تحریر: محمد حسنین امام
امر بالمعروف:
امر بالمعروف ونہی عن المنکر اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے ۔ جب شرائط موجود ہوں تو ہر مسلمان پرامر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے۔لیکن بدقسمتی سے امام حسینؑ کوایسے لوگوں کا سامنا تھا جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے بجائے امربالمنکر اور نہی عن المعروف کرتے تھے۔ آپ کے قیام کا ایک بنیادی مقصد امر بالمعروف ونہی عن المنکر تھا۔ جس کی طرف آپ نے مدینہ سے نکلتے وقت توجہ مبذول کرائی:”ارید ان أمر بالمعروف وانہیٰ عن امنکر” میرا ارادہ یہ ہے کہ میں امر بالمعروف اور نہی از منکر کروں”۔مسلمانوں کا یہ وظیفہ بنتا ہے کہ وہ خود بھی اچھے افعال انجام دیں اور برے کاموں سے پرہیز کریںاور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں، حق پر عمل پیرا ہوں اور باطل سے پرہیز کریں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں۔لیکن امام ؑ کے دور میں حق پر عمل نہیں ہو رہا تھا اور باطل سے پرہیز نہیں کیا جا رہا تھا۔ یہی اسباب تھے جن کی وجہ سے امام نے قیام کےا۔ ایک مقام پرآپؑ فرماتے ہیں :” الا ترون ان الحق لا یعمل بہ وان الباطل لا یتناھی عنہ””کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور باطل سے نہی نہیں ہو رہی ہے”۔(شرح الاخبارج3، ص150، بحار ج75 ص116، کشف الغمۃ ج2، ص32، تحف العقول، ج1، ص265، نزھۃ الناظر،ج1، ص87)
برائیوں کی روک تھام :جب دین میں بدعت رواج پا جائے اور دین کا چہرہ مسخ کیا جائے تو صاحبان علم کا کیا وظیفہ بنتا ہے ، اس بارے میں روایت موجود ہے
”اذا ظہر البدع فلیظہر العالم علمہ وان لا تفعل فلعنۃ اللّٰہ علیہ”” جب بدعت ظاہر ہوجائے تو عالم کا وظیفہ یہ بنتا ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور بدعت کا خاتمہ کرے اگر ایسا نہ کرے تو اس پرخدا کی لعنت ہو گی”۔
(اصول کافی ج ١ ص ٥٤، وسائل الشیعہ ج ١٦ ص ٢٦٩)
رسول اسلام ؐ کے بعد بدعتوں کا رواج پانا شروع ہوا۔ امام حسین ؑکے زمانے میں اس حد تک بدعتیں رواج پا چکی تھیں کہ دین محمدیؐ کا چہرہ مسخ کردیا گیا تھا۔ اس وقت روئے زمین پر آپ سے زیادہ کوئی عالم شخص موجود نہیں تھا ۔ امام کا یہ وظیفہ بنتا تھا کہ آپ اس بدعت کے خاتمہ کے لئے قیام کریں۔ اور امام ؑ نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دی۔امام ؑ ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ :” ادعوکم الی کتاب اللّٰہ وسنۃ نبیہ فان السنۃ قد امیتت فان تجیبوا دعوتی وتطیعوا امری اھدکم سبیل الرشاد”
میں تمہیں کتاب خدا اور سنت نبی ؐ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ بتحقیق سنت کو ختم کیا گیا ہے اگر تم میری دعوت کوقبول اورمیری اطاعت کرو تو میں راہ رشد کی طرف تمہاری ہدایت کروں گا۔
(بحار الانوار ج ٤٤ ص ٣٤٠، مثیر الاحزان ج١ ص ٢٧)
امام حسین ؑ نے حر کے لشکر سے مخاطب ہو کر فرمایا:”ایھاالناس! من رأی سلطاناً جائرا مستحلاًلحرام اللّٰہ ، ناکثاًلعھداللّٰہ ،مستأثراً لفَیء اللّٰہ،معتدیاًلحدوداللّٰہ ،فلم یغیر بقول ولا فعل کان حقاً علی اللّٰہ ان یدخلہ مدخلہ ۔ الا وان ھؤلاء القوم قد احلوا حرام اللّٰہ وحرموا حلالہ واستأثروا فَی ءَ اللّٰہ “(بحار الانوار ج ٤٤ ص ٣٨٢،حماسہ حسینی ج١ص٢٧١)
امام ؑ نے یہاں پر ایک صغری اور کبری ذکر کیا ہے۔ ابتداء میں کبری بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ‘‘ایھاالناس۔۔۔۔” اے لوگو!رسول خدا نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص کسی ظالم وجابر کو دیکھے کہ وہ حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کرتا ہے ، بیت المال کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے، خدا کے قانون میں تبدیلی کرتا ہے ، اور وہ شخص اس حالت میں خاموش بیٹھا رہے تو خدا کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے اس ظالم کا ساتھی قرار دے۔ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام بیان فرماتے ہیں ”ان ھؤلاء القوم۔۔۔۔’‘ یہ قوم (بنی امیہ )جو آج حکومت کر رہی ہے اسی طرح حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کر رہی ہے۔ بیت المال کو ذاتی مقاصد کے لئے خرچ کر رہی ہے ۔ آخر میں فرماتے ہیں :”انا احق من غیرلقربتی من رسول اللّٰہ”میں اپنے نانا کے فرمان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دوسروں سے زیادہ حقدار ہوں ۔
