مارچ 31, 2025

زبان درازی کے نقصانات

تحریر: سید اعجاز اصغر

انسان پر سب سے زیادہ مصیبتیں اسکی زبان کی وجہ سے نازل ہوتی ہیں، تکبر، غرور حسد انسان کی قدر و منزلت کو ختم کردیتا ہے، دور حاضر میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے دولت اور اقتدار کی نمائش عروج پر ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان انسیت، پیار محبت اور خلوص میں کمی واقع ہو رہی ہے، مذہبی سیاسی ، سماجی اور خاندانی سطح پر طبقاتی تفاوت نے بہت زیادہ بگاڑ پیدا کیا ہے جس سے ہر انسان چاہے وہ امیر ہے یا غریب ہے، حاکم ہے یا محکوم ہے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمھجتا ہے، محفوظ وہ ہی ہے جس کی زبان قابو میں ہے اور اپنے آپ کو ہر وقت محاسبہ کی نذر کرتا رہتا رہے، محاسبہ نفس کرنے کے لئے ذیل میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں  !

_محاسبہ نفس_

⋖_خسارہ کیا ہے_⋗

خسران یا خسارہ سےمراد اصلی سرمائےکا ختم ہونا ہے۔

وہ سرمایہ انسان کی زندگی ہے جب بھی زندگی کا ایک لمحہ گزرتاہے اس سرمائےکا ایک حصّہ تباہ ہو جاتاہے اور پھر واپس نہیں آتا مگر یہ کہ یہ سرمایہ عمل صالح، حق کی حمایت اور اللّٰه تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیخاطر صرف ہوا ہو اگر ایسا نہ ہوتو زندگی کا ہر وہ لحظہ جو غفلت کیساتھ گزر جائے ناقابلِ تلافی ہے۔

خلاصہ یہ قرآنی آیات اور احادیث میں محاسبہ نفس پر اس قدر تاکید کیوجہ یہ ہےکہ لوگ خواب غفلت سےبیدار ہوں اور اخروی زندگی (جو جادوانی ہوگی) کیخاطر زاد وتوشہ تیار کریں۔

برادر رسول امیرالمؤمنین امام علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام فرماتےہیں:

`اےاللّٰه کےبندو! ابھی سےہی ہوشیار رہو کیونکہ ابھی تک تمہاری زبانیں آزاد، جسم سالم اور اعضاوجوارح عمل کیلئے آمادہ ہیں۔ رفت وآمد کی جگہ (عمل کیلئے دنیا) وسیع اور وقت بھی بہت ہے۔ بیدار رہو کہ کہیں فرصت ہاتھ سےنہ چلی جائےاور موت کا لمحہ آ پہنچے اجل کو مسلم طورپر واقع ہونیوالی سمجھو نہ یہ کہ اسکے انتظار میں رہنےلگو جسکی وجہ سےمقام عمل میں سستی اور تاخیر کےشکار ہوگے۔`

قارئین محترم!

جب انسان اپنا محاسبہ کرنے، اپنے روزمرہ کےاعمال پر نظر ثانی کرے، اپنےضمیر کی عدالت میں اپنےخلاف مقدمہ پیش کرنے سےفارغ ہو اور اپنے آپکو خطاکار ٹھہرائےتو اسکے بعد معاتبہ یعنی اپنےاوپر تنقید کا مرحلہ آتا ہے۔

اس مرحلےمیں انسان کو چاہیےکہ وہ اپنے آپ سے مخاطب ہوکر اپنی سرزنش کرےتاکہ اسطرح نقائص کی تلافی کیلئے آمادہ ہو جائے۔

محاسبہ کیلئے ضروری ہےکہ انسان اپنےعیوب پر نظر رکھےاور دوسروں کےعیوب بیان کرکے اپنے آپکو بےگناہ ثابت کرنیکی کوشش نہ کرے۔

نفس رسول امیرالمؤمنین امام علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام فرماتےہیں:

`جو شخص اپنا محاسبہ کرےوہ اپنے عیوب سےآگاہ اور اپنےگناہوں سے باخبر ہوتاہے ایسا شخص گناہوں سےجان چھڑانےاور عیوب کی اصلاح کرنےمیں کامیاب ہو جاتاہے۔`

