اپریل 5, 2025

زائرین کے مسائل حل کرنے پر قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور حکومت پاکستان و عراق کے شکرگزار ہیں۔ آیت اللہ مقدسی

سیاسیات-حضرت آیت اللہ شیخ محمد باقر مقدسی نے اربعین حسینی کے موقع پر کہا ہمیں جتنا ممکن ہوسکے اس الہی عظیم معنوی اجتماع میں شرکت کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اس لیے کہ روایات اربعین سید الشہداء (ع) کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ مستدرک الوسائل میں امام صادق (ع) سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے: آسمان نے حسین (ع) کے لیے چالیس دن تک خون رویا، اور زمین نے چالیس دن تک تاریکی اور اندھیرے سے رویا اور سورج نے چاند گرہن اور سرخی کے ساتھ چالیس دن تک روتا رہا اور آسمان کے فرشتے چالیس دن تک روتے رہے اور…

یہ احادیث حسین (ع) کے قیام کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں اور اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں کہ سید شہداء کی شہادت سے نہ صرف انسان بلکہ دنیا کی تمام مخلوقات متاثر اور غمزدہ تھیں اور یہ کوئی بعید از قیاس اور ناقابل یقین مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں۔«یسبح لله ما فی السموات و ما فی الارض…» (جمعه، 1)

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے خدا کی تسبیح کرتا ہے۔

اور جو خدا کی تسبیح کہہ سکتا ہے، وہ یقیناً غمگین اور متاثر بھی ہوسکتا ہے اور خدا کے بہترین اولیاء اور اس کے ساتھیوں کی شہادت پر رو بھی سکتا ہے۔ لیکن دنیا کی مخلوقات میں اس اثر و تاثیر کی حقیقت کیا ہے، یہ عام آدمی کے علم کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔اربعین کا مسئلہ سید الشہداء اور ان کے وفادار ساتھیوں کی مصیبت کی یاد میں ماتم اور مجالس کے سوا کچھ نہیں ہے چنانچہ امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقول ہے کہ مومن کی نشانیاں پانچ چیزیں ہیں، ان میں سے ایک۔ اربعین کی زیارت ہے۔یہ روایت شیعہ مکتب میں اربعین کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے اربعین لوگوں بیدار کرنے اور ان کو خدا کے ساتھ وصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اس لیے کہ حسین بن علی (ع) نے وقت کے خواب غفلت میں پڑی ہوئی قوم کو نصیحتیں کیں، تقریریں کیں، تبلیغ کی، خطوط لکھے، حکم دیا لیکن مسلماوں پر کوئی اثر نہ ہوا، اور اپ نے یہ محسوس کیا کہ اس سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے لیے خدا کی راہ میں اپنے مقدس لہو بہائے بغیر ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ ہم زیارت اربعین میں پڑھتے ہیں “وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیکَ لِیَسْتَنْقِذَ عِبَادَکَ اورو “استنقاذ” کا استعمال اکثر کسی ایسے شخص کے لیے کیا جاتا ہے جو ڈوبنے والے کو بچانے والا ہو، وہ پانی میں ڈوبنے والے کو بچاتا ہے۔ زیارت کے اس جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ امام حسین علیہ السلام نے لوگوں کو بچانے اور ان کو نجات دینے کے لیے خدا کی راہ میں اپنی جان کو قربان کر دیا۔

جتنی ہمارے پاس امام حسین علیہ السلام کی اہمیت ہے اتنے ہی اپ کی زیارت کی اہمیت ہے جتنی زیارت کی اہمیت ہے اتنے ہی زائرین کو فضیلت اور احترام ہے لہذا ہم سب پر ضروری ہے زائرین اربعین کے جتنے تکریم اور احترام ممکن ہوسکے انجام دیں اور میں اس موقع پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت پاکستان نے زائرین کے مسائل کے حل کے لیے وزیر داخلہ کی قیادت میں ایک وفد عراق بیجھا اس وفد میں قائد محترم علامہ سید ساجد علی نقوی دام عزہ کی جانب سے ایک علماء وفد شامل تھا اور ان تمام کی کاوشوں سے زائرین کے لئے مسرت بخش خبر ائی ہے امید ہے اس پر جلدی جامہ عمل پہنایا جائے تاکہ زائرین کسی بھی مشکلات کے بغیر عراق کا سفر کریں میں حکومت پاکستان اور حکومت عراق اس فیصلے کو خیر مقدم کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی دام عزہ کے شکر گزار ہوں کہ اپ نے بر وقت اقدام کرتے ہوئے علماء کا ایک وفد بیھجا اس وفد میں شامل علماء کرام کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں اسی طرح جناب وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور عراق میں پاکستان کے سفیر کے بھی شکر گزار ہوں۔ خدا سب کی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

12 − one =