اگست 30, 2025

تحریر: بشارت حسین زاہدی

جب ہم تاریخِ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک ایسا موڑ آتا ہے جہاں پر حق و باطل، صبر و بے صبری، اور حکمت و جذبات کے درمیان ایک کشمکش نظر آتی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد خلافت کا مسئلہ درپیش تھا اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے تقریباً پچیس سال تک ظاہری خلافت سے کنارہ کشی اختیار کی اور خاموشی کو اپنا شعار بنایا۔ یہ سکوت بظاہر ایک غیر فعال رویہ لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک گہری حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کے اسباب اور نتائج دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑ گئے۔

اسبابِ خاموشی

امام علیؑ کی خاموشی کے اسباب محض ذاتی یا سیاسی نہیں تھے، بلکہ ان کے پس پردہ دینِ اسلام اور امتِ مسلمہ کی بقا کی گہری فکر کارفرما تھی۔

  1. مسلمانوں میں انتشار کا خوف: سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے کے بعد جب خلافت کا معاملہ پیش آیا تو ایک طرف انصار تھے، دوسری طرف مہاجرین اور قریش، اور پھر رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے افراد۔ اس صورتِ حال میں اگر حضرت علیؑ فوراًاپنا حق لینے کے لیے تلوار اٹھا لیتے تو مسلمانوں کے درمیان ایک ایسی خانہ جنگی کا آغاز ہو جاتا جس کا فائدہ اسلام کے دشمنوں کو ہوتا۔ علیؑ نے یہ بخوبی سمجھ لیا تھا کہ اس وقت امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت اتحاد ہے۔
  2. وصیتِ رسول ﷺ پر عمل: رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں بہت سی ایسی پیش گوئیاں فرمائی تھیں جن میں آنے والے فتنوں اور امت کے اختلافات کا ذکر تھا۔ علیؑ کو یہ بھی علم تھا کہ آپؐ نے انھیں صبر کی تلقین کی تھی۔ علیؑ کا سکوت دراصل رسول اللہ ﷺ کی اس حکمت اور وصیت پر عمل تھا جس کا مقصد امت کو ٹوٹنے سے بچانا تھا۔
  3. اپنی حقانیت کا شعور اور حجت کا قیام: علیؑ جانتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے انھیں غدیر خم جیسے مقامات پر واضح طور پر اپنا جانشین قرار دیا ہے۔ اس لیے انہیں اپنے حق کے لیے لڑنے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ انہوں نے اپنی خاموشی کے ذریعے تاریخ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ حق کس کے ساتھ تھا۔ یہ خاموشی درحقیقت قیامت تک کے لیے ایک حجت تھی۔

سکوت کے مثبت اور منفی اثرات

علیؑ کے اس طویل سکوت کے اسلام اور مسلمانوں پر گہرے اور دور رس نتائج مرتب ہوئے، جن کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔

مثبت اثرات

* اسلام کی بقا اور استحکام: سب سے بڑا مثبت اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں میں فوری طور پر کوئی بڑی خانہ جنگی نہیں ہوئی اور اسلام کا نیا پودا جو ابھی لگایا گیا تھا، اسے پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اس سکوت کی وجہ سے اسلام جزیرہ نما عرب سے نکل کر دنیا کے بڑے حصوں تک پہنچا۔

* علمی و فکری مرکزیت: اس پچیس سال کے عرصے میں علیؑ نے خود کو ظاہری سیاست سے دور رکھ کر علمی اور روحانی میدانمیں مسلمانوں کی رہنمائی جاری رکھی۔ انہوں نے مسجد کوفہ اور مدینہ میں اپنی علمی محفلیں جاری رکھیں جہاں سے فقہ، حدیث اور کلام کے چشمے پھوٹے اور مسلمانوں کی علمی پیاس بجھائی گئی۔ آج بھی نہج البلاغہ اور ان کے اقوال سے امت مسلمہ کی فکری رہنمائی ہوتی ہے۔

* صبر اور استقامت کی مثال: علیؑ نے اپنی ذات کو اسلام کے مفاد پر قربان کر کے امت مسلمہ کے لیے صبر اور استقامت کی ایک ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے دکھایا کہ بعض اوقات دین کی بقا کے لیے حق کو وقتی طور پر چھوڑنا بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوتا ہے۔

منفی اثرات

* خلافت کا انحراف: اس سکوت کا سب سے بڑا منفی اثر یہ ہوا کہ خلافت کا وہ اصل راستہ جو رسول اللہ ﷺ نے طے کیا تھا، اس سے انحراف ہو گیا۔ اس کے بعد خلافت کا نظام ملوکیت اور بادشاہت کی طرف مڑ گیا، جس کے نتائج بعد کی صدیوں میں بہت منفی رہے۔

* امت میں فکری تقسیم: اگرچہ علیؑ کی خاموشی کا مقصد اتحاد تھا، لیکن اس کے نتائج میں مسلمانوں میں فکری اور اعتقادی طور پر ایک گہری تقسیم پیدا ہو گئی۔ کچھ لوگ علیؑ کو فوراً میدان میں نہ آنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے رہے، جبکہ کچھ لوگ ان کے صبر کی حکمت کو سمجھتے تھے۔ یہ تقسیم آج بھی مختلف مکاتبِ فکر میں نظر آتی ہے۔

* حق اور باطل کا اختلاط: علیؑ کی خاموشی نے لوگوں کو حق اور باطل میں فرق کرنے میں الجھا دیا۔ چونکہ حق (علیؑ) نے خاموشی اختیار کی اور باطل نے اقتدار سنبھال لیا، تو لوگوں کو حق و باطل میں فرق کرنے میں دشواری پیش آنے لگی۔ اس سے بعد میں آنے والے فتنوں کو تقویت ملی۔

نتیجہ

علیؑ کی پچیس سالہ خاموشی ایک ایسا فیصلہ تھا جو صرف اور صرف خدائی حکمت پر مبنی تھا۔ یہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس میں ایک عظیم روحانی اور تاریخی بصیرت پوشیدہ تھی۔ یہ خاموشی بظاہر ایک سکوت تھی، مگر درحقیقت یہ حق کی حفاظت، امت کی بقا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم درس تھا۔ اس خاموشی نے ہمیں صبر، حکمت، اور اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کیا۔

یہ خاموشی آج بھی ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات حق کے لیے سب سے بڑا جہاد زبان اور تلوار سے نہیں، بلکہ صبر اور حکمت سے ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ten + 13 =