تحریر: قادر خان یوسفزئی
مارچ کا مہینہ پاکستان کے لیے ایک اذیت ناک داستان چھوڑ گیا۔ جب ایک کے بعد ایک دھماکے سننے کو ملے، جب جنازے روز کا معمول بن گئے، جب سکیورٹی اہلکاروں کے تابوت کندھوں پر اٹھنے لگے اور جب ماؤں کی سسکیاں، بچوں کے بین اور بیواؤں کی آہیں شہر کی فضا میں بکھر گئیں، تب سمجھ آیا کہ یہ دہشت گردی ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لیتی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ میں عسکریت پسندوں نے 105 حملے کیے، جن کے نتیجے میں 228 افراد شہیدہوئے۔ یہ اگست 2015 کے بعد سے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان کارروائیوں میں 73 سکیورٹی اہلکار، جن میں فوجی اور پولیس افسران شامل ہیں، 67 شہری اور 88 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ان حملوں میں کم از کم 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سکیورٹی اہلکار اور اتنے ہی شہری شامل ہیں
یہ حملے محض خبریں نہیں تھے، یہ ہر گھر کے آنگن میں لرزش کی صورت داخل ہوئے۔ ایک طرف جوان بیٹے شہید ہوئے تو دوسری طرف گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ بلوچستان کی سنسان گلیوں میں موت کا سناٹا چھا گیا، خیبر پختونخوا کے پہاڑوں میں وحشت ناچنے لگی، اور شہروں میں خوف کی دھند چھا گئی۔ ہر بار وہی کہانی دہرائی گئی: ایک خودکش حملہ آور، ایک بھرپور دھماکہ، دھوئیں کے بادل، زخمیوں کی چیخ و پکار، اور پھر کچھ گھنٹوں بعد ہسپتالوں میں دم توڑتی زندگیاں۔
یہ سلسلہ نیا نہیں۔ پاکستان دہائیوں سے دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ کبھی فرقہ واریت کے نام پر، کبھی غیر ملکی مداخلت کی صورت میں، کبھی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ کر، یہ جنگ ہمارے گھروں، گلیوں، مسجدوں، بازاروں تک آن پہنچی ہے۔ نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کی لہر نے نہ صرف ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا بلکہ ہزاروں معصوم جانوں کا نذرانہ لے چکی ہے۔
ریاست کے محافظ، جو دن رات ملک کے دفاع میں کھڑے ہوتے ہیں، انہی کے خلاف یہ جنگ جاری ہے۔ 73 سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت ایک معمولی سانحہ نہیں، بلکہ یہ اس جنگ کا ثبوت ہے جو ایک عرصے سے ہم پر مسلط ہے۔ وہ سپاہی جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس ملک کے امن کے لیے سینہ سپر رہتے ہیں، وہ کون سا قرض تھا جو انہوں نے چکایا؟ اور جو عام شہری سڑک پر چلتے چلتے بم دھماکوں کی نذر ہوگئے، ان کا جرم کیا تھا؟
ہماری ریاست، ہماری حکومت، ہمارے ادارے ہر بار یہی دہراتے ہیں کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی سرحد پار ہوتی ہے۔ لیکن کیا یہ کہنا کافی ہے؟ کیا محض یہ اعتراف کر لینا کہ دشمن کہاں بیٹھا ہے، ہمارے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے؟ دہشت گردی کی جڑیں کہاں سے نکلتی ہیں، یہ سب جانتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ انہیں کاٹنے کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟ کیا وجہ ہے کہ یہ حملے ایک مخصوص تسلسل کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں؟ اور کیوں ایسا لگتا ہے کہ ہم بس ایک ردعمل کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں؟
بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی ممالک نے سخت اقدامات کیے، لیکن پاکستان کو ہمیشہ قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ عالمی برادری کی توجہ صرف اس وقت ہم پر آتی ہے جب کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔ افغانستان میں بدلتی صورتحال نے بھی خطے کے امن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ہر دہشت گردی کا واقعہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک خاندان کی تباہی ہے۔ ماں جو اپنے بیٹے کو دعاؤں کے ساتھ گھر سے نکالتی ہے، وہی ماں جب اس کا خون میں لت پت جسم دیکھتی ہے تو اس کی دنیا ہی اجڑ جاتی ہے۔ بچے جو اپنے والد کے ساتھ کھیلتے ہیں، جب انہیں اس کے جنازے کے ساتھ کھڑا کر دیا جاتا ہے تو ان کی معصوم آنکھوں میں جو سوال ہوتے ہیں، ان کا جواب کون دے گا؟
دہشت گردوں نے ہمیشہ ایک نظریے کا سہارا لیا ہے، کبھی مذہب، کبھی قوم پرستی، کبھی آزادی کی تحریک، مگر حقیقت صرف ایک ہے: بے گناہوں کا خون بہانا، خوف کی فضا قائم کرنا اور ریاست کو کمزور کرنا۔ اگر کوئی سوچتا ہے کہ ان حملوں سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ پاکستان ایک جنگ زدہ ملک نہیں، لیکن اسے جنگ میں جھونکنے کی سازش ضرور کی جا رہی ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ جنگ صرف فوج، پولیس یا ایجنسیوں کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ہے۔
ہمارے حکمران ہمیشہ مذاکرات کی بات کرتے ہیں، کبھی کسی گروہ سے، کبھی کسی دشمن ریاست سے۔ لیکن کیا ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ سیکھا ہے؟ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ ان کے مقاصد ریاست کی سالمیت کو کمزور کرنا ہوتے ہیں۔ ہمیں اب اپنی پالیسیوں کو واضح کرنا ہوگا، نرم لہجے اور بے عملی کا وقت گزر چکا ہے۔
یہ جنگ آسان نہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جو سکیورٹی اہلکار اس ملک کے لیے جان دیتے ہیں، ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے؟ کیا ہم نے کبھی ان معصوم بچوں کا درد محسوس کیا جو یتیم ہو جاتے ہیں؟ جب ایک فوجی شہید ہوتا ہے تو اس کا خاندان بھی اس کے ساتھ ہی دفن ہو جاتا ہے۔ ہم بحیثیت قوم شاید چند دن افسوس کرتے ہیں، چند بیانات دیے جاتے ہیں، پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ مگر وہ گھر جہاں سے جنازہ اٹھتا ہے، وہاں زندگی کبھی معمول پر نہیں آتی۔
یہ وقت صرف دعاؤں اور تسلیوں کا نہیں، بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ یہ وقت گواہی دے رہا ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، ورنہ ہم ہمیشہ انہی لاشوں کو گنتے رہیں گے۔ اگر آج ہم نے فیصلہ نہ کیا تو کل شاید ہمارا اپنا گھر بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ جائے جسے ہم دوسروں کے گھروں میں جلتے دیکھ رہے ہیں۔
اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ریاست کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنی اندرونی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، ان عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اس جنگ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں، نظریے سے بھی ختم کی جاتی ہے، اور اس کے لیے تعلیمی اصلاحات، سماجی آگاہی اور انصاف کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔
یہ جنگ ہم سب کی ہے، اور ہمیں مل کر اسے جیتنا ہوگا