تحریر: حسیب اصغر
مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ بحران، جس نے اس وقت پوری دنیا کو ایک شدید تشویش اور سنگین صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے، دراصل سات اکتوبر 2023 سے جاری غزہ میں غیر قانونی صیہونی ریاست کی جانب سے کی جانے والی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کی نسلی کشی کا ردِعمل ہے، جس میں اب تک ساڑھے سات لاکھ سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
اس بربریت نے دنیا بھر کے باضمیر انسانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے اور ایک طویل عرصے سے غیر ملکی مداخلت، خانہ جنگی اور صہیونی جارحیت کا شکار اس خطے میں باقاعدہ آگ سلگا دی ہے۔
نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کے جواب میں لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے ایران کی معاونت سے غیر قانونی صہیونی ریاست کے خلاف محاذ کھولا جس نے صہیونی ریاست کو تباہ کن نقصان دیا، جس کے جواب میں امریکا اور یورپی طاقتوں نے غیر قانونی صہیونی ریاست کا بے دریغ ساتھ دیا اور یوں غیر قانونی صہیونی ریاست کے تحفظ کےلیے امریکا نے ایران پر حملے شروع کردیئے۔ اس پشت پناہی نے اس تصادم کو ایک بڑے پیمانے کی جنگ (Larger-Scale War) میں تبدیل کردیا۔
ایران نے مشرق وسطیٰ میں ہر اس ملک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی اڈے موجود تھے اور جو ایران پر حملوں میں کسی بھی طرح کی معاونت کررہا تھا۔ جیسے جیسے یہ جنگ پھیلتی گئی، آبنائے ہرمز اور بحرِ احمر (Red Sea) کے اہم تجارتی راستے متاثر ہوئے اور یمن کے حوثی بھی اس میں شامل ہوگئے، جس کے نتیجے میں یہ تنازع محض غیر قانونی صہیونی ریات اسرائیل، لبنان اور ایران تک محدود نہ رہا بلکہ اس کے اثرات پورٹل آف مڈل ایسٹ یعنی خلیجی ممالک تک پھیل گئے۔ یوں اس جنگ کے شعلوں نے اب ان عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جو کل تک خطے کے سب سے محفوظ خطے سمجھے جاتے تھے، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔
اس علاقائی پھیلاؤ اور مفادات کی جنگ کو اسرائیل، امریکا اور صہیونی پے رول پر کام کرنے والوں نے ایک خاص زاویے سے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ میرے تجزیے کے مطابق ایران، سعودی عرب، یمن اور حوثیوں کے مابین بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کو محض ’مذہبی یا مسلکی رنگ‘ دینا (یعنی اسے شیعہ سنی قرار دینا) زمینی حقائق کو بری طرح مسخ کرنے اور اصل تنازع یعنی صہیونی جارحیت اور سامراجی پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
یہ جنگ عقیدے، مذہب یا مسلک کی نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق خالصتاً جغرافیہ اور اسٹریٹجک پوزیشن، قومی مفادات، سیاسی اور علاقائی تسلط سے ہے۔ یمن کی جغرافیائی حیثیت اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ بحیرہ احمر (Red Sea) اور باب المندب کے دہانے پر واقع ہے، جو دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ ہر طاقتور فریق اس اہم جغرافیائی نکتہ پر کنٹرول حاصل کرکے اپنی معاشی برتری چاہتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے اپنی قومی سلامتی کےلیے توانائی کی تنصیبات کا تحفظ سب سے مقدم ہے، کیونکہ سعودی عرب کی معیشت کا فی الحال دارومدار توانائی کے ذرائع پر ہے۔ اسی طرح ایران اور دیگر عالمی و علاقائی طاقتیں خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت کھیل کھیل رہی ہیں۔یہ غاصب قوتوں اور بعض علاقائی فریقوں کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ ہے، جہاں فرقہ وارانہ نعرے بازی صرف جذبات ابھارنے یا پردہ پوشی کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جبکہ پسِ پردہ گیم خالصتاً سیاسی اور اقتدار کی رسہ کشی کی ہوتی ہے۔
جب آپ اس پورے منظر نامے کا تجزیہ جغرافیہ اور مفادات کی عینک سے کرتے ہیں، تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ مسالک کا تصادم نہیں، بلکہ اقتدار، وسائل اور اسٹریٹجک گہرائی (Strategic Depth) کی جنگ ہے۔
