تحریر : بشارت حسین زاہدی
علامہ سید ساجد علی نقوی کی سیاسی بصیرت پاکستانی سیاست میں ایک اہم اور قابل غور پہلو ہے۔ ان کی بصیرت مختلف جہات پر محیط ہے، جس کا اندازہ ان کے بیانات، پالیسیوں اور سیاسی حکمت عملیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہاں ان کی سیاسی بصیرت کے چند اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے:
1: فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی اتحاد پر زور:
علامہ ساجد نقوی نے ہمیشہ پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے مختلف مسالک کے درمیان افہام و تفہیم اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ ان کا یہ موقف ملک میں امن و استحکام کے لیے ان کی گہری بصیرت کا عکاس ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ فرقہ واریت ملک کو کمزور کر سکتی ہے اور قومی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
2 : شیعہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور قومی دھارے میں شمولیت:
علامہ ساجد نقوی نے ہمیشہ شیعہ مسلمانوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے۔ ان کی یہ بصیرت اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ایک اقلیت کے حقوق کا تحفظ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کبھی بھی علیحدگی پسندانہ رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ شیعہ برادری کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی وکالت کی ہے۔
3: علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کا گہرا ادراک:
علامہ ساجد نقوی کو علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کی گہری سمجھ بوجھ حاصل ہے۔ وہ پاکستان کے گرد و نواح میں ہونے والی تبدیلیوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے بیانات اور تجزیے اکثر ان کی اس بصیرت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کے لیے علاقائی امن اور اچھے تعلقات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
4 : آئینی اور جمہوری اقدار پر یقین:
علامہ ساجد نقوی نے ہمیشہ آئینی اور جمہوری اقدار پر اپنے یقین کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ملک میں قانون کی حکمرانی، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، اور جمہوری اداروں کے استحکام کی حمایت کی ہے۔ ان کی یہ بصیرت اس بات پر مبنی ہے کہ جمہوریت ہی ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
5 : مستقبل کی پیش بینی اور حکمت عملی:
علامہ ساجد نقوی اکثر اپنے بیانات میں مستقبل کے چیلنجز اور مواقع کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کی سیاسی حکمت عملی ان چیلنجز سے نمٹنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہوتی ہے۔ ان کی یہ دور اندیشی انہیں ایک اہم سیاسی رہنما کے طور پر ممتاز کرتی ہے
علامہ ساجد نقوی کا سیاسی رویہ عموماً توازن اور اعتدال پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ انتہا پسندی اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور ہمیشہ مسائل کے پرامن اور مذاکراتی حل پر زور دیتے ہیں۔ ان کا یہ متوازن رویہ انہیں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں میں قابل احترام بناتا ہے۔
مجموعی طور پر، علامہ ساجد نقوی کی سیاسی بصیرت پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک مثبت اور تعمیری اثر رکھتی ہے۔ ان کی دور اندیشی، قومی مفاد پر ترجیح، اور متوازن رویہ انہیں ایک اہم اور قابل قدر رہنما بناتا ہے۔ ان کی بصیرت کا محور ہمیشہ قومی اتحاد، جمہوری اقدار کا تحفظ، اور تمام پاکستانیوں کے حقوق کا احترام رہا ہے۔