اگست 30, 2025

تحریر: شبیر احمد شگری

ضریح امام حسینؑ، ضریح امام رضاؑ کے معمارِ فن، اور ’’عصر عاشورا‘‘ و ’’ہرن کی ضمانت‘‘ جیسے شہرہ آفاق شاہکاروں کے خالق، عظیم مصور اور استادِ فن محمود فرشچیان، فن و روحانیت کے سفر کو مکمل کر کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم فنکار تھے بلکہ ایک ایسے عاشقِ اہل بیتؑ تھے جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے عشق، عقیدت اور تاریخ کو زندہ جاوید کر دیا۔

فن کی پہچان اور عالمی شہرت

محمود فرشچیان ایران کے وہ نامور مصور اور استادِ فن تھے جنہیں روایتی ایرانی مصوری میں مہارت اور جدید مصوری میں انقلاب لانے کے باعث دنیا بھر میں شہرت ملی۔ انہوں نے ایرانی منی ایچر آرٹ کو ایک نئی روح اور جدید رنگ و روپ دے کر ایران کی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر مستحکم کیا۔ ان کے فن کو نہ صرف ایران میں بلکہ مشرق و مغرب کے بڑے فنون کے حلقوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

24 جنوری 1930کو ایران کے تاریخی اور فنونِ لطیفہ کے مرکز اصفہان میں پیدا ہونے والے محمود فرشچیان، ایک ایسے گھرانے میں پرورش پائے جہاں حسن، جمال اور روحانیت کا امتزاج فضا میں رچا بسا تھا۔ والد غلام رضا قالین فروش تھے، جن کے گھر میں قدیم فرنیچر، نایاب قالین اور مذہبی پردوں کا حسن نمایاں تھا۔

والدہ کی روحانی وابستگی اور زیارتِ امام زادہ اسماعیل کے دوران کربلا و عاشورہ کے مناظر کو خاکے کی صورت میں بیان کرنے کا شوق، فرشچیان کی فنی و روحانی تربیت کا اہم حصہ بن گیا۔ کربلا کی زیارت نے ان کے دل پر ایسا اثر چھوڑا جس کا عکس ان کے بعد کے شاہکاروں میں، خصوصاً امام حسینؑ کے مزار کے ڈیزائن میں، نمایاں نظر آتا ہے۔

بچپن میں وہ اپنے گھر کے باغ میں درختوں، چشموں، تالاب اور پرندوں کے رنگ و حرکات کا مطالعہ کرتے۔ مرغیاں، کوے، کبوتر اور چڑیاں ان کی مشاہداتی دنیا کا حصہ تھیں۔ یہی باریک بینی بعد میں ان کی مصوری کا خاصہ بن گئی۔

تعلیم اور فنکارانہ تربیت

فرشچیان نے بچپن ہی سے مصوری میں دلچسپی لی۔ ابتدائی تربیت حاجی مرزا آقا امامی اور عیسیٰ بہادری جیسے جید اساتذہ سے حاصل کی۔ اصفہان کے اسکول آف فائن آرٹس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، جہاں مغربی مصوروں کے کام نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ مغربی فنون کا مطالعہ کر کے انہوں نے اپنا منفرد اسلوب وضع کیا، جو روایتی ایرانی مصوری اور جدید تخلیقی اظہار کا حسین امتزاج تھا۔

ایران واپسی پر وہ قومی فائن آرٹس انسٹی ٹیوٹ (جو بعد میں وزارتِ فن و ثقافت بنا) سے وابستہ ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے قومی فنون کے شعبے کے سربراہ اور جامعہ تہران کے اسکول آف فائن آرٹس میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ انہیں اعلیٰ ثقافتی و فنی کونسل سے ایرانی مصوری اور اسلامی فنون میں گریڈ ون ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی۔

ضریح امام رضاؑ — عشق کا پہلا سنگِ میل

محمود فرشچیان کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے امام رضا علیہ السلام کی ضریح کا ڈیزائن تیار کیا۔ اس ذمہ داری کے ملتے ہی انہوں نے تدریس اور دیگر تمام کام ترک کر دیے اور چھ ماہ کے عرصے میں ضریح کے چھ ایسے نایاب ڈیزائن تخلیق کیے جو پہلے کسی بھی ضریح میں استعمال نہیں ہوئے تھے۔

محمود فرشچیان بتاتے ہیں کہ ان کے بازو میں تکلیف تھی۔ اور امریکہ کے نامی گرامی ڈاکٹرنے کہا کہ اگر اس کا آپریشن نہ کیا گیا توآہستہ آہستہ یہ بازو کمزور ہوتا جائے گا اورکام کرنا چھوڑ دے گا۔ اور میں بہت کشمکش اور تردد میں تھا۔ دو دن نہیں گزرے تھے کہ آستان قدس رضوی کے تولیت آقای طبسی کا فون آیا کہ ضریح مطہر کا ڈیزائن آپ نے تیار کرنا ہے۔ دل میں ایک نوراورمہربانی کا سایہ جاری ہوگیا۔ میں خوش ہوگیا۔

یقین کریں کہ ضریح کے ڈیزائن کا کاغذ میز پر پھیلایا قلم ہاتھ میں لیا تو خدا گواہ ہے معمولی سی تکلیف کا احساس بھی میرے ہاتھ میں نہیں تھا۔ حالنکہ میرے بازو میں شدت سےتکلیف تھی۔ میں نے ڈیزائن شروع کیا تو مجھے پتہ بھی نہ چلا میرے ہاتھ میں تکلیف بالکل نہیں تھی۔ حالانکہ میںفزیوتھراپی بھی کراتا رہا لیکن کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ یہ ڈیزائن تیار کیا تو الحمداللہ میرے دائیں ہاتھ کو شفا مل گئی۔ بغیر کسی آپریشن یا علاج کے۔ اب میرا ہاتھ جوانی سے زیادہ موجود ہے۔

