سیاسیات-سابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی ذمہ داری امریکہ پرعائد کی اس موقع پر پاکستان کے خلاف زہرافشانی بھی کی۔
امریکی اخبار کو انٹرویو میں حامد کرزئی نے کہا ہے کہ طالبان اور ملک کیلئے یہی بہتر ہے کہ وسیع تر ڈائیلاگ کے ذریعے تمام طبقات پرمشتمل حکومت قائم کی جائے اور آئین بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے سینیئر لیڈرز سے بات ہوتی رہتی ہے، اصولی طورپر طالبان بھی وسیع تر ڈائیلاگ پر متفق ہیں اس لیے وہ پر امید ہیں کہ ایسا ہوگا۔
حامد کرزئی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ افغانستان میں حکومت ٹوٹ جائے تاہم نمائندہ حکومت قائم ہونی چاہیے۔
سابق صدرنے کہا کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ داری امریکہ اور افغانستان دونوں ہی پرعائد ہوتی ہے۔
کرزئی نے زور دیا کہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان کے منجمد فنڈز بحال کرے، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دہشتگردی سے بدترین متاثرغریب ترین افراد کی رقم امریکہ میں نائن الیون کے متاثرین کو دے دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں استحکام لائے، دہشتگردی کا خاتمہ کرنے کے نام پر لڑی گئی جنگ حقیقت میں افغان عوام کے خلاف تھی اوراسی لیے انہوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام ملکی صورتحال اور سمت پرتشویش کاشکار ہیں، مگر جلد صورتحال بہتر ہوجائے گی۔