ظالموں کے خلاف مسلسل جہد :
ظالم اور جابر افراد جب تخت حکومت پر بیٹھے ہوں تو وہ نہ کسی پر رحم کرتے ہیں اور نہ کسی قانون کی رعایت۔امام حسین ؑکے دور میں بھی یہی کچھ ہو رہا تھا ۔ آپ ؑ کے دور میں ایسے افراد حکومت پر قابض تھے جو نہ مقدسات دینی کے لئے احترام کے قائل تھے نہ اسلام کی عظمت کے ۔بلکہ کھلے عام دین اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ایسے موقع پر امام ؑنے اپنے اوپر جہاد کو فرض سمجھا اور ظالم اور مفسدوں سے جہاد کرنے نکلے۔ امام ؑ کوفہ کی طرف اسی مقصد کی خاطر نکلے تھے تاکہ وہاں کے لوگوں کو جمع کرکے ظالم حکومت کے خلاف جہاد کریں اور نظام عدل قائم کریں۔
امام حسین ؑ فرزدق سے فرماتے ہیں :
”میں سب سے زیادہ سزاوار ہوں دین خدا کی مدد کے لئے قیام کروں اور اس کی شریعت کو عزت دوں۔ اس کی راہ میں جہاد کروں تاکہ کلام خدا بلند وبالا ہو جائے”۔
احیاء کتاب وسنت :امام ؑ کے زمانہ میں کتاب خدا اور سنت رسولؐ پر عمل کرنا چھوڑ دیا گیا تھااور صاحبان اقتدار اپنے اجداد کے نقش قدم پر چل رہے تھے ۔ خدا کے احکامات اور رسولؐ کی سنت کو پس پشت ڈال چکے تھے۔ امام حسین ؑ نے احیاء کتاب اور سنت رسولؐ کو احیاء کرنا اپنا ہدف قرار دیا۔ مدینہ سے نکلتے وقت آپ نے فرمایا :
”اسیر بسیرۃ جدی وابی”” میں اپنے نانا اور بابا کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں”۔امام ؑ بصرہ کے لوگوں کے نام ایک خط تحریر فرماتے ہیں :” ادعوکم الی کتاب اللّٰہ وسنۃ نبیہ فان السنۃ قد امیتت فان تجیبوا دعوتی وتطیعوا امری اھدکم سبیل الرشاد””میں تمہیں کتاب خدا اور سنت نبی ؐ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ بتحقیق سنت کو ختم کیا گیا ہے اگر تم میری دعوت کوقبول اورمیری اطاعت کرو تو میں تمہیں صحیح راستے کی ہدایت کروں گا”۔
(بحار الانوار ج ٤٤ ص ٣٤٠، مثیر الاحزان ج١ ص ٢٧)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ :”اہل کوفہ نے میرے نام خط لکھا ہے اور مجھ سے چاہا ہے کہ میں ان پاس چلا جاؤں کیونکہ مجھے امید ہے کہ حق کی نشانیاں اور تعلیم زندہ اور بدعتیں ختم ہوجائیں”۔(کلمات امام حسیؑن ص٣٤١)
عدالت خواہی :
امام حسینؑ کا زمانہ ایسا زمانہ تھا جہاں مومنین اور محبان اہل بیت ؑ پر فقط اس جرم میں ظلم ہونے لگا تھا کہ وہ محب اہل بیت ہیں۔اقتدار ظالم ، جابراور دشمنان اہل بیتؑ کے ہاتھ میں تھا۔ جس کی وجہ سے وہ جس پر ظلم کرنا چاہیں اور جب تجاوز کرنا چاہیں کر تے تھے۔ اس کے خاتمہ کے لئے ایک ایسے نظام عدل کی ضرورت تھی جس میں معاشرہ کے کمزور افراد بھی سکون کا سانس لے سکیں۔امام ؑکے قیام کے مقاصد میں سے ایک ، عدالت کا قیام تھا۔جیسا کہ آپ کے سفیر حضرت مسلم ابن عقیل ؑ،دربار ابن زیاد میں اسی بات پر زور دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ حضرت مسلم فرماتے ہیں:” فأتیناہ لنأمر بالعدل وندعو الی حکم الکتاب””ہم یہاں اس لئے آئے ہیں تاکہ عدالت کے ساتھ حکم کریں اور قرآن کے حکم کی طرف دعوت دیں”۔
(الارشاد ج٢ص٦٢)
وفاشعاری :
معرکہ کربلا وفاداری سے بھرا ہوا نظر آتاہے ۔ہر مقام پر وفا کی ایک تصویر دکھائی دیتی ہے ۔اسی وفا داری کو دیکھ کر اباعبداللہ ؑ ارشاد فرماتے ہیں :
”فانی لا اعلم اصحاباً اوفی ولا خیراً من اصحابی”” میں نے اپنے اصحاب سے زیادہ باوفا اور اچھے اصحاب نہیں دیکھے”۔(الارشاد ج٢ص٩١)
خصوصاً حضرت عباس کی وفا مشہور ہے ۔ آپ اس طرح وفا کے حامل تھے کہ اب وفا کا نام سنتے ہی حضرت عباس ذہن میں آتے ہیں ۔ شیخ مفید کتاب ارشاد میں لکھتے ہیں کہ جب شمر ملعون آیا اور کہا کہ :
”انتم یا بنی اختی آمنون ”
“اے میری بہن کے فرزندو!تم امان میں ہو”۔
توحضرت عباس اور آپ کے بھائیوں نے جواب میں فرمایا کہ :
”لعنک اللّٰہ ولعن امانک اتؤمننا وابن رسول اللّٰہ لا امان لہ”
“تم اور تمہارے امان نامے پر خدا کی لعنت ہو، کیا تو ہمیں امان دیتا ہے جبکہ رسول خدا ؐ کے فرزند کیلئے امان نہیں ہے”۔
(الارشاد ج٢ ص ٨٩)