سیاسیات-وزیراعظم شہبازشریف اور اسلام تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحٰہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
وزیراعظم اور سیکرٹری جنرل او آئی سی نے بڑھتے اسلاموفوبیا کے مسئلے پر بات چیت کی اور قرآن کریم کی بے حرمتی اور ایسے واقعات کے تدارک سے متعلق بات کی۔
اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھاکہ پاکستان اسلامی دنیا کے دِل دکھانے والے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے، تمام مذاہب، مقدس ہستیوں، مقدس کتابوں کی توہین کا کوئی جواز قبول نہیں کیاجاسکتا، ایسے قبیح واقعات کو آزادی اظہار رائے یا احتجاج کا نام دینا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے واقعے پر اوآئی سی کے اجلاس اور کردار کو سراہا اور کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مسئلے پر قائدانہ کردار ادا کیا، ان کی او آئی سی اجلاس بلانے میں کردار کو سراہتے ہیں، ایسے واقعات روکنے کیلئے متفقہ آواز کے طورپر اوآئی سی جامع حکمت عملی بنائے۔
ان کا کہنا تھاکہ عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے اور مؤثرقانون سازی کیلئے اوآئی سی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے، اسلام اور مسلمانوں سے نفرت، اشتعال انگیزی، اسلاموفوبیا کےخلاف مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل میں فوری بحث کرانے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اوآئی سی کو یہ معاملہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سطح پر بھی اٹھانا چاہیے اور دیگریو این اداروں میں بھی امت مسلمہ کےجذبات مجروح کرنےکا معاملہ اٹھایاجائے۔
اس موقع پر سیکرٹری جنرل او آئی سی نے کہا کہ قرآن کریم کی بےحرمتی کےواقعےسے پوری امت کوٹھیس پہنچی، اسلاموفوبیا سے نمٹنا اوراس رجحان کو روکنا اولین ترجیح ہے۔
انہوں نےاو آئی سی میں پاکستان کے فعال کردار کو سراہا۔