سیاسیات- نئی دہلی: بھارتی لوک سبھا سے منظور ہونے کے بعد متنازع وقف ترمیمی بل ایوان بالا راجیا سبھا میں بھی پیش کر دیا گیا۔
بھارتی لوک سبھا نے گزشتہ روز حکومت کی جانب سے پیش کردہ متنازع ’وقف ترمیمی بل‘ منظور کر لیا تھا جس کی کانگریس ارکان کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق متنازع بل کو اب بھارتی ایوان بالا راجیا سبھا میں بھی پیش کردیا گیا ہے جہاں بل کی منظوری کےلیے 236 اراکین میں سے119اراکین کی حمایت درکارہوگی۔
دوسری جانب متنازع وقف ترمیمی بل کےخلاف کانگریس کے بعد اب سخت گیر ہندو تنظیم شیوسینا بھی بول پڑی ہے۔
ایوان بالا میں مہاراشٹرا سے شیوسینا کے رکن سنجے راوت نے کہا مودی حکومت مسلمانوں کے بارے میں اتنی فکرمند ہو رہی ہے جتنا شاید محمد علی جناح بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔
شیوسینا رکن اسمبلی نے کہا مسلمانوں کو دہشتگرد اور غدار کہنے والی بےجے پی کا مسلمانوں کی وقف جائیدادیں بیچ کرمسلمان لڑکیوں کی شادی کروانےکا اعلان دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