اس تمام صورتحال میں جب ہم یمن کے تاریخی پس منظر، اندرونی قبائلی حرکیات عصبیت، اور اس خطے سے جڑے عالمی اور علاقائی ایجنڈوں کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں، تو کئی حیرت انگیز حقائق عیاں ہوتے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف حصوں میں لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ایران اور حوثیوں کا رشتہ محض شیعہ ہونے کی بنیاد پر ہے، حالانکہ اگر فقہی تحقیق کی جائے تو اثنا عشری شیعہ اور زیدی شیعہ کے عقائد میں نمایاں فرق موجود ہے۔ ایران میں موجود اثنا عشری شیعہ بارہ اماموں کے قائل ہیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد امام موسیٰ کاظم اور ان کی اگلی نسل کو امام مانتے ہیں، جبکہ زیدی شیعہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند زید بن علی بن حسین کو اپنا امام مانتے ہیں اور اس کے بعد کی تمام اماموں کی نسل کے بارے میں ان کا نظریہ الگ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اثنا عشری شیعہ کے نزدیک جو شخص بارہ اماموں اور ان کی امامت کو تسلیم نہ کرے، وہ ان کے نزدیک اس مکتبِ فکر کا حصہ ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا موجودہ دور میں ایران اور حوثیوں کا ایک دوسرے کے قریب آنا یا تہران کا ان کی مدد کرنا کسی خالص مذہبی یا عقیداتی یکسوئی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف بدلتے ہوئے زمینی حالات، سیاسی مجبوریوں اور جیو پولیٹیکل مفادات کا نتیجہ ہے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آئے ہیں۔
یمن کے تنازع کی ایک اور اہم ترین بنیاد وہ تاریخی سرحدی اور جغرافیائی حقائق ہیں جو سعودی عرب کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد پیدا ہوئے۔ جب جزیرہ نما عرب اور حجاز کے خطے میں آل سعود برسرِ اقتدار آئے تو انہوں نے یمن کے دو اہم جنوبی صوبوں پر قبضہ کر لیا جو تاریخی طور پر یمن کا حصہ تھے۔ ان علاقوں میں سعودی عرب کی جانب سے طویل عرصے تک کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں کروایا گیا اور اسے یمنی خطہ سمجھ کر نظر انداز کیا گیا، جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے انھی علاقوں اور ان سے متصل پٹیوں میں تیل کے سب سے بڑے اور اہم ذخائر موجود ہیں جن پر یمن آج بھی اپنا تاریخی دعویٰ برقرار رکھتا ہے۔ ان تاریخی ناانصافیوں اور سرحدوں کے اس تنازع نے یمن کے اندر شدید ردعمل کو جنم دیا اور جب اس پر مزید ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تو مزاحمت نے جنم لیا۔
یمن پر گزشتہ ایک دہائی سے جاری مسلط کردہ جنگ اور محاصرے کی ہولناکیوں نے انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب رقم کیے ہیں۔ سالوں تک جاری رہنے والے اس طویل محاصرے کے دوران یمنی عوام کو خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رکھا گیا یہاں تک کہ مہینوں تک بچوں اور خاندانوں کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا تک گزرنے نہیں دیا گیا، اور اس انسانیت سوز سلوک کے باعث دستیاب معتبر ذرائع کےمطابق اب تک دو لاکھ ستر ہزار سے زائد معصوم افراد کو بھوک اور بمباری کے ذریعے شہید کیا گیا۔ یمن کے پہاڑی علاقوں میں آباد قبائل، جنہیں حوثی یا انصار اللہ کہا جاتا ہے، دراصل امام زید بن علی بن حسین کی اس فلاسفی پر کاربند ہیں جس کے مطابق ظالم اور جابر حکمران کے خلاف ہتھیار ڈالنا گناہ ہے اور لڑتے لڑتے مر جانا ان کے عقیدے کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید ترین مصائب، بھوک، فضائی بمباری اور سفاکانہ ناکہ بندی کے باوجود حوثیوں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ وہ ہر آنے والے دن کے ساتھ عسکری طور پر مزید طاقتور ہو کر ابھرے۔ جب انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا جواب دیتے ہوئے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا، تو خطے میں ایک نیا طوفان برپا ہو گیا۔
میں جب بھی مشرقی وسطیٰ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہا رکرتا ہوں تو اس کے تانے بانے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل سے ملتے ہیں اور میرے دوست اس پر مجھے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والے بحران کو اسرائیل سے جوڑتا ہوں لیکن میں اس کی دلیل دوں گا یہ صرف تنقید نہیں ہے ۔
جو کچھ یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری ہے اس سے سب آگاہ ہیں اسی دوران اس خطے میں اسرائیل اور اس کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مذموم چالیں بھی کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ صیہونی وزیراعظم یمن اور سعودی عرب کی جنگ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی غیر معمولی کوششیں کررہے ہیں جس کو ایم بی سی کی جانب سےفی الحال مسترد کردیا گیا ہے آخر غاصب صیہونی ریاست سعودی عرب سے چاہتی کیا ہے؟!
