تحریر: بشارت حسین زاہدی
تاریخِ انسانیت کے دامن میں کچھ دن ایسے مچلتے ہیں جن کی روشنی سے صدیوں کے اندھیرے کافور ہو جاتے ہیں۔ ۵ جمادی الاولیٰ کا بابرکت دن بھی انہی تاریخ ساز اور روشن ایام میں سے ایک ہے، جب آغوشِ بتولؑ میں ایک ایسے آفتابِ عظمت نے جنم لیا جس نے مشرق سے مغرب تک حق و صداقت کی کرنیں بکھیر دیں۔ آج جب ہم دادیِ صبر و استقامت، شریکتہ الحسینؑ، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیھا کے یومِ ولادت کی خوشیاں منا رہے ہیں، تو فضاؤں میں عطرِ نبوت اور نسیمِ حیدری رچی بسی ہے۔
ولادتِ باسسعادت کا یہ پُرمسرت موقع ہمیں محض جشن منانے تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ دوانۂ علیؑ اور پروردۂ دامانِ زهراؑ کی آمد کا اصل فلسفہ کیا تھا۔ جس وقت چشمِ کائنات نے اس درخشندہ گوہر کو دیکھا، تو شاید وقت کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ نازک اندام شہزادی آگے چل کر تاریخ کے بڑے بڑے فرعونوں اور یزیدوں کے ایوان ہلا کر رکھ دے گی۔
۱. آغوشِ تربیت: جہاں سے انقلاب نے جنم لیا
حضرت زینبؑ کا گھرانہ عام انسانوں کا گھرانہ نہیں تھا۔ آپؑ نے جس گہوارے میں آنکھ کھولی، وہاں کے درو دیوار وحی و الہام کے امین تھے۔ نانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیار، بابا حضرت علی المرتضیٰؑ کی شجاعت و عدل، اور ماں حضرت فاطمہ زہراؑ کی عفت و استقامت آپؑ کی گھٹی میں شامل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کو ’عالمہ غیر معلمہ‘ کہا گیا — وہ ہستی جسے کسی انسان نے نہیں بلکہ خود دستِ قدرت نے علم و حکمت کی معراج بخشی تھی۔ آپؑ کی ولادت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں بیٹی کی پیدائش محض ایک نعمت نہیں، بلکہ آنے والے زمانوں کی تقدیر بدلنے کا سامان ہوتی ہے۔
۲. جدید دور کی نسل اور میلادِ زینبی کا پیغام
آج کی نوجوان نسل ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں مادہ پرستی، فکری انتشار، اور اقدار کا زوال عروج پر ہے۔ سوشل میڈیا کی اس چکاچوند میں، جہاں شناخت کے بحران نے نوجوانوں کو گھیر رکھا ہے، سیرتِ زینبیہ ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے۔ یومِ ولادت کے اس بابرکت موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم زینبی کردار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔
فکری خودداری اور حیا: حضرت زینبؑ کی ولادت ہمیں سکھاتی ہے کہ نسوانی وقار، حیا اور عفت کتنی بلند اقدار ہیں۔ قید و بند کی صعوبتوں میں بھی چادر اور ردا کا تحفظ یہ بتاتا ہے کہ حالات چاہے کیسے بھی بدل جائیں، اپنی اصل شناخت کبھی نہیں کھونی چاہیے۔
کامل بصیرت اور شعور: ولادتِ زینبیؑ ہمیں جذباتی زندگی کے بجائے فکری اور شعوری بیداری کا درس دیتی ہے۔ آج کے نوجوانوں کو علم، تحقیق اور اخلاقی برتری کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا تاکہ وہ باطل نظریات کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں۔
۳. خوشی کے اس دن تجدیدِ عہد کا لمحہ
جب ہم ثانیِ زہراؑ کی ولادت کی خوشی میں محفلیں سجاتے ہیں، چراغاں کرتے ہیں اور نذر و نیاز کا اہتمام کرتے ہیں، تو یہ تمام امور ہماری محبت کا اظہار تو ہیں، مگر اصل خراجِ تحسین یہ ہے کہ ہم آپؑ کے افکار کو اپنائیں۔ آپؑ کی ولادت کا دن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مصائب سے گھبرانے کے بجائے ان کا استقبال عزمِ صمیم کے ساتھ کیا جائے۔
آئیے، آج کے اس مبارک دن یہ تہیہ کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو سیرتِ زینبیہؑ کے سانچے میں ڈھالیں گے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنا شعار بنائیں گے، اور اپنے دور کے یزیدی ہتھکنڈوں کے سامنے ڈٹ جانے کے لیے خود کو فکری طور پر تیار کریں گے۔








