سیاسیات- ذرائع کے مطابق سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد افغان عبوری حکومت کی جانب سے بے عملی کے بعد ٹی ٹی پی کو اپنا اثرو رسوخ اور کاروائیاں بڑھانے کا موقع ملا۔
گزشتہ روز سینٹ میں وزارت داخلہ نے تحریری جواب میں بتایا کہ امن مذاکرات کے دوران ٹی ٹی پی نے خود کو دوبارہ منظم کیا، ضم اضلاع میں ٹی ٹی پی کی آمد کے بعد وہاں خودکش حملہ آوروں کی بھرتی اور تربیت تشویشناک ہے۔ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں سرحد پر باڑ کو سبوتاژ کر رہی ہیں، داعش بھی پاکستان میں پنجے گاڑ رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق 2022 کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پی ٹی اے کی جانب سے انتہا پسندانہ، فرقہ وارانہ، ریاست مخالف اور دہشتگرد مواد کو بلاک کرنے 16 ہزار 522 شکایات ارسال کی گئیں۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان کے اکاونٹ کو بلاک کرنے 2021 میں 55 ہزار 200، سال 2022 میں 16 ہزار 522 اور جون 2023 تک 3456 درخواست کیں۔
وزارت داخلہ نے بتایا کہ دہشتگردانہ مواد والی سال 2021 میں 19 ہزار 80، 2022 میں 4323 اور جون 2023 میں 2138 سوشل میڈیا لنکس کو بلاک کیا گیا، سال 2022 میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کیخلاف 4892 انٹیلی جنس بیس آپریشنز کئے جن میں 209 دہشت گرد ہلاک اور 1781 گرفتار ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ان انٹیلی جنس بیس آپریشنز میں 169 قانون نافذ کرنیوالے اہلکار شہید اور 284 زخمی ہوئے۔ جنوری جون 2023 میں 3364 اپریشنز میں 172 دہشت گرد مارے گئے اور 171 گرفتار ہوئے۔ مزید بتایا گیا کہ سال 2020 میں 1079 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 189 کو سزا ہوئی اور 172 بری ہوئے۔ بتایا گیا کہ سال 2021 میں 1528 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 150 کو سزا ہوئی، 165 بری ہوئے۔ سال 2022 میں 2006 دہشتگردوں کا چالان ہوا، 218 کو سزا ہوئی، 306 بری ہوئے، جون 2023 تک 1083 دہشتگردوں کا چالان ہوا، 114 کو سزا ہوئی اور 133 بری ہوئے۔
سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ گزشتہ روز جو نگران وزیراعظم نے کہا کہ جو احتجاج کر رہے ہیں وہ ملک دشمن لوگ ہیں اور کہا جو ہمدردی کر رہے ہیں وہ جائیں اور ان کالعدم تنظیموں کو جوائن کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات ہے کہ محدود مینڈیٹ ہے اور اس طرح کی باتیں۔ مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر نے کہا کہ اگر وہ ملک دشمن ہیں تو ان پر کیس کیوں نہیں بنا، ان کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان کی توہین ہے کہ گزشتہ روز ایوان میں بات ہوئی اور ان کے بارے میں یہ کہنا کہ بینڈ آرگنائزیشن جوائن کرلیں، نگران وزیراعظم نے جو کہا وہ لوگوں کے حقوق کی توہین ہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ اس طرح کی باتیں کرکے، نفرت کو بڑھا کر ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نگران وزیراعظم کی ان لفاظ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہوں، باقی اراکین کو بھی مذمت کرنی چاہیے۔