اپریل 2, 2025

شام کے نام نہاد مجاہدین سے توقعات اور حقائق

تحریر: علی سردار سراج

بشار الاسد کی حکومت کے زوال اور متحارب گرہوں کے شام پر قبضے کے ساتھ اہل سنت عوام کی ایک تعداد میں خوشی کی لہر دوڑی ہے،اور وہ برملا اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، یہاں تک کہ غزہ سے حماس نے بھی انہیں مبارک باد دی ہے اور خوشی کا اظہار کیا ۔

گرچہ سنی حکومتیں بھی اس بات پر خوش ہیں کہ بشار اسد کی حکومت ختم ہوئی ہے لیکن شام کے قابضین کےحوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ ان گرہوں کی ماہیت اور اصلیت کو جانتے ہیں۔

بشار الاسد کی حکومت کے سقوط سے ابھی تک اسرائیل مسلسل اپنے مقاصد کے حصول کیلئے آگے بڑھ رہا ہے، اور شام کے انفراسٹرکچر کو مکمل تباہ کیا ہے، اس ظلم و بربریت کے مقابلے میں ان نام نہاد مجاہدین نے ایک معنی خیز سکوت اختیار کیا ہوا ہے۔

کچھ لوگ ان نام نہاد مجاہدین کی حقانیت پر مشکوک ہوگئے ہیں لیکن بہت سارے لوگ ابھی بھی ان کے دفاع میں مختلف توجیہات پیش کر رہے ہیں، لیکن بہت جلد اس بات کو جان لیں گے کہ یہ وہ مجاہدین ہیں ،جنہوں نے امریکی کیمپوں میں تربیت حاصل کی ہے، اور ان کے زخمیوں کا علاج اسرائیل کے ہسپتالوں میں ہوا ہے۔ لہذا ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ فلسطین کے مظلومین کی کوئی مدد کریں گے یا شام کے اندر عدل و انصاف پر مبنی کوئی نظام حکومت کو قائم کریں گے، ایسا ہی ہے کہ کوئلے کی کان سے ہیرے نکلنے کی توقع کی جائے۔

یہ مامور ہیں اس بات پر کہ مقاومت کو کچل دیں اور اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنائیں؛ لہٰذا محمد جولانی نے اسرائیل کے تجاوزات پر خبر نگار کے سوال کے جواب میں کہا: شام جنگ کے لیے تیار نہیں ہے اور جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ تشویش کا باعث ایرانی ملیشا اور حزب اللہ تھے اور خطرہ ٹل گیا ہے۔

نیز کل کی خبروں کے مطابق الجولانی نے خالد مشعل کو بھی ایک سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے: نیا شام اسرائیل کے خلاف مزاحمتی گرووں کی سرگرمیوں کی جگہ نہیں ہے۔

جولانی کے نام ایک پیغام میں خالد مشعل نے کہا کہ وہ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کے دفاتر میں داخل نہ ہوں اور انہیں بند کرکے غیر مسلح نہ کریں۔

لیکن دوسری طرف تکفیری دہشت گرد شام میں مزاحمتی تحریک (حماس اور اسلامی جہاد) کے دفاتر میں داخل ہوئے اور ان کے ہتھیاروں کو ضبط جبکہ مزاحمتی تحریکوں سے وابستہ تربیتی کیمپوں کو بند کرتے ہوئے اعلان کیا کہ شام میں ایسی سرگرمیوں کی کوئی جگہ نہیں۔

یہی ہے وہ انقلاب اور یہی ہیں وہ مجاہدین جن کی کامیابی پر کچھ نادان لوگ خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔

انہوں نے اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے شام کے اندر ظلم کا بازار گرم کیا ہوا ہے، اور بہت زیادہ بے گناہ لوگوں کو موت کی نیند سلا رہے ہیں۔

قوی امکان یہ ہے کہ ان سے عقیدتی،نظریاتی اور سیاسی اختلاف رکھنے والے بہت سارے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

وہ لوگ جو دشمن کے پروپیگنڈے میں آ کر بشار اسد کو اپنا دشمن اور ان نام نہاد مجاہدین کو اپنے ناجی سمجھ کر رقص و پایکوبی کر رہے تھے ان کی ایک خاص تعداد اب حیران و پریشان ہیں کہ وہ کس غلطی کا مرتکب ہوئے ہیں؟ وہ سمجھتے تھے کہ بشار اسد کے جانے سے شام زمین پر بہشت بنے گا لیکن یہ عملا دوسرا لبیا بن رہا ہے کہ جہاں لوگوں کو قذافی کی یاد ستا رہی ہے۔

مغربی دنیا کو نہ کسی آمریت سے کوئی مشکل ہے اور نہ بادشاہت سے، انہیں ہر اس شخص اور نظام سے چڑ ہے جو ان کے اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ میں لیت و لعل سے کام لیتا ہے۔

انہوں نے مصر کی نوپا جمہوریت کو کچل کر فوجی آمریت کو تحفظ دیا ہوا ہے۔ اسی طرح عرب ممالک کی بادشاہتوں سے نہ فقط انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے بلکہ ان کی حفاظت کے نام پر ان ممالک میں اپنے اڈے قائم کیے ہوئے ہیں اور ان سے مسلسل باج لے رہے ہیں۔

لہذا یہ سوچنا کہ مغرب بالخصوص امریکہ کا دل مشرقی ممالک کی آزادی اور جمہوریت کے لیے تڑپتا ہے، انتہائی کوتاہ فکری اور سادہ لوحی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ترکیہ کی مدد سے بشار اسد اور شام سے، اسرائیل کے مقابلے میں فلسطین اور لبنان کی، نیز جنگ ایران و عراق میں، ایران کی مدد کا بدلہ لیا ہے۔

یہ نام نہاد مجاہدین انہیں کی خدمت میں رہیں گے جنہوں نے انہیں لایا ہے۔

آخر میں خصوصی طور پر یہ کہوں کہ ان نام نہاد مجاہدین کے حوالے سے

اہل سنت کے علماء اور سنجیدہ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ شام سے جو ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ناصبی فکر کے حامی ہیں حتی يزيد ابن معاویہ کے نام پر قسمیں کھا رہے ہیں اور عھد کر رہے ہیں کہ وہ بنو امیہ کی حکومت کو از سر نو قائم کریں گے، یہ لوگ جس قدر خاندان پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آله وسلم ، بالخصوص سیدہ زینب اور رقیہ سلام اللہ علیھما کے مزارات مقدسہ کی نسبت اظہار بے مروتی کر رہے ہیں اسی نسبت سے معاویہ بن ابی سفیان کی قبر سے اظہار عقیدت کر رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اہل سنت جوانوں کی اکثریت جو محبان اہل بیت علیهم السلام ہیں، در اہل بیت علیهم السلام سے دور ہو کر طلقا کے محبین میں شامل ہو جائیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

five × four =