سیاسیات- پشاور کے علاقے پشتخرہ میں 8 سالہ بچے سےمبینہ زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے ایف آئی آر کے مطابق امام مسجد نے بچے کو تہہ خانے میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
مقامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے پشتخرہ پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پشتخرہ کے رہائشی وقار نبی نے رپورٹ درج کرتے وقت پولیس کو بتایا کہ وہ گھر پر موجود تھے کہ اس دوران ان کا 8 سالہ بیٹا طفیل محمد گھر آیا اور انہیں بتایا کہ تاج آباد میں واقع مسجد بلال کے پیش امام ابراہیم شاہ نماز عصر کے بعد ان کو مسجد کے تہہ خانے میں لے گیا اور وہاں ان سے بدفعلی کی۔
وقار نبی نے بتایا کہ طفیل محمد دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ مسجد جاتے تھے جبکہ اہل خانہ کے مطابق مسجد کے پیش امام نے پہلے بھی دو مرتبہ طفل محمد کیساتھ جنسی زیادتی کی ہے تاہم تیسری مرتبہ نازیبا حرکت کرنے پر بچے نے سارا مہاجرا اپنے والدین کو بتا دیا ہے۔
پولیس کے مطابق بچے کی والد کی رپورٹ پر فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے پیش امام ابراہیم شاہ کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف درج ہونے والی مقدمہ میں وضع فطری، مسجد کی بے حرمتی جیسے دفعات شامل ہیں۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر والدین نے بچے کا علاج کیا ہے تاہم متعلقہ لیبارٹری سے بچے کا ٹیسٹ کرایا جا رہا ہے جس کے بعد مزید انکشافات کی توقع کی جارہی ہے۔