سیاسیات- پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ انہوں نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے آئینی عہدوں کے لیے ووٹ مانگا ہے جبکہ مشترکہ جہدوجہد کی بھی بات کی ہے۔
پی ٹی آئی نے منصفانہ الیکشن کے لیے ملک گیر اتحاد قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا۔ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد اسد قیصر نے میڈیا کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمان سے بات چیت مثبت رہی، مولانا فضل الرحمان اور ہمارا مؤقف ایک ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ ہم نے ناصرف وزیراعظم کا ووٹ مانگا بلکہ مشترکہ جدوجہد پر بات ہوئی۔
پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ عوام کا حق ہے، وہ جس کو چاہے مینڈیٹ دے۔ پاکستان کی تاریخ کے بدترین الیکشن ہوئے، آج جن لوگوں نے حلف اٹھایا، ان کو پتہ ہے کہ وہ منتخب نہیں ہوئے۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے صرف ووٹ کی بات نہیں کی، سول بالادستی کی بات بھی ہوئی ہے۔ ہم پارلیمنٹ میں سول بالادستی کے لیے اکٹھے چلیں گے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کی جانب سے نامزد وزیراعظم عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ نون نے ہمارا مینڈیٹ چرایا ہے، ان سے بات نہیں ہوگی۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا مؤقف واضح ہے، پیپلز پارٹی بھی مینڈیٹ چوری میں حصہ دار ہے۔ رہنماء تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہم ایک نکاتی ایجنڈے پر ملک گیر الائنس بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ون پوائنٹ ایجنڈے پر سیاسی جماعتوں سے بات کریں گے۔ ہم سب کو پتہ ہے کہ دھاندلی کس نے کروائی ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ نئے جعلی فارم 45 بنائے جا رہے ہیں، اس حکومت کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ ملک میں آئین کی بالادستی نہ ہوئی تو آگے نہیں بڑھ سکتے۔