سیاسیات-بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی ان پہلے عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
مقبوضہ کشمیر میں انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی جارحیت کے دوران فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی پر قدغن کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق کشمیر کے مکینوں اور مذہبی علما کا کہنا ہے کہ حکام نے بھارت کے اس مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے احتجاج پر پابندی عائد کر دی ہے اور مبلغین کو خطبات میں اسرائیلی مظالم کا ذکر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں بھارت کی ان کوششوں کا حصہ ہے کہ ایسے کسی بھی قسم کے احتجاج کی حوصلہ شکنی کی جائے جو اس متنازع خطے میں نئی دہلی کی حکمرانی ختم کرنے کے مطالبے میں بدل جائے۔
مبصرین کے مطابق یہ بھارت کی ایک طویل عرصے سے فلسطینیوں کی حمایت کی پالیسی سے ہٹنے کی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تحت ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی بھی عکاس ہیں۔
بھارت کے تاریخی طور پر اسرائیل سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ نئی دہلی نے سات اکتوبر کے حماس کے اسرائیل پر حملے کی مذمت کی تھی اور اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
کشمیر میں حالیہ اقدامات پر میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ فلسطین ہمیں بہت عزیز ہے۔ ہمیں وہاں جبر کے خلاف لازمی طور پر آواز اٹھانی چاہیے۔ لیکن ہمیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
مودی ان پہلے عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت نے اس قرارداد پر ووٹنگ میں بھی حصہ نہیں لیا تھا جس میں انسانی بنیادوں پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے کہا گیا تھا۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں قائم ولسن سینٹر کے جنوبی ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ یہ غیرمعمولی بات ہے۔
کوگل مین نے کہا کہ بھارت بھی اسرائیل کی طرح غزہ پر اسرائیلی حملے کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر دیکھتا ہے جس کا مقصد حماس کو ختم کرنا ہے نہ کہ شہریوں کو براہِ راست نشانہ بنانا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی دہلی کے نقطۂ نظر سے ایسی کارروائیوں میں انسانی بنیادوں پر وقفہ نہیں دیا جاتا۔