تحریر: نسیم حیدر
ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاہم اس بار سوال یہ ہے کہ ایران کس پر انحصار کرے، صدر ٹرمپ پر کتنا اعتبار کرے اور ان مذاکرات میں تُرپ کا پتہ کیا ہوسکتا ہے؟
ایک غیر ملکی سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اسرائیل اور امریکی حملوں سے نقصانات اپنی جگہ، اس جنگ کے دوران تہران کچھ تلخ تجربات سے بھی یقینی طور پر گزرا ہے اور اسے اپنے تصوراتی اتحادیوں کے کردار کا از سر نوجائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا دعوی تھا کہ ایران پر حملے ایک حد سے آگے بڑھے تو روس اور چین ڈھال کے طور پر سامنے آئیں گے کیونکہ ایران میں مذہبی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کامیاب ہوئی اور امریکہ نواز حکومت بنی تو وہ ان دونوں ممالک سے دوری اختیار کرے گی۔
تجریہ کاروں کے اس مؤقف کو روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدودیف کے اس دعوے نے تقویت دی تھی کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد کئی ممالک ایران کو ایٹمی ہتھیار براہ راست دینے پر آمادہ ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ میدودیف نے وضاحت کر دی تھی کہ روس ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں۔
ماہرین کے نزدیک اسٹریٹیجک لحاظ سے دیکھا جائے تو روس ایک حد تک ہی ایران کی حمایت کرسکتا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ شام میں ایران نواز بشارالاسد کی حکومت کو بچانے کیلئے روس نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی توقعات وابستہ کرلی گئی تھیں۔
اقتصادی امور پر نظر رکھنے والوں کے نزدیک روس کیلئے ایران اس لحاظ سے قریبی ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف کھڑا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہوں اور تہران پر عائد پابندیاں اٹھالی جائیں تو ایران اس قدر تیل پیدا کرنے کے قابل ہوجائے گا کہ آئل مارکیٹ میں روس کا شئیر کم ہوجائے گا۔ اس طرح یوکرین جنگ جھیلنے والی روس کی معیشت کو زور دار جھٹکا لگے گا۔
جہاں تک چین کا تعلق ہے، وہ پہلے ہی کسی اور ملک کی جنگ میں شامل ہونے سے گریز اور خود کو اقتصادی طور پر مضبوط تر کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چین نے اس عرصے میں خود کو اس قدر مستحکم کر لیا ہے کہ ایک چینی سفارتکار کے مطابق ان کا ملک کسی بھی حریف کے خلاف اپنا بھرپور اور مؤثر دفاع کرنےکی پوزیشن اختیار کرچکا ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایران اپنے دفاع کیلئے روس اور چین پر انحصار نہ کرے تو دوسرا راستہ بڑی حد تک خودانحصاری ہی کا رہ جاتا ہے۔اس صورتحال میں دفاعی پہلوؤں کو محدود کرنے اور یورینئیم کی افزودگی مکمل ترک کرنے کی شقیں مذاکرات میں شامل ہوں تو یہ تصور محال نہیں کہ نیوکلیئر پروگرام پر ڈائیلاگ کس قدر چیلنجنگ ہوجائیں گے۔
ایک ایرانی سفارتکار کا کہنا ہےکہ ایسے کشیدہ ماحول میں سلطنت عمان کا کردار مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ یہ خطے کا وہ ملک ہے جو آرٹ آف ڈپلومیسی میں ماسٹر پیس کا درجہ رکھتا ہے۔امن کیلئے خاموش سفارتکاری اس ملک کی قیادت کے خون میں نسل بہ نسل چلی آرہی ہے۔
سن 2015 میں طے کی گئی ایران نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کرنے والے 3 یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کا عمل بحال ہو کیونکہ ڈائیلاگ وہ عمل ہے جو دوران جنگ بھی جاری رہتا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ عمانی ثالثوں کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات نتجیہ خیز ہونے کو تھے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ بھی شامل ہوا اور ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کر دی۔
ماہرین کے نزدیک اس جنگ سے تہران نے یہ سبق ضرور سیکھا ہوگا کہ اپنے میزائلوں کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جائے کیونکہ دشمن کے فضائی حملوں کے خلاف یہی اس کا مؤثر جوابی وار بنے تھے اور معاملہ 24جون کو جنگ بندی تک پہنچا تھا۔
ماہرین کے نزدیک عمان پر بطور ثالث یا سہولت کار یہ ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان فضا بہتر بنانے میں مزید فعال کردار ادا کرے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ سے مجروح اعتماد کسی حد تک بحال کیا جاسکے اور معطل مذاکرات کا سلسلہ بحال ہوسکے۔
ان ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ان ممالک پر زیادہ ٹیرف عائد کیا جانا جو کہ روس سے تیل خریدتے ہیں، اگر اسی مقصد کے تحت ہے کہ روس کی آمدنی کم کی جائے تو اس تناظر میں ایران سے کامیاب مذاکرات کی صورت میں اقتصادی پابندیاں اٹھانا بھی روس کے خلاف قدم ثابت ہوسکتا ہے اور شاید یہی امریکہ ایران مذاکرات میں تُرپ کا پتہ ثابت ہوسکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