سیاسیات- پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے افغان پناہ گزینوں کے رضاکارانہ انخلا کی مہلت پیر 31 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ تاہم عیدالفطر کی چھٹیوں کی وجہ سے افغان شہریوں کی گرفتاری اور ملک بدری 10 اپریل تک مؤخر کر دی گئی۔
پاکستان رواں سال ملک سے 30 لاکھ افغانوں کو نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ ان غیر ملکیوں کے خلاف اکتوبر 2023 میں شروع کیے گئے ملک گیر آپریشن کا تازہ ترین مرحلہ ہے جو پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔
ان میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔ اس مہم پر انسانی حقوق کی تنظیموں، کابل میں طالبان حکومت اور اقوام متحدہ نے شدید تنقید کی گئی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو ملنے والی سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا کہ گرفتاریوں اور ملک بدری کا آغاز یکم اپریل سے ہونا ہے لیکن عیدالفطر کی چھٹیوں کی وجہ سے یہ کارروائی 10 اپریل تک مؤخر کر دی گئی۔
پناہ گزینوں کے لیے عالمی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 18 ماہ میں تقریباً آٹھ لاکھ 45 ہزار افغان پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں 30 لاکھ افغان موجود ہیں۔ ان میں سے 13 لاکھ 44 ہزار 584 افراد کے پاس ’رجسٹریشن کا ثبوت‘ کارڈز ہیں جب کہ آٹھ لاکھ سات ہزار 402 کے پاس افغان سٹیزن کارڈز ہیں۔
باقی 10 لاکھ افغان ایسے ہیں جو کسی بھی قسم کی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں موجود ہیں اور ان کا قیام مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایک بار ملک بدر کیے جانے کے بعد یہ افغان دوبارہ واپس نہ آئیں۔
پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد 31 مارچ تک دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی شہر چھوڑ کر رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس چلے جائیں، بصورت دیگر انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔
رجسٹریشن کا ثبوت رکھنے والے افغان شہری 30 جون تک پاکستان میں قیام کر سکتے ہیں، جب کہ تیسرے ملک میں دوبارہ آبادکاری کے منتظر افغانوں کو بھی 31 مارچ تک اسلام آباد اور راولپنڈی چھوڑنا ہو گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغان شہریوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے غیر ملکی سفارتی مشنز کے ساتھ مل کر کام کریں گے، اور اگر یہ کوشش ناکام ہوئیں تو ان افغانوں کو بھی پاکستان سے ملک بدر کر دیا جائے گا۔