سیاسیات- نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان علینہ فاروق نے کہا کہ عام انتخابات نوے روز میں کرانے کے لئے معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پاکستان بار ایسوسی ایشنز کا نوے دن میں الیکشن کرانے کے لیے اصرارہے پیپلز پارٹی کا بھی نوے دن کے اندر الیکشن کرانے کا مطالبہ سامنے آگیا۔
اپنے پینل کے سامنے پہلا سوال رکھیں گے کیا نون لیگ اس معاملے میں اکیلی رہ گئی ہے؟اس پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ نون لیگ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر چاہتی ہے ،ایک دوسرے سوال پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ عمران خان جیل سے باہر آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں اسی لیے یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ تحریک انصاف اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اپنے معاملات ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔
سنیئر صحافی عمر چیمہ نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا نون لیگ تنہا ہوگئی ہے کیوں کہ نون لیگ کے ساتھ مضبوط ترین پارٹنر موجود ہے۔
پہلے ایک پیج کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی جبکہ ابھی ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے ایک سطر پر ہیں ۔ تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ معاملات اسٹبلشمنٹ کے مطابق چلتے ہیں۔
نون لیگ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر چاہتی ہے ۔ وہ امید کر رہے ہیں سعودی عرب سے امداد کی، اس سے ڈالر کو قابو کیا جاسکے گا اور پھر مہنگائی میں کمی آنے کی بھی امید کی جاسکتی ہے۔
تجزیہ کار محمل سرفراز نے کہا کہ جے یو آئی ف اور ایم کیو ایم بھی الیکشن میں نوے روز کی ڈیمانڈ نہیں کر رہے ہیں تو یہ کہنا کہ نون لیگ اکیلی رہ گئی ہے صحیح نہیں ہے۔پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ سندھ میں جیت جائے گی اس لیے وہ نوے دن میں الیکشن کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کار شہزاد اقبال نے کہا کہ نون لیگ اکیلی نہیں ہے اس غیر آئینی وقانونی کام میں ایم کیو ایم ، جے یو آئی ف اور دوسری جماعتیں ان کے ساتھ ہیں اس کے علاوہ غیر سیاسی قوتیں بھی ہیں جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی اس کا حصہ ہے نگراں حکومت بھی اس میں شامل ہے آج صدر پاکستان کو ایڈواز دے دی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے اور الیکشن ایکٹ کو دیکھا جائے گا آئین یہاں پر لاگو نہیں ہوتا اور مقتدر حلقے بھی یہی چاہتے ہیں کہ الیکشن وقت پر نہ ہوں۔پی ٹی آئی کے ووٹر نے اپنا ذہن بنایا ہوا ہے الیکشن وقت پر ہوں یا تاخیر سے فرق نہیں پڑے گا۔
اس وقت گرفتاریاں ہیں منظور قادر گرفتار ہوئے ہیں مکیش چائولہ اور دیگر لوگوں کا نو فلائی لسٹ پر ہونا اور جو سسٹم بریک کرنے کی بات ہم سن رہے ہیں اس وجہ سے پیپلز پارٹی دباؤ ڈالنا چاہ رہی ہے نوے دن میں الیکشن کی ڈیمانڈ کر کے اگر ان کے معاملات درست ہوگئے تو وہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔
تجزیہ کار اعزاز سید نے کہا کہ سولہ ستمبر تک عمر عطا بندیال چیف جسٹس آف پاکستان ہیں وہ کوئی بھی حکم دے سکتے ہیں۔ لیکن آج کل ان کے آرڈر پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔سپریم کورٹ کے ساتھ جب طاقت کے مراکز کھڑے تھے تو ان کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوتا رہا ہے نوازشریف کی مثال سامنے ہے ۔