اگست 29, 2025

تحریر: رضی طاہر

اسرائیل کے معروف جریدے ٹائمز آف اسرائیل پر شائع ہونے والا وہ مضمون جو چند گھنٹوں کے اندر ہی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا، خطے میں جاری خفیہ جنگ اور پراکسی نیٹ ورکس کی گہرائیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ رپورٹ دراصل ایران کے اندر مجاہدین خلق نامی تنظیم کی سرگرمیوں، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی مدد اور مغربی طاقتوں کے تعاون کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ اسرائیلی میڈیا نے اسے حذف کر کے ایک طرح سے اپنی سرکاری پالیسی کو بچانے کی کوشش کی، مگر اس سے یہ حقیقت ایک بار پھر آشکار ہو گئی کہ ایران کے خلاف خفیہ جنگ صرف الزامات یا پروپیگنڈا نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت برسوں سے جاری ہے۔

ایران کے انقلاب اسلامی کے بعد مجاہدین خلق نے اپنی سیاسی ناکامی کو مسلح جدوجہد میں تبدیل کر دیا۔ اس گروہ نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو بھی نشانہ بنایا۔ 1981 کے بم دھماکوں میں اس وقت کے صدر محمد علی رجائی اور وزیر اعظم محمد جواد باہنر کی شہادت اسی گروہ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا نتیجہ تھی۔ ایران عراق جنگ کے دوران اس گروہ نے صدام حسین کی حکومت سے قریبی تعلقات قائم کیے اور ایرانی افواج و شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔ یہی پس منظر تھا جس کی بنیاد پر اسے امریکہ اور یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ تاہم 2012 میں امریکہ نے اسے اس فہرست سے نکال دیا اور اس کے فوراً بعد اس گروہ کو مغرب میں کھل کر سرگرمیوں کا موقع ملا، دفاتر کھولے گئے، فنڈنگ میں اضافہ ہوا اور اسے ایران کے خلاف ایک پراکسی کے طور پر مزید منظم کیا گیا۔

ٹائمز آف اسرائیل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، موساد نے مجاہدین خلق کے اراکین کو ایران کے اندر تخریبی کارروائیوں، جاسوسی، اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مالی امداد، ہتھیاروں کی تربیت اور خفیہ سہولتیں فراہم کیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ یہ گروہ ایران کے ایٹمی سائنسدانوں اور ماہرین کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا اور یہ معلومات بیرونی دشمنوں تک پہنچاتا، جس کی بنیاد پر ایران کے متعدد ممتاز سائنسدان ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ ان واقعات میں نہ صرف ایران کی سائنسی ترقی کو نقصان پہنچا بلکہ قومی سلامتی کے ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اسی لیے ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا آ رہا ہے کہ بیرونی طاقتیں اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں۔

اس رپورٹ کے چند گھنٹوں میں حذف کیے جانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل اس انکشاف کو عوامی سطح پر برقرار رکھنے سے گریزاں ہے۔ اس کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل اس وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی، لبنان اور شام میں مزاحمتی تحریکوں کا اثر، اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید۔ مجاہدین خلق کی حیثیت خود بھی ایران میں متنازع ہے، کیونکہ عوام کی اکثریت انہیں غدار سمجھتی ہے جو ملکی مفادات کے بجائے غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کام کرتے ہیں۔ صدام حسین سے تعاون اور حالیہ دہائیوں میں ایرانی سائنسدانوں کے قتل میں ملوث ہونے کے باعث یہ گروہ داخلی حمایت سے محروم ہو چکا ہے اور اپنی بقا کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کر رہا ہے۔

