سیاسیات- فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر فلسطینی قیدیوں کی ساتویں کھیپ کو رہا کرنے میں قابض اسرائیل کی ناکامی معاہدے اور اسرائیلی قیدیوں کی قسمت سے کھلواڑ ہے۔ مزاحمتی میڈیا ذرائع کے مطابق ابو زہری نے کہا کہ ہم کمزور یا شکست خوردہ فریق نہیں ہیں کہ قابض ہم پر اپنی شرائط کا حکم دے، نیتن یاہو نہ صرف معاہدے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے بلکہ اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کے ساتھ بھی کھیل رہا ہے۔
انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے التوا کو ’’احمقانہ اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو اس کی سنگینی کا ادراک کرنا چاہیے اور ہم ثالثوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم صیہونی قیدیوں کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں اور قیدیوں کا مزاحمت کار کے سر کو چومنا قابض دشمن کے جھوٹ کا عملی جواب ہے، قیدیوں کے حوالے کرنے میں کوئی جرم یا توہین شامل نہیں ہے، یہ معاہدہ کسی فاتح اور شکست خوردہ فریق کے درمیان نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ نیتن یاہو بچنا چاہتا چاہے اور چال چلنا چاہتا ہے، ہمارے پاس ایسے کارڈز ہیں جنہیں ہم وقت پر استعمال کریں گے۔ حماس کے رہنما نے خبردار کیا کہ قابض دشمن مغربی کنارے کو ضم کرنا چاہتا ہے، ہمیں اس منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطینیوں کے طور پر متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس فلسطینی عوام کا حصہ ہے اور جو بھی اسے غزہ سے نکالنے اور مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا خواب دیکھتا ہے وہ دھوکے میں ہے۔