اگست 30, 2025

تحریر: زاہد حسین

پاکستان جو دنیا کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک رکھتا ہے، ایک مضبوط فوجی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ رواں سال مئی میں بھارت کی جارحیت پر فوج کے بھرپور جواب نے ایک بار پھر اس کی قابلیت کو ثابت کیا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ طاقتور فوج بیرونی جارحیت کے خلاف ملک کا زیادہ بہتر دفاع کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک ایسی قوم کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے جس کی معیشت مستقل بحران کی حالت میں ہے اور جہاں کچھ اندازوں کے مطابق تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) پر 193 ممالک میں سے 168 ویں نمبر پر ہے۔ (جبکہ افغانستان کے بعد یہ اس فہرست میں نچلے درجے پر فائز جنوبی ایشیا کا دوسرا ملک ہے۔) پاکستان میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہے۔ یہ ملک کے لیے خوفناک صورت حال ہے جس کی آبادی میں اضافے کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر سال آبادی میں تقریباً 8 کروڑ افراد کا اضافہ ہوتا ہے جوکہ صورت حال کو تباہ کُن بناتا ہے۔

امیر و غریب اور خطوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عدم مساوات نے ملک کو کمزور کردیا ہے جوکہ کسی بھی بیرونی خطرے سے زیادہ قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جیسا کہ ماہرینِ اقتصادیات آجم اولو اور روبنسن نے اپنی کتاب ’وائے نیشن فیل‘ میں لکھا ہے، جب کسی ملک کے نظام اور قواعد صرف طاقتور لوگوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کی مدد کے لیے مرتب کیے جاتے ہیں تو اس سے نتیجتاً ملک کی ترقی رک جاتی ہے حتیٰ کہ ریاست ناکام بھی ہوسکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کسی ملک کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار اس کے ’سیاسی اور اقتصادی اداروں‘ پر ہے جو وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس تصور کو پاکستان کے ناکام اداروں اور ملک پر بڑھتی اشرافیہ کی گرفت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ریاست کی ناکامی کو روکنے کے لیے ہمیں قومی سلامتی کے بارے میں اپنے تصور کو تبدیل کرنے اور دفاع کے اپنے روایتی انداز سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں معاشی، سماجی اور ماحولیاتی عوامل سمیت خطرات اور کمزوریوں کی ایک وسیع رینج کو دیکھنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ترجیحات کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں؟

پاکستان کو داخلی سلامتی کے سب سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، دو اسٹریٹجک اہمیت کے حامل صوبے شورش کی حالت میں ہیں جبکہ ان خطوں کے ایک بڑے حصے پر ریاست اپنی رٹ کھو رہی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ ریاست شورش کو بھڑکانے والے عوامل جیسے عدم اطمینان کی بنیادی وجہ کو حل کیے بغیر، فوجی کارروائیوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔

یکے بعد دیگرے اقتدار میں آنے والے فوجی اور سویلین رہنما شورش اور سماجی و معاشی پسماندگی کے درمیان تعلق کو دیکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ شورش زدہ علاقے نہ صرف صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ انہیں سیاسی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔ فوجی قوت کے بے دریغ استعمال نے آبادی میں مزید بیگانگی کا احساس پیدا کیا ہے۔

اس موضوع سے متعلق ہونے والی تحقیق پر کام کرنے والے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ سب سے زیادہ غیرمحفوظ اضلاع میں فاٹا کے دو سابقہ اضلاع اور خیبرپختونخوا کے کوہستان کے علاوہ بلوچستان کے 17 اضلاع شامل ہیں جن میں واشک، خضدار، کوہلو اور ژوب سب سے زیادہ غیرمحفوظ اضلاع ہیں۔ اس میں حیرت کی بات نہیں کہ وہ موجودہ شورش کے مراکز ہیں۔

