوئی جاری رہنے کی صورت میں علاقائی اور عالمی امن اور سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔”

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

5 × 5 =