تحریر: سید اعجاز اصغر
حضرت آدم علیہ السلام نے ہابیل اور قابیل سے فرمایا کہ تم سے ہر ایک راہ خدا میں کوئی چیز قربانی کے طور پر دے، جس کی قربانی قبول ہوگئی وہ حق پر ہوگا، قربانی قبول ہونے کی نشانی یہ تھی کہ آسمانی بجلی اس چیز کو جلا دیتی تھی، حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں نے اس تجویز کو قبول کیا، ہابیل بھیڑ بکریاں چراتا تھا اس نے راہ خدا میں قربانی دینے کے لئے ایک خوبصورت اور موٹی تازی بھیڑ کا انتخاب کیا، اور قابیل نے جو کہ کاشتکاری کرتا تھا اس نے اپنی بیکار قسم کی فصل راہ خدا میں دینے کا ارادہ کیا، دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی قربانیاں پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر رکھی، زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آسمانی بجلی گری اور بھیڑ کو جلا دیا، جب کہ قابیل کی طرف سے دی جانیوالی قربانی کو کچھ نہ ہوا، پس اسطرح ہابیل کی قربانی قبول ہوگئی اور معلوم ہو گیا کہ جناب ہابیل حکم خدا کے مطیع ہیں، کیونکہ قیمتی چیز راہ خدا میں خلوص نیت سے پیش کی تھی اور قابیل نے بد نیتی پر مبنی بیکار فصل راہ خدا میں پیش کی جس کو اللہ تعالٰی نے قبول نہ فرمایا،
قابیل نے اپنی قربانی قبول نہ ہونے کی صورت میں ہابیل سے دشمنی کا آغاز کیا اور اپنے بھائی کا حاسد بن گیا، آخر کار قابیل نے ہابیل کو حسد کی بنا پر قتل کر دیا، اور حاسدین کا گروہ تا قیامت قابیل کے ساتھ شامل ہو گیا
اس وقت جو حالات ہمارے معاشرے میں درپیش ہیں ہر انسان اپنے خاندان میں جس کو پنجابی میں شریکا برادری کہتے ہیں حسد، تکبر اور انا پرستی کی آگ میں بری طرح جل رہا ہے، اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے تقابلی رجحانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، شریکا برادری کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی ٹھاٹھ باٹھ کو قائم رکھنے کے لئے ہر جاٸز ناجائز حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اور ان حربوں میں جانی اور مالی نقصانات کو داو پر لگایا جا رہا ہے، جیسا کہ غیر قانونی طریقے سے نوجوان نسل بیرون ممالک میں ڈنکی لگانے کے خطرات مول رہی ہے، حالانکہ ڈنکی لگانے والے اکثر نوجوان تقریبا بیس پچیس ایکڑ اراضی کے مالک ہوتے ہیں، 10 سے 50 لاکھ تک انسانی اسمگلروں کو دینے کے لئے رضا مند ہوجاتے ہیں تاکہ یورپ میں جا کر شریکا برادری کے ساتھ ٹھاٹھ باٹھ کے توازن کو برقرار رکھا جا سکے، ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ امیر طبقہ کے نوجوان یورپی ممالک کی نیشنلٹی لینے کے چکر میں اپنی جمع پونجی اور دوران ڈنکی اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر حسد اور تکبر کی آگ کی نذرہوجاتےہیں، ہزاروں کی تعداد میں نوجوان دوران ڈنکی اپنی زندگیاں ضائع کر چکے ہیں اور جو بچ کر یونان پہنچ جاتے ہیں دس سے پندرہ سال تک کاغذات نہیں بنتے اور وہیں بڑھاپے میں پہنچ کر شریکا برادری میں اپنی ناک اونچا رکھنے کا چیلنج بھی قبول کرتے ہیں، یہ رجحان شمالی پنجاب میں سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، جہلم، وزیرآباد اور فیصل آباد میں سب سے زیادہ ہے، ان اضلاع میں ان لوگوں کی بڑی بڑی کوٹھیاں اور محلات مقابلہ کے طور پر خالی پڑے ہوئے ہیں اور ان کی فیملیاں خالی مکانات چھوڑ کر بیرون ممالک میں مقیم ہیں، وہاں یورپی کلچر ان کے بچوں پر غالب ہے، اسلامک کلچر ان بچوں کے اذہان سے نابود ہوچکا ہے،
اسلامی تعلیمات کے مطابق مکان کو ضرورت کے مطابق بنانا چاہئے، مکان کو اپنے مقصد کے مطابق نہیں بنانا چاہئے، اگر دو کمروں کی ضرورت ہے تو تین کمروں کی اجازت نہیں ہے اور اگر بیس کمروں کی ضرورت ہے تو انیس کمرے تعمیر نہ کریں بلکہ بیس کمرے ہی بنانے چاہیے، ورنہ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حساب کتاب تو سخت ترین ہی ہوگا،
حکمرانوں کو اس رجحان کے تدارک کیلئے سخت اقدامات کرنے چاہئیے، جن لوگوں کے مکانات خالی پڑے ہیں اور ضرورت سے زیادہ تعمیرات ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں ان پر بھاری ٹیکس عائد کرنا از حد ضروری ہے، اور بیرون ممالک میں غیر قانونی طریقے سے ہجرت کرنے والوں اور انسانی اسمگلروں کو نکیل ڈالنا بھی وقت کا تقاضا ہے ورنہ شریکا برادری میں بے جا انا پرستی کی بھینٹ چڑھنے والے نوجوان نہ صرف اپنی زندگیاں ضائع کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کے اداروں کا بھی نقصان ہو رہا ہے، زرمبادلہ کے چکر میں کوالیفائیڈ نوجوان نسل دیار غیر میں اپنا ٹیلنٹ ضائع کر رہی ہے، اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو پاکستانی اداروں میں غیر ملکی مسلط ہو کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ دھرانے کے امکانات پیدا کر لیں گے، برطانیہ نے برصغیر میں اپنی مرضی کی حکومت بنا کر تمام قیمتی اثاثہ جات برصغیر سے برطانیہ منتقل کئیے جس کے نتیجے میں برطانیہ ترقی یافتہ ہوگیا اور برصغیر کو معاشی طور پر دیوالیہ کردیا گیا، اب لگتا تو یوں ہی کہ ہمارے ملک کے باشندے شریکا برادری کی آڑ میں اسی برطانوی راج کو از سر نو دعوت خاص دے رہے ہیں جس کی بھینٹ نہ صرف شریکا برادری چڑھے گی بلکہ اللہ نہ کرے کہ پاکستان بھی دوبارہ استعماری طاقتوں کی بھینٹ چڑھ جائے ، ویسے حالات تو ایسے ہی پیدا ہو چکے ہیں، پاکستان میں نفسانفسی کا رجحان استعماری اور سامراجی ایجنڈے کو ہی تقویت بخش رہا ہے اور ہمارے حکمران بشمول عوام غفلت کی گہری نیند میں مست دکھائی دے رہے ہیں،