یہ معاملہ ایران کی داخلی سلامتی پالیسی کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ایران طویل عرصے سے ان خفیہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے اور متعدد بار ان کے اراکین کو گرفتار یا بے نقاب بھی کیا ہے، مگر مغربی پشت پناہی اور مالی امداد کی بدولت یہ گروہ مختلف صورتوں میں فعال رہتا ہے۔ امریکی اور یورپی پالیسیوں میں اس گروہ کی قبولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مغرب اسے ایران پر دباؤ ڈالنے کے ایک اوزار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ 2012 میں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنا محض ایک علامتی قدم نہیں تھا بلکہ ایران کے خلاف خفیہ اور سفارتی محاذ کو مزید تقویت دینے کی کوشش تھی۔

علاقائی سطح پر اس انکشاف کے کئی مضمرات ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ ایران اپنی دفاعی اور انٹیلی جنس حکمت عملی کو مزید سخت کرے گا۔ وہ اس بات پر مزید توجہ دے گا کہ کس طرح بیرونی ایجنسیوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کو روکا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ معاملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ایران ممکنہ طور پر بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرے گا اور اسے اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی ایک مثال کے طور پر پیش کرے گا۔

امریکہ اور یورپی یونین کے لیے بھی یہ صورتحال پیچیدہ ہے۔ اگرچہ انہوں نے اس گروہ کو ایک وقت دہشت گرد قرار دیا تھا، لیکن بعد میں اسے سہولت فراہم کرنے کی پالیسی اپنائی، جس سے ان کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔ ایسے انکشافات دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ان کے کردار پر تنقید کو جنم دیتے ہیں، خصوصاً ان خطوں میں جہاں مغربی مداخلت پہلے ہی متنازع سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیل کے لیے یہ مسئلہ سفارتی اور میڈیا کے دونوں محاذوں پر حساس ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کا ہٹایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیلی ریاست اور اس کے حامی ایسے مواد کے منظر عام پر آنے سے خائف ہیں جو ان کی خفیہ سرگرمیوں کو بے نقاب کرے۔ تاہم موجودہ دور میں معلومات کو مکمل طور پر چھپانا مشکل ہے، اور اس رپورٹ کے حذف ہونے کے باوجود اس کے اہم نکات عالمی میڈیا اور تجزیاتی حلقوں تک پہنچ چکے ہیں۔

یہ واقعہ اس وسیع تر حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کی جنگ صرف روایتی فوجی محاذوں پر نہیں لڑی جا رہی بلکہ خفیہ نیٹ ورکس، پراکسی گروہوں، سائبر آپریشنز اور میڈیا مینیپولیشن کے ذریعے بھی جاری ہے۔ مجاہدین خلق جیسے گروہ ان خفیہ منصوبوں کا ایک آلہ ہیں جو علاقائی امن و استحکام کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایران کی جانب سے ان کے خلاف سخت اقدامات اور عالمی سطح پر ان کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کی کوششیں خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک سبق ہیں کہ داخلی سلامتی پر بیرونی پراکسیز کے اثرات کس طرح ریاستی خودمختاری کو کمزور کر سکتے ہیں۔

یہ انکشاف اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ایران کے خلاف دشمنی ایک ہمہ جہت حکمت عملی کے تحت چلائی جا رہی ہے جس میں خفیہ ایجنسیوں، مالی معاونت، عسکری تربیت اور میڈیا پروپیگنڈا سب شامل ہیں۔ مجاہدین خلق کی تاریخ اور حالیہ سرگرمیاں اس حکمت عملی کا واضح ثبوت ہیں۔ اگرچہ انہیں مغرب میں سیاسی پناہ اور سہولت حاصل ہے، مگر ان کی جڑیں بیرونی ایجنڈے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایران کے عوام میں ان کے لیے کوئی حقیقی حمایت موجود نہیں۔

اس پس منظر میں، ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کا منظر عام پر آنا اور پھر حذف ہونا اس خفیہ جنگ کا محض ایک پہلو ہے۔ یہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ بیرونی قوتیں کس طرح اندرونی کمزوریوں کو پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے استعمال کرتی ہیں۔ ایران کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے اپنے مؤقف کو مضبوط کرے، جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ انکشاف ان کی پالیسیوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

five + 1 =