مارچ 30, 2025

مسئلہ فلسطین کی اہمیت اور مسلم امہ کی ذمہ داریاں

تحریر: محمد ثقلین واحدی

مسئلہ فلسطین مسلم امہ کے مشترکہ موضوعات میں سب سے اہم ترین اور کلیدی ترین مسئلہ ہے، کیونکہ ایک ایسا مسلمان ملک جو کئی حوالوں سے مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسے اس کے باسیوں سے چھین کر مختلف ممالک سے لائے گئے غیر قانونی اور غاصب افراد کے حوالے کیا  جا رہا ہے۔ فلسطینوں پر ان کی اپنی ہی زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ آئے روز ظلم و ستم اور قتل و غارت کا سلسلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے، غاصب صیہونیوں کو روکنے کیلئے کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی۔ قدس جو کہ عالم اسلام کا حساس ترین نقطہ ہے، وہاں ایک غاصب اور جعلی ریاست کو تشکیل دیا گیا، نہ صرف تشکیل دیا گیا بلکہ اسے مسلسل  غاصبانہ طریقے سے وسعت دی جا رہی ہے۔ حماس اور اس جیسی مزاحمتی تنظیمیں، جو اپنی زمین کے دفاع کیلئے کھڑی ہیں، ان کو دہشت گرد اور متشدد کے ناموں سے پکارا جاتا ہے، مگر غاصب اسرائیل کو کوسنے والا کوئی نہیں، جس کی دہشت گرد آرمی مسلم امہ کے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ میں مقدسات کی توہین کے ساتھ ساتھ نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کی جانوں کے ساتھ کھیلتے نظر آتی ہے۔

یاد دلاتا چلوں کہ صہیونیزم نہ صرف فلسطین بلکہ پورے انسانی معاشرے کیلئے ایک بہت بڑا سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی خطرہ ہے، جس نے دنیا کے دیگر علاقوں پر اپنا تسلط اور قبضہ جمانے کے لئے اس حساس ترین نقطے یعنی قدس کو اپنا مرکزی وسیلہ اور محور قرار دیا ہے۔ بنیادی طور پر ناجائز صیہونی حکومت کی تشکیل کا طریقہ اور روش ہی ایسی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور مظالم سے باز ہی نہیں آسکتی، کیونکہ اسرائیلی وجود اور تشخص فلسطین کے وجود اور تشخص کی نابودی پر منحصر ہے۔ صیہونی حکومت کا ناجائز وجود صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتا ہے، جب فلسطین دنیا کے نقشے سے محو ہو جائے۔ اسی لئے فلسطینی تشخص کی حفاظت اور اس کی پاسداری ایک مقدس فریضہ ہے۔ جب تک فلسطین کا نام، بیت المقدس کا ذکر اور فلسطینی مزاحمت و استقامت جاری رہے گی، اس وقت تک غاصب و ناجائز اسرائیلی حکومت کی بنیادوں کا مستحکم ہونا ناممکن رہے گا۔

عظیم ملت فلسطین جو عالمی صیہونیزم اور اس کے حامیوں سے مقابلے کا سنگین بوجھ اکیلے ہی اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے ہے اور اسرائیلی غنڈہ گردیوں کے مقابلے میں مستحکم اور ثابت قدم ہے، فلسطینی عوام کی وحشیانہ سرکوبی، وسیع پیمانے پر گرفتاریاں، قتل و غارت، اس قوم کی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ اور وہاں ہر غیر قانونی کالونیوں کی تعمیر، مقدس شہر قدس اور مسجد الاقصیٰ، اسی طرح اس شہر میں واقع دیگر اسلامی مقدس مقامات کی شناخت اور ماہیت تبدیل کرنے کی کوششیں، شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی اور دوسرے بہت سے مظالم بدستور جاری ہیں اور انہیں امریکہ اور مغربی حکومتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور افسوس کہ اس پر مسلم امہ کی جانب سے کوئی مناسب ردعمل بھی سامنے نہیں آیا، خصوصاً عرب ممالک کی اسرائیل دوستیاں جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔

اسرائیل کے بڑھتے مظالم، آئے روز مسجد مقدس اقصیٰ میں نمازیوں کی توہین کے سدباب کے لئے آج کا دن یعنی یوم القدس ایک ایسا عالمی دن ہے، جس کو مستکبرین کے مقابل کھڑے ہونے کا دن قرار دیا گیا ہے تو اس سلسلے میں ہماری یعنی مسلم امہ کی کچھ ذمہ داریاں ہیں، جن کو اگر ہم بطریق احسن ادا کریں تو یقیناً اسرائیل کے بڑھتے قدم رک سکتے ہیں۔
1۔ اسرائیل کا بائیکاٹ (اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے روابط، چاہے وہ تجارتی ہوں یا سیاسی، قطع کر دینے چاہیں۔ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیئے۔ الغرض کوئی بھی ایسا کام کرنے سے اجتناب کریں، جس سے ذرہ برابر بھی اس ناجائز ریاست کو فائدہ ہو۔
2۔ اتحاد و وحدت (مسلم امہ کو چاہیئے کہ آپس کے تمام اختلافات کو بھلا کر اس مرکزی نقطے پر اپنی توجہ مرکوز کریں اور دشمن کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے  آپس میں اتحاد و وحدت کی  فضا پیدا کریں۔

3۔ ماہ رمضان کے آخری جمعۃ المبارک کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہوئے گھروں سے نکلیں اور اسرائیل مخالف جلوسوں و ریلیوں میں بھرپور شرکت کریں۔
4۔ مزاحمتی محاذ کی حمایت ہم سب کا فریضہ (تمام اسلامی ممالک کا فریضہ ہے کہ فلسطین کے اہداف کی اور مزاحمتی محاذ کی ہمیشہ حمایت کریں۔)
5۔ ہم وطن پاکستانیوں کا فریضہ (وطن عزیز میں بسنے والے عزیز پاکستانی ہمیشہ فلسطینی مظلوم قوم کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہوئے یوم القدس کے جلوسوں میں بھرپور شرکت کریں اور اپنے قائد کا فرمان یاد رکھیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح رح نے فرمایا تھا: “اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جسے امت کے قلب میں گھسایا گیا ہے، اس کو پاکستان کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔”)

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

one × 1 =