علاقائی ناانصافی اس وقت واضح ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ 20 مضبوط اور سب سے کم خطرے والے اضلاع میں سے 13 پنجاب میں، 4 سندھ میں، 2 خیبرپختونخوا میں ہیں جبکہ بلوچستان میں کوئی بھی ایسا ضلع نہیں ہے۔ حقائق کا جائزہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم پر روشنی ڈالتا ہے کہ پنجاب جوکہ اقتدار کا گڑھ ہے بڑا حصہ لیتا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے نئے اضلاع کو بہت کم رقم ملتی ہے۔

رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں عدم مساوات اور محرومیوں کا اندازہ وہاں مواصلاتی اور نقل و حمل کی سہولیات کی کمی سے بھی ہوتا ہے۔ بیشتر اضلاع اچھی سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور ٹیلی فون کی سہولیات سے محروم ہیں۔ پنجاب میں صورت حال مختلف ہے جس کے شمالی اور وسطی علاقوں کو ان تمام سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا دونوں کو صحت کی بنیادی اور کمیونٹی سہولیات تک بہت کم رسائی حاصل ہے۔ پھر ہر صوبے کے مختلف اضلاع کے درمیان ترقی میں بھی بڑا فرق ہے۔ غریب ترین اضلاع میں لوگوں کو قریب ترین مرکزِ صحت تک پہنچنے کے لیے 30 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ انہیں علاقوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری بھی ہے اور بہت سے لوگ اپنے خاندانوں کی مدد کے لیے بغیر معاوضے کے کام کرتے ہیں۔ یہ ان کی کمزور طرزِ زندگی کا ایک اور اشارہ ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے غریب ترین علاقوں میں 65 فیصد سے زائد لوگ عارضی یا کمزور مکانات میں رہتے ہیں۔ تقریباً 50 فیصد کے پاس بیت الخلا نہیں ہیں جبکہ 40 فیصد کے پاس صاف پانی نہیں ہے۔ حالاتِ زندگی اس قدر خراب ہونے کے باعث، یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ صوبے میں بہت سے نوجوان آسانی سے عسکریت پسند گروپوں کی جانب راغب ہوجاتے ہیں۔

لوگوں کو بنیادی جمہوری اور انسانی حقوق سے مکمل انکار نے بھی ان اضلاع کی صورت حال کو مزید خراب کیا ہے جوکہ وضاحت کرتا ہے کہ دو دہائیوں سے جاری فوجی کارروائیاں کیوں عسکریت پسندی کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ حالات غیر ملکی قوتوں کے لیے مداخلت کو بھی آسان بناتے ہیں، خاص طور پر جب مقامی لوگ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جارہا ہے اور ان کا موجودہ نظام میں کوئی حصہ نہیں۔ حکومت زیادہ تر بیرونی دشمنوں کی بات کرتی ہے لیکن ان لوگوں کے دکھوں کی بات نہیں کرتی جنہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔

بدقسمتی سے ریاست نے کبھی بھی ملک میں انسانی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ترجیح نہیں دی جیسا کہ اس کی غیرمعمولی ایچ ڈی آئی درجہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے۔ ملک کی کل آمدنی (جی ڈی پی) کا ایک فیصد سے بھی کم تعلیم اور صحت پر خرچ کیا جاتا ہے جو شاید افغانستان کے علاوہ خطے کے تمام قریبی ممالک سے کم ہے۔

آبادی میں 2.5 فیصد سالانہ کی رفتار سے اضافے کے ساتھ، یہ 2040ء تک 32 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک ڈراؤنے خواب کی سی کیفیت ہے خاص طور پر سست اقتصادی ترقی اور صحت و تعلیم پر بہت کم خرچ ساتھ ایسا لگتا ہے جیسے ایک ٹائم بم ہے جو پھٹنے کا انتظار کر رہا ہے۔

ملکی سلامتی کے لیے اس سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ خاص طور پر جب لوگوں کی بڑی تعداد تیزی سے غربت کی لکیر سے نیچے جارہی ہو۔ لیکن لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اس بات کا کوئی احساس نہیں ہے کہ ملک کو اپنی ترجیحات کو دوبارہ ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔

اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، ہمیں اپنے قومی سلامتی کے نمونوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔ ایٹمی طاقت ہونا بھی ہمیں اس تباہی سے نہیں بچا سکتا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

four × 4 =