اگست 31, 2025

تحریر: بشارت حسین زاہدی

کربلا کا پیدل سفر جسے "مشی” کہا جاتا ہے، ہر سال اربعین کے موقع پر ایک ایسا بے مثال منظر پیش کرتا ہے جو نہ صرف عراق بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں عشق حسین (ع) کی شمع کو مزید روشن کر دیتا ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ تاریخ، عقیدت، اور انسانی ہمدردی کا ایک ایسا امتزاج ہے جو کربلا کے تاریخی پس منظر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

تاریخی پس منظر

اربعین کا تعلق امام حسین (ع) کی شہادت کے چالیسویں دن سے ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق، اس دن اہل بیت (ع) کی خواتین اور امام سجاد (ع) شام کی قید سے رہائی کے بعد واپس کربلا پہنچے تھے، جہاں انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے ملاقات کی۔ جابر بن عبداللہ، جو ایک نابینا صحابی تھے، مدینہ سے پیدل چل کر کربلا آئے تھے تاکہ امام حسین (ع) کی قبر کی زیارت کر سکیں۔ یہ واقعہ مشی کی بنیاد بنا، جس نے بعد میں ایک عظیم مذہبی روایت کی شکل اختیار کر لی۔ کربلا کی مشی دراصل امام حسین (ع) کے غم میں اظہار عقیدت کا ایک طریقہ ہے، جو ان کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔

عراقیوں کی فداکاری اور مہمان نوازی

مشی کو عالمی سطح پر جو پہچان ملی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ عراقی عوام کی بے مثال مہمان نوازی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ لاکھوں زائرین کو کئی کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرنا پڑتا ہے، اور اس پورے سفر میں عراقیوں نے نہ صرف انہیں رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کی ہیں بلکہ اپنی فداکاری کا ایک نادر نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ کربلا اور نجف کے درمیان کے راستے پر ہزاروں کی تعداد میں ‘مواكب’ (خدمت کے مراکز) قائم ہوتے ہیں، جہاں زائرین کے لیے ہر قسم کی ضروریات کا انتظام کیا جاتا ہے۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی کمائی لگا کر زائرین کی خدمت کرتے ہیں، انہیں مفت کھانا، پانی، طبی امداد اور رہائش فراہم کرتے ہیں۔

اس خدمت کا جذبہ اس قدر بے لوث ہے کہ لوگ زائرین کے قدموں میں گر کر انہیں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر عالمی میڈیا اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسا کون سا جذبہ ہے جو ایک قوم کو بغیر کسی لالچ کے اس قدر فداکاری پر مجبور کر دیتا ہے؟ اس کا جواب کربلا کی محبت میں پوشیدہ ہے۔ عراقی عوام اس خدمت کو امام حسین (ع) کے لیے ایک ہدیہ سمجھتے ہیں، جس میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔

مشی کے عالمی اثرات

مشی صرف ایک مذہبی سفر نہیں، بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ مختلف ممالک، زبانوں اور نسلوں کے لوگ ایک ہی مقصد کے تحت کربلا کی جانب پیدل سفر کرتے ہیں۔ یہ سفر نسلی، لسانی اور طبقاتی اختلافات کو ختم کر دیتا ہے اور انسانی اتحاد کا ایک طاقتور پیغام دیتا ہے۔عالمی نگاہ میں مشی کے اثرات درج ذیل ہیں:

  1. انسانی اتحاد کا مظاہرہ: دنیا بھر سے لوگ کربلا کے راستوں پر ایک ساتھ چلتے ہیں۔ اس میں شیعہ، سنی، عیسائی اور دیگر مذاہب کے افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ سفر عالمی سطح پر انسانیت اور بھائی چارے کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جو آج کے پرآشوب دور میں بہت ضروری ہے۔
  2. عالمی امن کا پیغام: مشی کے دوران زائرین ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ رواداری اور امن کا ایک ایسا پیغام ہے جو دہشت گردی اور نفرت کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بنتا ہے۔
  3. غیر مسلموں پر اثرات: بہت سے غیر مسلم صحافی، محققین اور سیاح بھی اس عظیم اجتماع کا حصہ بنتے ہیں۔ وہ خود اپنی آنکھوں سے عراقیوں کی بے مثال مہمان نوازی اور اس اجتماع کے نظم و ضبط کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ تجربہ انہیں اسلام اور اس کی اخلاقی تعلیمات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

نتیجہ

کربلا کی مشی ایک ایسا پرعظمت سفر ہے جو تاریخی، مذہبی اور اخلاقی اقدار کا خوبصورت مجموعہ ہے۔ اس نے نہ صرف عراق کی پہچان کو مضبوط کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی اتحاد، بھائی چارے اور بے لوث خدمت کا ایک بے مثال نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ یہ سفر ہر سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر دلوں میں محبت ہو تو کوئی بھی رکاوٹ بڑی نہیں ہوتی، اور اسی محبت کی وجہ سے کربلا آج بھی دنیا کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

3 × five =