نیز فرمایا:

`خوش نصیب ہےوہ شخص جسکے عیوب اسےدوسروں کےعیوب سے روکےرکھیں۔`

یعنی وہ اپنے عیوب کی فکر میں اسطرح سےکھو جائےکہ اسکو دوسروں کےعیوب کیطرف توجہ دینےکی فرصت ہی نہ ہو۔

یاد رہےکہ معاتبہ کے دو مرحلےہیں:

❶   اپنےاوپر تنقید کا مرحلہ

❷   گزشتہ خطاؤں کی تلافی اور توبہ کا مرحلہ

پہلے مرحلےمیں  *نفس لوامہ*  سےرہنمائی حاصل کرنےاور اپنی سرزنش وملامت کرنیکی ضرورت ہے۔

یہ مذمت اور تنبیہ کا مرحلہ ہے۔

اولیائے الہٰی اپنی تنبیہ اور تادیب کیخاطر اپنےاوپر پابندیاں اور سختیاں عائد کرتے تھے۔

مثلاً شب بیداری، روزے، بھوک، کم گوئی، معصومین علیہم السّلام سےمروی دعاؤں اور اذکار کا ورد، بندگانِ خدا کی خدمت، انکو کھانا کھلانا اور انعام دینا اور ۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ

تاکہ اسطرح وہ اپنےسرکش نفسوں کو مغلوب کر سکیں۔

نورخدا امیرالمؤمنین امام علی مرتضیٰ علیہ الصلاۃ والسّلام فرماتےہیں:

`جو شخص اپنےنفس کی نگہداری نہ کرےوہ اسےتباہ کر دےگا۔`

آیةاللّٰه العظمٰی سید حسین طباطبائی بروجردی رحمۃ اللّٰه علیہ کے بارےمیں منقول ہےکہ جب بھی کسی طالب علم کیساتھ سخت الفاظ استعمال کرتےتو اس سےعذر خواہی کرنے کےعلاوہ اس کام کی تلافی کیخاطر دوسرےدن روزہ رکھنےکی نذر بھی کرتے تھے۔

رہا بعض اہلِ تصوف اور عرفا کے بارےمیں منقول طرزِعمل کہ وہ اپنی تنبیہ اور سرزنش  کیلئے اپنے آپکو آگ سے جلاتے تھےیا مشکل اور انسان کی شان کےمنافی افعال کےمرتکب ہوتے تھے یا لوگوں سےکنارہ کشی کرتے تھے یا زندگی بھر خاموش رہنےکا طریقہ اختیار کرتے تھے۔ اگر ہماری زبان ہمارے کنٹرول میں آجائے تو خاندانی، معاشرتی اور سیاسی مسائل خود بخود حل ہو جائیں اور امن و امان قائم رکھنے میں بہت زیادہ آسانی مل سکتی ہے، ورنہ زبان درازی ہر چیز کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتی ہے،

انسان کو ایک شخص کے طور پر اپنا تعارف نہیں کرانا چاہئے بلکہ ایک شخصیت بننا چاہیے کیونکہ شخص کو تو موت ختم کردیتی ہے مگر موت کے بعد شخصیت زندہ رہتی ہے، شخصیت بننے کے لئے ارسطو نے ایک فارمولا دیا ہے کہ اس کو کسی نے پوچھا کہ آپ اتنے عقل مند کیسے بن گئے ہیں تو ارسطو نے کہا کہ میں جب بھی کسی انسان کو غلطی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اسی غلطی کو نوٹ کرکے اسے نہ کرنے کی عادت بنا لیتا ہوں کہ یہ غلطی میں نے نہیں کرنی ہے، جب انسانوں کی غلطیوں کو نوٹ کرتے کرتے اپنے آپ کو ایسی غلطیوں سے پاک کرتا گیا تو میں عقل مند ہوتا گیا،

قارئین محترم

دوسروں کی غلطیوں کو نوٹ کرنا کسی ذہین اور فطین انسان کا ہی کام ہے مگر میرے خیال میں اگر زبان درازی سے نجات حاصل کر لی جائے تو نہ صرف امن و امان کی ضمانت ملے گی بلکہ ایسا شخص معاشرے میں ایک باعزت شخصیت کے طور پر بھی متعارف ہوگا،

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

five × three =