اگست 30, 2025

تحریر: صادق الوعد 

عصری انسان اور ماڈرن زندگی کی سب سے اہم فکری چلفشاروں میں سے ایک رنج و درد کا مسئلہ ہے۔ اگرچہ جدید دنیا نے نت نئے اوزار اور مدہوش کن ٹیکنالوجی کے ذریعے سے انسان کے ظاہری (objective) اور جسمانی رنج و الم کو ضرور کم کیا ہے، لیکن یہ باطنی (subjective)، اور ذہنی رنج و مشقت کا کوئی علاج ابھی تک نہیں ڈھونڈ سکی ہے۔ بلکہ اس کے برعکس، اس نے روز بروز انسانی زندگی میں، اضطراب، افسردگی اور تنہائی میں اضافہ کیا ہے ۔جیسے جیسے نئی ٹیکنالوجی ایجاد ہوتی جارہی ہے انسان بھی تنہا تر بلکہ ہر آن معاشرے سے الگ ہوتے جارہے ہیں، جس سے انسان کے اندر ہزاروں لاعلاج بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ یقینی بات ہے بے چین اور مضطرب انسان ہر گز ایک پر امن ماحول اور معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتا ہے ۔

اگر چہ جدید ماہرینِ نفسیات زندگی کی تلخیوں، مشکلات اور مشقت بار واقعات کو انسانی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ ساتھ میں وہ ان رنج و مشقت کی کوئی توجیہ تلاش کیے بغیر، صرف ذہنی اور نفسیاتی مختلف ٹیکنیک کے ذریعے اسے قابلِ برداشت بنانے اور انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھانے پر اکتفا کرتے ہیں۔

بادی النظر نظر رنج و الم کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے : "رنجِ از” اور”رنجِ برائے”

"رنجِ برائے” وہ رنج و مشقت ہے جسے انسان کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے برداشت کرتا ہے۔ ہر کوئی اپنی زندگی میں مشاہدہ کرسکتا ہے ۔

"رنجِ از” زیادہ تر وہ ناپسندیدہ رنج جیسے بیماریاں، تلخیاں اور وہ ناخوشگوار واقعات جو انسانی زندگی کی شیرینی کو تلخی میں بدل ڈالتے ہیں۔

انسانی علوم کے ماہرینِ نفسیات "رنجِ از” کو منفی اور "رنجِ برائے” کو مثبت قرار دیتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ "رنجِ از” سے بچنے کا کوئی راستہ ہے نہ کوئی پائیدار راہ حل ۔

تاہم، دینی اور الٰہی جہان بینی میں "رنجِ از” جیسی کوئی چیز بنیادی طور پر موجود ہی نہیں ہے۔ تمام رنج "رنجِ برائے” ہوتے ہیں، جنہیں خدائے مہربان و حکیم نے انسان کی ترقی اور کمال کے لیے مقدر کیا ہے۔

"رنجِ برائے” ایک دیندار انسان کی تخلیقی سوچ میں بنیادی کردار ہے۔ اربعین حسینی کا سفر اس کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ سفر اپنی بہت سی مشکلات جیسے کروڑوں کی مڈ بھیڑ، بے خوابی، تھکاوٹ ،اور گرمی و سردی کی برداشت وغیرہ کی وجہ سے حقیقتاً آسان اور سادہ نہیں ہے۔ جو بھی شخص ایک بار کربلا کا راہی اور مشی کا تجربہ رکھتا ہے ، وہ اس حقیقت کا معترف ہوگا ۔

لیکن آپ کو اربعین حسینی کے زائرین میں سے کوئی ایک بھی ایسا انسان نہیں ملے گا جو اس خود اختیار کردہ مشقت کو برداشت کرنے پر پشیمان ہو۔ چاہے بچہ ہو،یا بوڑھا، مرد ہو یا زن ۔۔

اس کے برعکس، وہ اس سفر سے اپنے ساتھ خوبصورت یادیں، یادگار لمحات کے علاوہ کچھ اور لے کر نہیں لوٹتے۔

لذت گرا اور مادہ پرست انسان اس امر کو سمجھنے سے قاصر ہے، کیونکہ اس کی شناخت اور ذہنی ساخت ایسی ہے کہ اس موضوع کو سمجھنے سے عاجز کر دیتی ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے درد و مشقت ہو مگر محسوس نہ کریں ۔

جی ہاں، اربعین کا سفر "حسین ابن علی ع تک پہنچنے کے لیے ہزاروں رنج و الم برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ حسین ابن علی ع جنہوں نے آج سے چودہ سو سال پہلے صحرائے کربلا میں خود اپنے حقیقی معشوق کے عشق و محبت میں وہ ناقابل تصور رنج برداشت کئے ،جسے بشری افکار تجزیہ اور سمجھنے سے قاصر ہیں ۔

بالآخر، سید الشہداء حسین ابن علی ع مکمل طور پر عشقِ مطلق میں یوں گم ہو گئے تھے کہ بظاہر تو رنج و مشقت تھی لیکن حقیقت میں جمیل اور جمال حضرت حق میں کھوئے ہوئے تھے ۔

آج اسی امام کے عاشقوں کا قافلہ جو کئی سو کلومیٹر پیدل چل رہے ہیں مگر جمال کربلا میں فنا ہیں جس کی وجہ سے اس سفر کے رنج و مشقت کو محسوس ہی نہیں کرتے، با وجود ہزاروں درد و الم سہنے کے۔

عاشقوں کا یہ کارواں امام العشق کی زیارت سے واپس آتے وقت اگلے اربعین کا انتظار کرتے ہوئے لوٹ آتے ہیں تاکہ اس رنج و الم اور اس میں پوشیدہ لافانی اور روحانی لذت کا دوبارہ بلکہ بار بار اپنے پورے وجود کے ساتھ اس شیرین ترین تجربہ اور ناقابلِ بیان ذائقے کو چکھتے رہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

one × 4 =