سیاسیات- فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے رہنما اسماعیل رضوان نے شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کے تشیع جنازے کے موقع پر اپنے پیغام میں اسلامی مزاحمتی بلاک، حزب اللہ لبنان اور امت مسلمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ اسلامی مزاحمت کی علامت اور عرب دنیا اور جہاد کے میدان میں عالم اسلام کے لیے اعلی رول ماڈل تھے جنہوں نے طویل عرصے تک اپنے دل میں فلسطین کاز کو پروان چڑھایا اور عشق سے قدس شریف اور فلسطین کے راستے میں جہاد کیا۔ اسماعیل رضوان نے کہا کہ غزہ جنگ کے دوران لبنان نے اصلی ترین پشت پناہی والے محاذ کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سید حسن نصراللہ نے گذشتہ طویل عرصے سے شجاعانہ موقف اختیار کر کے ملت فلسطین کی حمایت جاری رکھی اور غاصب صیہونیوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے اور صیہونی رژیم کے لیے بڑے خطرے میں تبدیل ہو گئے۔ حماس کے رہنما اسماعیل رضوان نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حزب اللہ لبنان کے مرکزی رہنماوں اور کمانڈرز کی شہادت ان کے جذبہ جہاد اور فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں کم ترین خلل ایجاد نہیں کرے گی کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ مزاحمت کی فرنٹ لائن پر ہونے کے ساتھ ساتھ شہادت کی پہلی صف میں بھی موجود تھے۔
اسماعیل رضوان نے شہید سید حسن نصراللہ کے تشیع جنازے میں عظیم تعداد میں عوام کی شرکت کو اسلامی مزاحمت اور عوام میں اتحاد کا مظہر قرار دیا اور کہا: “ہم حزب اللہ لبنان سے اپنے اسٹریٹجک تعلقات پر زور دیتے ہیں اور غاصب صیہونی رژیم کے خلاف جدوجہد میں ان کی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شہید سید حسن نصراللہ کی آرزو شہادت تھی اور انہیں قدس شریف کی راہ میں یہ آرزو مل گئی ہے۔” حماس کے رہنما نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فلسطین اور مقدس مقامات کی آزادی کا واحد راستہ مزاحمت ہے، کہا: “شہداء کا خون قدس شریف اور فلسطین کی آزادی کی راہ میں ایک نور ہے اور اس سے ہمارے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔ غاصب صیہونی کابینہ کی بنیاد بے گناہوں کے خون اور نسل کشی اور قومی صفایا پر رکھی گئی ہے۔” انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی مزاحمت کی جڑیں فلسطین، لبنان، یمن، عراق اور تمام عرب اور اسلامی ممالک میں مضبوط باقی رہیں گی واضح کیا کہ اب صیہونی حکمرانوں کے خلاف ان کے جرائم کی وجہ سے عدالتی کاروائی انجام دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج عرب دنیا اور امت مسلمہ کو فلسطین کی آزادی کے لیے آپس میں تعاون کرنا چاہیے۔ اسلامی مزاحمت نے قوموں کو متحد کر دیا ہے اور مقبوضہ سرزمین اور یہ اتحاد اسلامی مقدسات کی آزادی کا باعث بنے گا۔
ڈیموکریٹک محاذ سے تعلق رکھنے والے فلسطین کے ایک اور رہنما محمود خلف نے بھی سید حسن نصراللہ کو امت مسلمہ، لبنانی قوم، فلسطین اور اسلامی مزاحمتی بلاک کا شہید قرار دیا اور کہا کہ اگرچہ سید حسن نصراللہ کی شہادت سے خطے اور لبنان اور فلسطین میں اسلامی مزاحمت متاثر ہوئی ہے لیکن اس عظیم شخص کا خون اسلامی مزاحمت اور غاصب قوتوں کے خلاف قیام کی راہ میں روشن چراغ ثابت ہو گا۔ پیپلز محاذ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی رہنما ماہر مظہر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ سید حسن نصراللہ کی شہادت نہ صرف فلسطین اور اسلامی مزاحمتی بلاک بلکہ ہمارے تمام بھائیوں اور پوری دنیا کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم شہید نے اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل فلسطین اور فلسطینی قوم کی مدد اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف کر دیے تاکہ غزہ تنہا نہ رہے اور اس راستے میں شہید ہو گئے۔ فلسطین مزاحمتی کمیٹیز کے ترجمان ابو مجاہد نے بھی سید حسن نصراللہ کی شہادت پر پوری اسلامی دنیا اور عرب دنیا کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سید حسن نصراللہ نے طوفان الاقصی آپریشن کے پہلے دن سے غزہ کا ساتھ دیا اور اپنی پاکیزہ جان اس راستے میں قربان کر دی۔