اگست 30, 2025

تحریر: بشارت حسین زاہدی

​14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک ایسی ریاست کا خواب تھا جہاں مسلمان اپنے دین، ثقافت اور اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔ یہ ایک نظریاتی ریاست تھی جس کی بنیاد "لا الٰہ الا اللہ” پر رکھی گئی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک ایسے ملک کا تصور پیش کیا تھا جہاں سب شہری برابر ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔
​مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم اپنے قائد کے اس خواب سے بہت دور آ چکے ہیں۔ ایک طرف ہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، ایٹمی طاقت رکھتے ہیں اور دنیا کی بہترین فوجوں میں شامل ہیں، مگر دوسری جانب معاشی طور پر کمزور اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو اپنے آپ کو خود کفیل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آج بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے۔
​ان تمام مسائل کی جڑ اور سب سے بڑی ناکامی ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کا نہ ہونا ہے۔ جب کسی معاشرے میں قانون کی عملداری ختم ہو جائے تو وہاں انصاف اور برابری کا تصور بھی دم توڑ دیتا ہے۔ پاکستان میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں ہے۔
​ناانصافی اور دوہرا معیار: ہمارے معاشرے میں قانون طاقتور کے لیے مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہے۔ جب بااثر افراد اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں، تو عام آدمی کا قانون پر سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار معاشرتی تفریق کو بڑھاتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔
​کرپشن اور بدعنوانی: بدعنوانی نے ہمارے اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جہاں فیصلے میرٹ کی بجائے پیسے اور تعلقات کی بنیاد پر ہوں، وہاں قانون کی بالا دستی کا تصور محض ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔ اس بدعنوانی نے ہمارے معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔
​فرقہ واریت اور لسانیت: ایک ایسا ملک جو اتحاد کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، آج فرقہ واریت، لسانیت اور مذہبی انتہا پسندی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ قائداعظم نے اپنے پہلے خطاب میں ہر شہری کے مساوی حقوق کی ضمانت دی تھی، مگر آج اقلیتیں خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مذہبی آزادی کا فقدان کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
​اگر ہم واقعی قائداعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا ہوگا۔ ہمیں فرقہ واریت، لسانیت اور کرپشن کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں۔ جب تک ہر شہری کے لیے ایک ہی قانون نہیں ہوگا اور ہر شہری کو انصاف کی مکمل ضمانت نہیں ملے گی، اس وقت تک نہ تو ہم حقیقی آزادی کا لطف اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
​آئیے، آج ہم یہ عہد کریں کہ ہم ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں ہر شہری برابر ہو، اور جہاں ہر کسی کو حقیقی انصاف ملے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اپنے قائد کے خواب کی تکمیل کی طرف لے جائے گا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

 

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

one × five =