تحریر: احمد عباس
ایران نے اپنے دفاعی نظام میں غیر روایتی جنگی حکمت عملی کو بھی اہمیت دی ہے۔آج کی جنگ تیر و تلوار کی جنگ نہیں ہے ۔یہ جنگ ٹیکنالوجی کی جنت ہے۔میزائل ٹیکنالوجی دفاعی حکمت عملی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ دشمن کی فوجی طاقت کو کم کرنے اور خود کو محفوظ رکھنے میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ جدید بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی درستگی اور رینج نے دنیا بھر کے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ترغیب دی ہے۔ہر طرف میزائل ٹیکنالوجی کی ایک دوڑ لگ گئی ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ کا “ٹومی ہاک” کروز میزائل جو 1,500 کلومیٹر تک مار کرتا ہے، دنیا کے بہترین سٹرائیک سسٹمز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس کا استعمال کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری جواب دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی کا دفاع میں استعمال اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ حملوں سے بچنے کے لیے فعال طور پر جوابی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ جدید دفاعی میزائل سسٹمز جیسے کہ امریکہ کے “پٹریاٹ” میزائل سسٹم نے 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے ساتھ دشمن کے بیلسٹک میزائلوں کو ناکام بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، چین کے “ڈونگ فنگ” سیریز کے میزائلوں کی ترقی نے اس کے دفاعی نظام کو خطے میں ایک مضبوط طاقت بنا دیا ہے، جس کی رینج 4,000 کلومیٹر تک ہے۔ یہ میزائل سسٹمز ملکوں کو اپنے علاقے کی حدود میں اپنے دشمن کے حملوں کو روکنے اور عالمی سطح پر طاقت کا تاثر دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح، دفاعی میزائل ٹیکنالوجی نے عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے اور یہ کسی بھی ملک کے لیے اپنی سرحدوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلسل ترقی اور سرمایہ کاری کی وجہ سے یہ ملک مشرق وسطیٰ میں ایک اہم دفاعی طاقت بن چکا ہے۔ ایران نے اس شعبے میں پچھلے دو دہائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کے میزائل پروگرام کا آغاز 1980 کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے دوران ہوا تھا، جب ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ ایران نے تب سے مختلف قسم کی میزائل ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے، تاکہ وہ دشمنوں کے حملوں سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔
ایران کے میزائل پروگرام میں مختلف قسم کے میزائل شامل ہیں، جن میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔ ایران کا سب سے مشہور بیلسٹک میزائل “شہاب 3” ہے، جس کی رینج 1,300 کلومیٹر تک ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے “ساجد” اور “قدیر” جیسے کروز میزائل بھی تیار کیے ہیں، جو مختلف قسم کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کا یہ میزائل پروگرام اس کی دفاعی خود مختاری کو بہتر بنانے کے علاوہ، علاقے میں طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے۔ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے میزائل پروگرام کو مزید ترقی دیتے ہوئے ان کی رینج اور درستگی میں اضافہ کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے میزائل پروگرام کی ترقی کے دوران اس نے کئی جدید اور طاقتور میزائل سسٹمز تیار کیے ہیں۔ “شہاب 3” بیلسٹک میزائل کی رینج 1,300 کلومیٹر ہے اور یہ 1,000 کلوگرام تک کا وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے “غزنوی” اور “عاشق” جیسے میزائل بھی تیار کیے ہیں، جن کی رینج بالترتیب 700 کلومیٹر اور 500 کلومیٹر ہے۔ ان میزائلوں کی درستگی میں بہتری آنے کے بعد، ایران کا یہ میزائل سسٹم زیادہ مؤثر اور خطرناک بن چکا ہے۔ ایران نے میزائل کی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ان کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے تاکہ اسے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے میں مدد ملے۔
ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم ترقی “قدیر” کروز میزائل کی ہے، جس کی رینج 200 کلومیٹر تک ہے۔ اس میزائل کا مقصد دشمن کے ہائی پروفائل اہداف کو نشانہ بنانا ہے۔ ایران نے اس میزائل کو اتنی کامیابی سے تیار کیا ہے کہ اب وہ اس کا استعمال اپنے نیوی فورسز اور ایئر فورس کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران نے اپنی میزائل دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مزید جدید میزائل سسٹمز کی تیاری کا آغاز کیا ہے، جن میں “رمضان” اور “فاطر” جیسے سسٹمز شامل ہیں۔
ایران کے میزائل پروگرام کا مقصد نہ صرف دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی طاقت کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی ممکنہ بیرونی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے ایران کو اس بات کی طاقت دی ہے کہ وہ خطے میں خود کو مستحکم کرے۔ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی نے نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ اسے خطے میں ایک طاقتور دفاعی قوت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ یہ ترقی ایران کے لیے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں ۔ میزائل ٹیکنالوجی میں ہونے والی اس ترقی نے ایران کو اپنے دفاع کو مزید مضبوط کرنے کی طاقت دی ہے، جو کہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے دوران اسے اہم فائدہ فراہم کر سکتی ہے۔