سیاسیات- فلسطینی وکیل غید قاسم نے کہا ہےکہ قابض اسرائیلی حکام نے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ سے پانچ بار وحشیانہ انداز میں پوچھ گچھ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا، اس دوران انہیں نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کا نشانہ بنایا گیا۔
ابو صفیہ کی وکیل نے پریس بیانات میں مزید کہا کہ قابض فوج نے ڈاکٹر ابو صفیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، مارا پیٹا اور بدسلوکی کی۔
انہوں نےکہاکہ قید ڈاکٹر نے وفر جیل میں 25 دن قید تنہائی میں گزارے، جہاں ان سے کئی بار پوچھ گچھ کی گئی، جن میں سے سب سے طویل 13 دن تک جاری رہی۔ “ڈاکٹر حسام ابو صفیہ عوفر جیل میں جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر تھک چکے تھے‘‘۔
قیدی فلسطینی ڈاکٹر کی خاتون وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے بتایاکہ “ڈاکٹر حسام ابو صفیہ سے پانچ بار پوچھ گچھ کی گئی جس کے دوران ان پر نفسیاتی اور جسمانی دباؤ ڈالا گیا۔ بدقسمتی سے انہیں تشدد، مار پیٹ اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا”۔
انہوں نے مزید کہاکہ “ڈاکٹر حسام ابو صفیہ سے میری آخری ملاقات کے دوران انہوں نے مجھ سے تصدیق کی کہ آیا ان کے بیٹے کو دفن کیا گیا ہے اور اسے کہاں دفن کیا گیا ہے”۔ انہوں نے مزید کہاکہ “جب ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو معلوم ہوا کہ جنگ پھر شروع ہوگئی ہے تو وہ بہت پریشان ہوئے‘۔
غید قاسم نے بتایا کہ قید کے دوران ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی واحد تشویش غزہ کی پٹی میں طبی عملہ اور زخمیوں اور نرسوں کی حالت تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو ایک غیر قانونی جنگجو کے طور پر قید کیا گیا تھا، لیکن انہیں ابھی تک کسی الزام کا سامنا نہیں۔
سابقہ بیانات میں خاتون وکیل نے کہا کہ کمال عدوان کے ڈائریکٹرڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو بدنام زمانہ سدی تیمان جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا اور اسے 14 دن کے لیے قید تنہائی میں رکھا گیا۔