تحریر: محمد ثقلین واحدی
یوں تو یوم القدس ہر سال دنیا بھر میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ مگراس سال غزہ کی گلیوں میں معصوم فلسطینیوں کا بہتا خون بیت المقدس کی آزادی کی نوید لیکر آیا ہے اس سال کا یوم القدس شہید سید حسن نصر اللہ، شہید اسماعیل ہنیہ، شہید السنوار اور شہید صفی الدین کے پاک و بے گناہ خون میں غلطاں ہے یہ دن انقلاب ایران کے بعد پہلی مرتبہ بانی انقلاب امام خمینی (رحمت اللہ علیہ) کے حکم پر 1979 میں منایا گیا تھا، جب انہوں نے ہر سال ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کا مقصد فلسطینی عوام کی حمایت کرنا اور عالمی برادری کی توجہ قبلہ اول بیت المقدس کی مقدس سرزمین کی طرف مبذول کرنا ہے۔
یوم القدس کا دن نہ صرف فلسطینی عوام کی جدوجہد کی علامت ہے بلکہ یہ مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کا بھی مظہر ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدس کی سرزمین مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ مگر اس سال کی اہمیت کچھ الگ ہے جب مسجد اقصی کی دیواروں سے آزاد فلسطین کی صدا گونج رہی ہے بے گناہوں کا بہتا کون زیتون کی آبیاری کر رہا ہے اس سال کا یوم القدس فلسطینیوں کی ایسی مظلومیت کے ساتھ منایا جا رہا ہے جس نے صیہونی قاتل جرائم کو بے نقاب کیا اور ان جرائم کے سامنے خاموش رہنے والی حکومتوں کو رسوا و ذلیل کیا۔ صیہونی پشت پناہ اور دنیا بھر میں تمام برائیوں کی جڑ امریکہ کی روڈز سے لے کر یورپ کے تعلیمی اداروں تک آزاد فلسطین کا نعرہ اب صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ جاگتے ضمیروں کا انقلاب اور دھڑکتے دلوں کی آواز ہے۔
سال 2025 کا یوم القدس مستقبل قریب کا آئینہ دار ہے۔ وہ دن قریب ہے جب فتح کا پرچم مسجد مقدس اقصیٰ کے سنہری گنبد پر لہرائے گا اور دنیا کو یہ بتائے گا کہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
فلسطینی عوام کی جدوجہد یوں تو صدیوں سے جاری ہے مگر سات اکتوبر2023 کے بعد جیسے جیسے امریکی سرپرستی میں صیہونی مظالم بڑھتے گئے اسرائیلی قبضے کے خلاف ان کی مزاحمت اور قربانیاں بھی بڑھتی گئی جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ اپنی سرزمین اور حقوق کے لیے کتنے پُرعزم ہیں۔ کربلائے غزہ میں صیہونی مظالم اور محاصرے کے دوران معصوم بچوں کے تڑپتے لاشے، بے کس ماوں کی فریادیں امت کے لئے یہ پیغام ہے کہ بکھرو گے تو مٹ جاو گے اب بھی وقت ہے کہ قبلہ اول کی آزادی کے لئے کھڑے ہو جاو یوم القدس کے موقع پر دنیا بھر میں مظاہرے، ریلیاں، احتجاج اور دیگر سرگرمیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمیں اپنے اصولوں کے لیے اٹھ کھڑے ہونا چاہیے او مظلوموں کی حمایت سے ایک انچ پیچھے نہیں ہَٹنا چاہیئے۔ یہ دن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اتحاد اور یکجہتی کی طاقت سے ہم بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس دن کو صرف ایک یادگار کے طور پر نہیں بلکہ ایک عزم کے طور پر منانا چاہیے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کی آزادی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اے اہل فلسطین تم یعقوب کے یوسف کی طرح حسیں ہو جنہیں انکے بھائیوں نے دھوکہ دیا اور تمہیں تمہارے بھائی (عرب) دھوکہ دے رہے ہیں حضرت یوسف کو انکے بھائیوں نے کنویں میں پھینکا تھا مگر تمہیں تو صیہونی مذبح خانوں میں ہاتھ پاوں باندھ کر پھینکا گیا ہے۔