مارچ 29, 2025

ملک ریاض کی نوازشات 

تحریر: سید اعجاز اصغر

پاکستان میں امیر تو امیر تر ہو گیا اور غریب اپنی غربت میں غریب ترین سطح پر پہنچ گیا، مگر ریاست پاکستان غربت کو ختم کرنے کی بجائے مافیا کی امارت میں بے ہنگم انداز میں اضافہ کرتی گئی، مافیا ازم کو پروان چڑھانا پاکستان میں انتہائی گھناؤنی سازش ہے، قانون کے شکنجے صرف غریب لوگوں کے لئے بنائے گئے ہیں، طاقتور مافیا قانونی تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے قانون نظام کو نہ صرف کمزور سمجھتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کو اپنا مطیع سمجھ کر پاکستان میں جنگل کے قانون کا راج قائم کر چکی ہے،

سیاست دانوں کا عروج و زوال تو پاکستان میں خیر ایک معمول کی کہانی ہے مگر ملک ریاض پر زوال سازوں کا ہاتھ پڑنا غیر معمولی ہے۔جرنیلوں، ججوں، سیاستدانوں، صحافیوں اور وکیلوں میں کون ہے جس نے ملک ریاض  کے عزائم کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے میں ان  کی اعانت نہیں کی اور اس کے  بدلے میں اسے نوازا نہ گیا ہو۔

‏آصف علی زرداری  سے نواز شریف تا پرویز مشرف تا عمران خان جو بھی باوردی یا بلا وردی آیا، سب کو زوال آتا چلا گیا مگر ملک صاحب پھلتے پھولتے گئے۔

پاکستانی حکمرانوں سے ملک ریاض کے خفی اور جلی روابط کی طرف جس میں آصف علی زرداری کو کوئی نہیں کاٹ سکتا۔ ان کی دوستی کی ایک پکی نشانی بحریہ ٹاؤن لاہور کا بلاول ہاؤس ہے.جس کے بارے میں کبھی عمران خان نے فرمایا تھا:

‏’اسلام آباد (آئی این پی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے صدر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قوم کو آگاہ کریں کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کی جانب سے تحفے میں دیے گئے 5 ارب روپے کے لاہور میں تعمیر کیے گئے محل بلاول ہاؤس کے عوض انہوں نے ملک ریاض کو کیا فائدے دیے ہیں، اپنے ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے صدر زرداری کو لاہور میں 200 کنال پر محیط ایک محل تحفہ کے طورپر دیا ہے، ملک ریاض کے اس قیمتی تحفہ کا نہ تو چیئرمین نیب نے نوٹس لیا اور نہ کسی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے اس جانب توجہ کی۔‘

‏ملک ریاض کے صرف آصف زرداری اور رحمان ملک سے نہیں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت تمام سیاستدانوں سے تعلقات اور دوستی ہے

نواز شریف کا کہنا ہے کہ  2014 میں  دھرنے کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام نے انہیں استعفا دینے کا پیغام بھجوایا جسے انہوں نے رد کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم تک یہ اہم پیغام ملک ریاض ہی لے کر گئے تھے، اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان معاہدہ بھوربن کے وقت بھی ملک ریاض خاصے سرگرم رہے تھے

‏2014 میں جناب نے حیدر آباد میں الطاف حسین کے نام پر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا،یہ عظیم الشان علمی منصوبہ الطاف حسین کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بگڑنے کی وجہ سے ٹھپ ہو گیا اور ان کے نام پر یونیورسٹی تو کیا میڈیا میں ان کا نام لینے پر ہی پابندی لگ گئی اور انہیں بانی ایم کیو ایم کہا جانے لگا، جس طرح اب  عمران خان  ‘بانی پی ٹی آئی’ ہو گئے ہیں

ان کی مرضی سے انسدادِ کرپشن کے لیے قائم  نیب کے سربراہوں کی تقرری بھی ہوتی رہی ہے

ایک زمانہ اگر وہ  تھا جس میں نیب چئیرمین کی تعیناتی میں ملک ریاض کی رضا شامل ہوتی تھی تو اب ایک زمانہ یہ ہے جس میں نیب ان کے خلاف جاری اعلامیے میں بتاتی ہے کہ اس  کے پاس ملک ریاض کے خلاف سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

‏عدلیہ کا کیا کہیں؟ آج تک یہی کُھل کے سامنے نہیں آ سکا کہ دبنگ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے صاحبزادے ارسلان افتخار کا ملک ریاض سے کیا مفاداتی رشتہ تھا۔ اس سکینڈل میں سزا و جزا کا کیا ہوا؟

یاد رہے کہ افتخار محمد چودھری اور ملک ریاض کی اس کھلی عداوت میں عمران خان نے افتخار چودھری کا ساتھ دیا اور یہ مطالبہ کیا تھا:

‘ ملک ریاض نے پاکستان کو نیلام گھر بنا دیا ہے، وہ قرآن ہاتھ میں پکڑ کر بتائیں کہ اب تک کن سیاستدانوں ،جرنیلوں، بیورو کریٹس اور صحافیوں کو پیسے دیے

‏کئی برس پہلے آپ نے ایک انٹرویو میں فرمایا کہ زمین کا کام تو ہزاروں لوگ کرتے ہیں مگر میں شاید ’سسٹم‘ کو ان سے تھوڑا بہتر سمجھتا ہوں۔ فائل آگے بڑھانے کے لیے اس میں اضافی پہیے لگانے پڑتے ہیں۔

ملک صاحب نے کبھی یہ تاثر نہیں جھٹلایا کہ اُن کے پاس ویڈیوز اور تصاویر کا سب سے بڑا نجی خزانہ ہے۔

‏اب انتظار ہے کہ سیاست کو قابو میں رکھنے والا اسٹیبلشمنٹ کا ’تراشیدم ، پرستیدم ، شکستم‘ کا عشروں پرانا نسخہ ملک صاحب پر بھی کارگر ہوتا ہے کہ نہیں۔

لگتا ہے اس بار گیم کچھ اور ہے۔ کچھ سیاسی، کچھ مالی، کچھ مفاداتی اور کچھ انائی۔ مک مکا ہو گیا تو خیر ہے ورنہ کوئی اور مافیا ازم پر نوازشات کی برسات کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا، جبر و ظلم تو غربا اور مساکین پر مافیا کے مسلط کردہ نظام کی بدولت رائج ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

twelve − ten =