اپریل 5, 2025

عمران خان نے جے آئی ٹی سے زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پر تحقیقات کی استدعا کردی

سیاسیات-سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان جناح ہاؤس حملہ کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش نہ ہوئے اور زمان پارک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر تحقیقات کی سہولت فراہم کرنے کی استدعا کردی۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنی جان کو لاحق سنگین سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے تحریری بیان کے ساتھ اپنی وکلا کی ٹیم بھیجی تاہم جے آئی ٹی نے عمران خان کی قانونی ٹیم سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کامران عادل کی زیرسربراہی جے آئی ٹی نے عمران خان کو گزشتہ روز شام 4 بجے ذاتی طور پر پیش ہونے کو کہا تھا، 9 مئی کو لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ پر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل سمیت 20 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم سابق وزیراعظم نے گزشتہ روز جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنے تحریری بیان کے ساتھ اپنی وکلا کی ٹیم بھیج دی۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ وکلا عمران خان کا تحریری بیان جمع کرانے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر کے دفتر پہنچے، جب جے آئی ٹی اراکین کو علم ہوا کہ عمران خان تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے نہیں آرہے تو انہوں نے ایک مختصر میٹنگ کی اور پھر وکلا سے ملنے سے انکار کردیا، بعدازاں عمران خان کی قانونی ٹیم نے میڈیا کو تصدیق کی کہ جے آئی ٹی نے تحریری بیان وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تحریری بیان میں سابق وزیراعظم نے استدعا کی تھی کہ انہیں موصول ہونے والے سمن میں جواب دینے کے لیے انتہائی محدود وقت دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے درپیش سیکیورٹی خطرات پہلے سے ہی آپ کے علم میں ہیں اور آج مجھے ضمانت کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت اور لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہونا ہے، میں نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں اے ٹی سی سے پہلے ہی ضمانت حاصل کر لی ہے۔

انہوں نے درخواست کی کہ سیکیورٹی خدشات اور حفاظتی انتظامات کی مد میں ریاست اور مجھ پر پڑنے والے بھاری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مجھے آپ کی سہولت کے مطابق کسی بھی تاریخ/وقت پر زمان پارک میں واقع میری رہائش گاہ پر پوچھ گچھ کی سہولت فراہم کردی جائے تو میں اسے سراہوں گا۔

انہوں نے اس سلسلے میں عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی جے آئی ٹی کی جانب سے ایسا کیا جاچکا ہے، لاہور ہائی کورٹ کے لارجر بینچ نے جے آئی ٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ مجھے میری رہائش گاہ پر ہی پوچھ گچھ کی سہولت فراہم کریں کیونکہ ذاتی طور پر پیش ہونے یا ویڈیو لنک/سوالنامے کے ذریعے تحقیقات میں شامل ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

13 + five =