ضریح امام حسینؑ — فن اور عقیدت کا نقطۂ عروج

جب امام حسینؑ کی ضریح کے ڈیزائن کا مرحلہ آیا تو کئی تجاویز سامنے آئیں، مگر رہبر معظم انقلاب نے محمود فرشچیان کا ڈیزائن منتخب کیا۔ فرشچیان چھ ماہ تک روزانہ امام حسینؑ سے دعا کرتے رہے تھےکہ انہیں اس خدمت کا موقع ملے۔

ان کے حوالے سے ایک واقعہ سوشل میڈیا پر مشہور ہوا کہ انہوں نے ضریح کے ڈیزائن کی اجرت میں ملا ایک ملین کا چیک ضریح میں پہلے عطیے کے طور پر ڈال دیا۔ انہوں نے خود اس خبر کی تردید کی ہے، مگر یہ ضرور کہا:

"امام حسینؑ کے لیے اپنی جان قربان کرنی چاہیے، مالی خدمت کی تو کیا بات ہے۔”

ضریح کے ڈیزائن میں قرآن کی سورتیں (انسان، فجر، کوثر)، احادیث، اسمائے مبارکہ معصومینؑ اور سید رضی کے اشعار کو استاد مصطفی خداداد زادہ کی خوشنویسی سے کندہ کرایا گیا۔ ان کے ساتھی بتاتے ہیں کہ وہ نمازِ اول وقت اور باجماعت نماز کے پابند تھے، اور کبھی کبھار کام چھوڑ کر شکرانے کے نفل ادا کرتے۔

شاہکار تخلیقات

’’عصر عاشورا‘‘ ان کا شہرہ آفاق فن پارہ ہے، جو ذوالجناح کی واپسی کا منظر پیش کرتا ہے۔ خیموں میں موجود اہل بیتؑ کی خواتین و بچے، غم و صدمے میں ڈوبے چہرے، اور خالی زین کا کرب — یہ سب کچھ اس پینٹنگ کو دیکھنے والے کو کربلا کے دشت میں لے جاتا ہے۔

حرم امام رضا علیہ السلام میں آستان قدس رضوی کے عجائب گھرکا جب وزٹ کیا تو مجھے یہ "عاشورہ” سے متعلق ان کے شاہکار دیکھنے کا موقع ملا۔ میوزیم کے ایک ہال کو "تالار استاد فرشچیان”(استاد فرشچیان ہال) کے آثار کے لئے مختص کیا گیا ہے جہاں عاشورہ کے دن کربلا سے متعلق ان کے تکلیق کئے ہوئے شاہکار موجود ہیں جنھیں آپ کے ساتھ بھی شئیر کررہا ہوں۔ محمود فرشچیان کی ان پرتاثیراور پردرد تخلیقات کو دیکھنے والا کربلا کے منظر میں ڈوب جاتا ہے۔

حسینیت کے موضوعات پر مبنی ان کی تخلیقات جیسے ’’دی ایوننگ آف عاشورا‘‘ اور ’’دی اسٹینڈرڈ بیئرر آف ٹروتھ‘‘ قربانی، صبر اور حق کی سربلندی کی ابدی داستان سناتے ہیں۔

میری یادداشت — "ضریح نور”

2002 میں، مجھے "ضریح نور” نامی اردو ڈاکومنٹری بنانے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ نور پروڈکشنز کی پہلی فلم تھی، جس میں امام رضا علیہ السلام کی قدیم ضریح کو کھولنے اور نئی ضریح کو نصب کرنے کے لمحات کو لمحہ بہ لمحہ دکھایا گیا ہے۔ اس کا افتتاح خود رہبر معظم نے کیا۔

اعزازات اور عالمی شناخت

محمود فرشچیان کے فن کی پہچان شوخ و چمکدار رنگ، متحرک ترتیب اور باریک جزئیات کو جدید انداز میں پیش کرنا ہے۔ انہوں نے ’’سُرنَیچرلزم‘‘ کے نام سے ایک نیا اسلوب متعارف کرایا جو روحانیت اور لطافت کو مرکز میں رکھتا ہے۔

انہیں گولڈن پام آف یورپ (1987)، آسکر ڈی اٹالیا (1985)، اور ویسیلو یورپا ڈیل آرٹے (1984) سمیت متعدد اعزازات ملے۔ سنہ 2000 میں کیمبرج یونیورسٹی نے انہیں 21ویں صدی کی نمایاں فکری شخصیات میں شامل کیا۔

رخصتی کا غم

9 اگست 2025 کو 95 برس کی عمر میں امریکہ میں ان کا انتقال ہوا۔ دنیا بھر کے ثقافتی اور مذہبی حلقوں نے ان کی وفات پر گہرا رنج ظاہر کیا اور انہیں ایران کی روحانی و ثقافتی شناخت کا سفیر قرار دیا۔

مولانا جلال الدین رومیؒ کا یہ شعر ان کی زندگی اور فن کا نچوڑ پیش کرتا ہے:

خوشتر آں باشد کہ سِرِّ دِلبراں

گفتہ آید در حدیثِ دیگراں

بہتر یہی ہوتا ہے کہ دِلبروں کا راز دوسرے لوگوں کے قِصّوں میں (کنایۃً) بیان ہو جائے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

fourteen + 17 =