سیاسیات- یمن کی مقاومتی تحریک انصار الله کے پولیٹیکل ایڈوائزر علی القحوم نے ریاض کے ساتھ صنعاء کے مذاکرات کے جاری رہنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں عمان، ثالث کے طور پر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار المیادین نیوز نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علی القحوم نے کہا کہ مذاکراتی عمل میں سعودی فریق کے ساتھ ائیرپورٹس اور بندرگاہوں کی از سر نو بحالی سمیت یمنی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے مسئلے پر ڈیڈ لاک ہے۔ انہوں نے اس امر کی وضاحت کی کہ سعودی عرب، یمن پر حملہ آور جارح اتحاد کی سربراہی کر رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاض ایک امن پسند ملک کے طور پر اپنے راستے کا انتخاب کرے۔
واضح رہے کہ رواں برس اپریل کے آغاز میں سعودی وزارت خارجہ نے اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ریاض کی مذاکراتی ٹیم نے صنعاء کے دورے کے دوران اعلی حکام سے ملاقات کی، اس موقع پر انسانی صورتحال، تمام جنگی قیدیوں کی رہائی اور یمن کے سیاسی حل کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو انجام پائی۔ یاد رہے کہ 2015ء میں سعودی عرب نے اپنی کٹھ پتلی صدر “عبدربه منصور هادی” کو واپس لانے کے بہانے یمن پر چڑھائی کر دی تھی۔ جس کے نتیجے میں یمنی عوام کو شدید مالی و جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں لاکھوں یمنی شہری مارے گئے اور اس ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