ذرا غور سے دیکھئے
کل غیر قانونی صیہونی ریاست کے اخبار ’ہآرٹز‘ (Haaretz) نے ایک انتہائی حساس اور خطرناک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کی یہ منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکے لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اسے صاف مسترد کر دیا۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے انکشاف کیا کہ امریکیوں نے صیہونی چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کے ساتھ یمن میں حوثیوں پر اسرائیلی حملوں کے امکان پر بات چیت کی لیکن ایال ضمیر نے اسے رد کر دیا اور خبردار کیا کہ ان حملوں سے حوثیوں اور شاید ایران کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہےحتیٰ کہ اس کی وجہ سے 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات بھی ملتوی ہو سکتے ہیں۔
امریکی جنگ میں براہ راست کودنے سے بچنا چاہتے ہیں، اسرائیلی فوج کشیدگی کے اس پھیلاؤ سے ڈر رہی ہے جو انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور اسی وقت نیتن یاہو میدانِ جنگ میں اترنے کے لیے سعودی عرب کی منظوری حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔
اگر نیتن یاہو جنگ میں شامل ہونا ہی چاہتے ہیں تو پھر سعودی عرب کے راستے ہی کیوں؟ نیتن یاہو کو سعودی منظوری کی ضرورت ہی کیوں ہے؟غیر قانونی صیہونی ریاست اس سے پہلے بھی حوثیوں پر بمباری کر چکی ہے اور عسکری طور پر وہ اب بھی نئے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ اس بار نیتن یاہو جو چاہتے ہیں وہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر محض بمباری سے کہیں زیادہ بڑا کھیل ہے۔
اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے میرے نزدیک اصل کہانی شروع ہوتی ہے ۔ میرے اندازے کے مطابق نیتن یاہو کی اس خواہش کے چار اہم زاویئے ہیں
پہلا یہ کہ وہ یاہو حوثیوں کے خلاف ریاض ہی کے دروازے سے داخل ہونا چاہتے ہیں تاکہ اگر محمد بن سلمان رضامند ہو جائے، توصیہونی مداخلت محض ایک انفرادی عسکری کارروائی نہ رہے بلکہ اسے ایک مشترکہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سب سے بڑے عرب اور اسلامی ملک کے ساتھ تعاون کے طور پر پیش کیا جا سکےاور یہ نیتن یاہو کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی فائدے کا سودا ہے کیونکہ یہ سعودی-یمن جنگ کو عرب-اسرائیلی سیکیورٹی شراکت داری کے راستے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہوگئی جو اسرائیل کی دیرینہ خواہش اور ابراہم معاہدے کی جانب ایک باقاعدہ قدم ہوگا جس میں سعودی عرب اسے شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔
دوسرا زاویہ… اسرائیلی انتخابات!
توجہ دیجئے کہ ایال ضمیر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر تصادم کا دائرہ پھیلا تو انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں اور یہاں ایک بہت اہم سیاسی سوال ابھرتا ہے کیا نیتن یاہو یمن میں کسی بھی عسکری شرکت کو استعمال کرتے ہوئے خود کو صیہونی ووٹروں کے سامنے ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کر سکتے ہیں جو عربوں کے ساتھ نئے اتحاد قائم کر رہا ہے؟ یا یوں کہہ لیں، کیا ایک وسیع علاقائی جنگ ایک ایسا غیر معمولی ماحول پیدا کر سکتی ہے جو انتخابات کے التواء پر بحث کا راستہ کھول دے اور نیتن یاہو اقتدار میں رہیں ۔
تیسرا زاویہ جو میرے نزدیک حکمت عملی کے لحاظ سے سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ ہے(Normalization) اور IMEC (انڈیا-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری) پروجیکٹ ، اس پروجیکٹ کو سعودی عرب نے روکا تھا اور جس کا مقصد بھارت کو خلیجِ عرب اور پھر سعودی عرب، اردن اور غیر قانونی صیہونی ریات سے گزرنے والے بندرگاہوں اور ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے یورپ سے جوڑنا ہے کا مطلب یہ ہے کہ نیتن یاہو ریاض کے ساتھ سیکیورٹی اور سیاسی راستے کھولنے کی کوشش کرکررہے ہیں اس قربت کو سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی کے معاملے کو زندہ کرنے کے لیے استعمال کریں اور وسیع تر علاقائی اقتصادی منصوبوں، خاص طور پر بھارت-یورپ راہداری کی راہ ہموار کریں۔
اور یوں، حوثیوں کے خلاف جنگ اسرائیل کے لیے ان اہداف کو حاصل کرنے کا ایک موقع بن جاتی ہے جنہیں وہ محض سفارت کاری سے حاصل نہیں کر سکا تھا۔!
اس منظر نامے پر غور کریں سعودی عرب پر حوثیوں کا دباؤ جتنا بڑھے گا نیتن یاہو کے لیے مملکت کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کے خیال کو ایک مشترکہ ضرورت کے طور پر بیچنا اتنا ہی آسان ہوگا۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








