اگست 29, 2025

تحریر: بشارت حسین زاہدی

​ایک ایسی شخصیت کا تذکرہ جن کی علمی، سیاسی اور ملی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

​تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے علم، کردار اور جرات سے قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہیں۔ پاکستان کی ملت جعفریہ کی تاریخ میں ایک ایسا ہی روشن نام قائد ملت جعفریہ، علامہ مفتی جعفر حسین کا ہے، جو نہ صرف ایک جید عالم دین اور مفتی تھے بلکہ ایک دور اندیش اور بے باک سیاسی رہنما بھی تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی ملت کی سربلندی اور حقوق کے تحفظ کے لیے وقف کردی۔

​ابتدائی زندگی اور علمی سفر

​علامہ مفتی جعفر حسین 1914 میں پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور دیگر مقامی علماء سے حاصل کی۔ علم کی پیاس آپ کو ہندوستان کے مشہور علمی مرکز لکھنؤ لے گئی جہاں آپ نے سلطان المدارس سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ علم و حکمت کے مرکز، عراق کے شہر نجف اشرف تشریف لے گئے، جہاں آپ نے وقت کے نامور مراجع کرام اور فقہاء سے کسب فیض کیا اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے۔

​علمی خدمات اور ورثہ

​وطن واپسی کے بعد آپ نے علمی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کا سب سے نمایاں اور شاہکار علمی کام نہج البلاغہ کا اردو ترجمہ اور اس کی مفصل شرح ہے۔ یہ ترجمہ نہ صرف اپنی سلاست اور روانی میں بے مثال ہے بلکہ اس کی شرح نے کلام امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے مفاہیم کو اردو دان طبقے کے لیے آسان بنا دیا ہے۔ یہ آج بھی اردو زبان میں نہج البلاغہ کا سب سے مستند اور جامع ترجمہ و شرح مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے متعدد علمی و تحقیقی کام کیے۔

​قیادت اور ملت کے حقوق کی جدوجہد

​1979 میں ملت جعفریہ پاکستان کو جب اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس ہوئی تو ملک بھر کے علماء و اکابرین نے آپ کو "قائد ملت جعفریہ” منتخب کیا اور "تحریک نفاذ فقہ جعفریہ” کی بنیاد رکھی۔ یہ آپ کی پرخلوص اور مدبرانہ قیادت کا ہی اثر تھا کہ پوری قوم ایک پرچم تلے جمع ہوگئی۔

​اس وقت کے مارشل لاء دور میں جب ایک خاص فقہ کو قانونی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو علامہ مفتی جعفر حسینؒ نے اس کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ آپ نے واضح کیا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مکاتب فکر کو اپنے اپنے فقہ کے مطابق زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ آپ کی قیادت میں اسلام آباد میں ایک تاریخی اور پرامن کنونشن ہوا، جس کے نتیجے میں حکومت کو ملت جعفریہ کے مطالبات تسلیم کرنے پڑے۔ یہ آپ کی قیادت اور پرامن جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ مکتب تشیع کو اس کا آئینی اور قانونی تشخص حاصل ہوا۔

​شخصیت اور کردار

​علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی شخصیت علم و عمل کا حسین امتزاج تھی۔ آپ تقویٰ، پرہیزگاری، سادگی اور بلند اخلاق کا پیکر تھے۔ انتہائی نڈر، بے باک اور حق گو تھے۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی آپ کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ آپ نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین پر زور دیا اور فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کی۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو ملت کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

​وفات اور میراث

​قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسینؒ 29 اگست 1983 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کی وفات ملت کے لیے ایک عظیم سانحہ تھا، لیکن آپ جو علمی اور سیاسی میراث چھوڑ گئے وہ آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ آپ نے ملت کو اپنے حقوق کے لیے پرامن اور آئینی جدوجہد کا جو راستہ دکھایا، وہ آج بھی مشعل راہ ہے۔ آپ کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قیادت مخلص، عالم اور بہادر ہو تو قومیں کبھی ناکام نہیں ہوتیں۔ آپ کا نام تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

fourteen + eight =