اکتوبر 19, 2024

 بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادکاری کے نو آبادیاتی منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا

سیاسیات۔ بھارت 1947ء سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادکاری کے نو آبادیاتی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے تقسیم برصغیر کے فارمولے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے 27 اکتوبر 1947ء کو سری نگر کے ہوائی اڈے پر فوج اتار کر کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے برخلاف جموں و کشمیر پر قبضہ جما لیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اگست2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت غیر قانونی طور پر ختم کر کے علاقے میں آباد کاری کے نو آبادیاتی منصوبے میں تیزی لائی، اس نے مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل قوانین تبدیل کیے اور وہ اب تک لاکھوں بھارتی ہندوﺅں کو علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دے چکی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بھارت ایک منصوبہ بند طریقے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادکار ی کے استعماری ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے اور یہ بالکل اسی طرح کا ایجنڈہ ہے جس پر اسرائیل کی صیہونی حکومت فلسطینی علاقوں میں عمل پیرا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں جو اقدامات کر رہا ہے وہ جموں و کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری نو آبادیاتی بھارتی منصوبے کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے ایک موثر کردار ادا کریں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

3 + 6 =